پاکستانی معیشت پر کورونا کے اثرات

0
1117

کورونا وائرس کے بحران کے دوران دنیا بھر کی طرح پاکستان کی معیشت بھی شدید دباؤ کا شکار ہے کہ کورونا وائرس کے باعث پیدا شدہ صورتِ حال کے سبب پاکستان کی مالی حیثیت پربھی یہ دبائو بڑھا ہے کیونکہ ٹیکس وصولی کم ہورہی ہے اور اخراجات میں اضافہ ہورہا ہے۔ معاشی و اقتصادی ماہرین تسلیم کرتے ہیں کہ کورونا کی وباء ختم ہونے کے بعد پاکستان کو اپنی معیشت درست کرنے کے لیے دوبارہ جدوجہد کرنا ہوگی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشی میدان کی اس اگلی جنگ کے لیے پاکستان کی حکومت اور شعبہ ہائے زندگی کو ابھی سے تیاری کرنا ہوگی۔لاک ڈاؤن کے باعث ایک اندازے کے مطابق ابھی تک ایک کروڑ پندرہ لاکھ افراد بے روزگار ہوچکے ہیں۔ عالمی اداروں کا یہ کہنا کہ وبا کا اگلا مرکز جنوبی ایشیا ہو سکتا ہے۔ جس سے صورتِ حال مزید تشویش ناک ہو سکتی ہے۔ کرونا وائرس کے معشیت پر اندازے سے زیادہ اثرات پڑیجس سے شرح نمو گراوٹ کا شکارہوگئی ۔ اگر شرح نمو مسلسل گرنا شروع ہوجائے تو لوگ لمبے عرصے تک بے روزگار رہتے ہیں۔صرف مارچ میں پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ 25 فی صد تک گری ہے اور روپے کی قدر میں چھ فی صد کمی واقع ہوئی ۔ ملک کی معیشت پر دو طرح سے دباؤ پڑا۔

ایک جانب وبا پر قابو پانے کے لیے اضافی مالی وسائل درکار ہیں تو دوسری جانب لاک ڈاؤن اور کرونا وائرس کے عالمی اثرات کے باعث محصولات میں خاصی کمی واقع ہوئی اس وبا سے پاکستان میں صنعت اور خدمات کے شعبے کے علاوہ سب سے زیادہ روزانہ کی بنیاد پر کام کرنے والے لوگ متاثر ہوئے۔ پاکستان کی 64 فی صد آبادی دیہات میں رہتی ہے جو گندم اور چاول سے لے کر پھل سبزیاں اور دودھ و گوشت کی طلب کو پورا کرلے تو ملک میں بحرانی صورتِ حال پیدا نہیں ہو گی۔

دنیا کے دیگر سربراہان مملکت کی طرح پاکستان کے وزیراعظم نے بھی اقوام متحدہ اور عالمی مالیاتی اداروں سے اپیل کی ہے کہ کورونا وائرس کے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے ترقی پذیر ممالک کو قرضوں میں چھوٹ دی جائے۔عالمی اداروں کے مطابق اگرچہ کرونا وائرس کی یہ وباء دنیا کے تقریباً ہر ملک کو متاثر کر رہی ہے لیکن غریب ممالک کے لیے مسائل زیادہ سنگین ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY