امریکی محکمہ دفاع نے کہا ہے کہ وہ امریکا کی فضا میں پرواز کرنے والے مشتبہ چینی جاسوس غبارے کو ٹریک کررہا ہے مگر حفاظتی وجوہات کے باعث اسے نہ گرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پینٹاگون کے حکام نے بتایا کہ چند دن قبل امریکی فضائی حدود میں داخل ہونے کے بعد سے اس غبارے پر نظر رکھی جارہی ہے۔
حکام کے مطابق اس غبارے پر طیاروں سمیت مختلف طریقوں سے نظر رکھی جارہی ہے۔
حال ہی میں یہ غبارہ ریاست مونٹانا سے گزرا تو یکم فروری کو Billings Logan ائیرپورٹ سے پروازوں کو احتیاطاً معطل کردیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ غبارہ اس وقت اتنی بلندی پر سفر کررہا ہے جو فضائی ٹریفک کی گزرگاہ سے بہت اوپر ہے جبکہ اس سے زمین پر موجود افراد کے لیے کوئی خطرہ لاحق نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی برسوں سے غباروں کی اس طرح کی سرگرمیوں کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔
پینٹاگون کے بیان کے بعد کینیڈا کے قومی دفاعی ادارے نے بھی اس غبارے کے بارے میں بیان جاری کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس پر نظر رکھی جارہی ہے۔
دوسری جانب چین نے بھی اس پر اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے۔
چینی وزارت خارجہ کی ایک ترجمان نے پریس بریفننگ کے دوران کہا کہ حکام کی جانب سے اس معاملے پر تحقیقات کی جارہی ہے اور حقائق واضح ہونے تک کوئی فیصلہ کرنے سے گریز کیا جائے۔
ترجمان نے کہا کہ ہم نے متعلقہ رپورٹس پر نوٹس لیا ہے اور اس معاملے کو جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ چین ایک ذمہ دار ملک ہے اور ہم بین الاقوامی قوانین کے مطابق اقدامات کرتے ہیں، ہمارا دیگر ممالک کی خودمختاری اور فضائی حدود کی خلاف ورزی کا کوئی ارادہ نہیں۔












