لو جی کرلو گل ۔ خبردار کولگے ہاتھوں یہ خبر ہاتھ لگی ہے کہ ریڈیوپاکستان کے لگ بھگ چار ہزاری پینشنروں،بیواؤں اور پینشن کی حقداربن بیاہی بیٹیوں کو عید سے چند روزقبل جو لولی پاپ ڈی جی ریڈیو پاکستان چودھری طاہرحسن نے تھمایا تھا تاحال چٹوایا جارہا ہے حالآنکہ دیگر محکموں کے پینشنرز کو وزیرِاعظم کے اعلان کےمطابق ماہ اپریل کی پینشن عیدالفطر سے پہلے پہلے پیشگی میں دی جاچکی ہے اور ڈی جی ریڈیو پاکستان نے “زمین جنبد نہ جنبد ۔۔۔”کے مصداق وزیراعظم کے حکم کو بچوں کا بنایا ہؤا کاغذی جہاز سمجھ کر ہوا میں اڑا دیا ہے۔
اس یتیم ولاوارث محکمے کو نہ تو تب ملی اور نہ ہی اس مہینے کے آخر تک ملنے کی امید تودرکنار ایک بار پھر گذشتہ کی طرح دوماہ کے وعدہِ فردا پر ٹرخائے جانے کی تیاریاں زور و شور سے جارہی ہیں ۔ ان لاچاروبےمددگار پنشنرز کی حق تلفی کی وجہ جوبھی ہو سو ہوگی لیکن اہم وجہ ڈی جی ریڈیوپاکستان کاڈھیٹ پن، ہٹ دھرمی اور عمروعیار کی وہی پھرتیاں اورعیاریاں ہیں جس کی بدولت وہ ریڈیو پاکستان کے حاضر سروس ملازمین کو خوش رکھنے کے لیئے ڈی آر اے سے نوازناچاہتا ہے کہ یونین والوں کے ذریعے اسی کی آڑ میں نیشنل براڈکاسٹنگ ہاؤس کی شکست وریخت پر اٹھنے والے اخراجات میں ہیرا پھیری کرسکے ۔۔۔
یاد رہےعلی بابا کےچار انجینئر نما چوروں نے آٹھ کروڑ ستر لاکھ روپوں کا پروپوزل پلان دیا ہے ۔ پینشنرز بےشک رلتے رہیں ان سے کھلواڑ ہوتا رہے اور وزیراعظم کے حکم کی حکم عدولی ہوتی رہے کوئی پوچھنے والا ہے تو سامنے آئے ۔ہاں البتہ یہ شنید ہے کہ پاکستان ٹیلیویژن کو عوام سے بجلی کے ماہانہ بلوں کی مد میں ملنےوالےپینتیس روپوں میں سےمبلغ پانچ روپے بطور زکوٰۃ ریڈیو پاکستان کو دیئے جانے کے روشن امکانات موجود ہیں لیکن شومئ قسمت سے کُل ملاکر یہ چند کروڑ روپےہی بنتے ہیں یہ کُل پونجی پینشنر نما اونٹوں کے منہ میں زیرے کے برابر ہے اور علی بابا حیران و پریشان ہے کہ کروں تو کیا کروں ایک طرف کھائی ہے اور دوسری طرف دریا
بالآخر یہ ترکیب سوجھی کہ حاتم طائی کی قبر پرلات مارکر اس رقم میں سے پچاس فیصد یا تو غریب غربا پینشنروں میں بانٹی جائے یا پھر مرحومین پینشنرز کی بیواؤں اور حقدار پسماندہ بیٹیوں میں بانٹ دیئے جائیں لیکن خبردار کو یہ اڑتی اڑتی خبر ملی ہے کہ زیادہ روشن امکان یہی ہے کہ اس بے کس ولاچار مخلوق کو پچھلے تین ماہ کی طرح وعدہِ فردا پر ٹالا جائےگا تا آنکہ عیدِ قرباں سر پر آن پہنچے اور کیوں نہ گذشتہ تجربوں کی روشنی میں پھر چمتکاری کی جائے اور جس طرح وطن عزیز قرضوں کے دلدل میں پھنسا ہے تو پینشنرز کوبھی اس دلدل میں دھکیلا جا ئے کہ آخر وہ بھی اس ملک کے باسی ہیں وہ اس عفریت سے کیوں محفوظ ہوں۔
ادھرخبردار انگشت بدندان ہے اور بے ساختہ منہ سے نکل رہا ہے
“لو کر لو جی گل “













