اسرائیل نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے اس کی سرزمین پر کیے گئے حملوں پر تہران کو سزا ملنی چاہیے۔ اسرائیل نے ایران کی سپاہِ پاسدرانِ انقلاب کو دہشت گرد گروپ قرار دینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب ایران کی جانب سے اسرائیل پر کیے گئے ڈرون اور میزائل حملوں کے بعد اسرائیل نے سیکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا تھا۔
اتوار کو ہونے والے اجلاس میں اسرائیل اور ایران کے سفیروں نے ایک دوسرے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
اقوامِ متحدہ میں اسرائیل کے سفیر گیلاد اردان نے کہا کہ ایران ریڈ لائن عبور کر چکا ہے، لہذٰا اسے کڑی سزا ملنی چاہیے۔ ایران پر مزید پابندیوں کے ساتھ ساتھ پاسدرانِ انقلاب کو دہشت گرد گروپ قرار دیا جائے۔
اُن کا کہنا تھا کہ “ہم کئی برسوں سے ایران کی سرگرمیوں سے متعلق عالمی برادری کو خبر دار کر رہے تھے، لیکن کسی نے ہماری نہیں سنی۔ اب ایران کے چہرے سے نقاب اُتر گیا ہے اور اب عالمی برادری کو ضرب لگانے کے لیے تیار ہونا چاہیے۔”
واضح رہے کہ ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب ایران نے اسرائیل کی جانب سینکڑوں ڈرونز اور میزائل داغے تھے۔ امریکہ اور اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے داغے گئے زیادہ تر میزائل اور ڈرونز راستے میں ہی تباہ کر دیے گئے۔
اسرائیلی حکام نے اسرائیل میں معمولی نقصان اور ایک بچی کے زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی۔ تاہم ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ اس حملے سے اسرائیل میں تباہی ہوئی ہے۔
اسرائیلی سفیر کا مزید کہنا تھا کہ ایرانی حملے کے بعد اسرائیل جوابی کارروائی کا قانونی حق محفوظ رکھتا ہے۔
‘ایران خطے میں کشیدگی نہیں چاہتا’
سیکیورٹی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے اقوامِ متحدہ میں سفیر امیر سعید ایروانی نے کہا کہ “قانون شکن اسرائیلی حکومت نے ہمارے لوگوں کے خلاف بہت سے جرائم کیے ہیں۔ اس نے ایرانی سائنس د













