سینٹ الیکشن کا چرچا ہر طرف ہے اس دفعہ کچھ آگے ہی نکل گیا کیونکہ اس حکومت نے کہا کہ ووٹ سامنے ڈالے جائیں یعنی شو آف ھینڈ کے زریعے ۔یہ ایک معاہدے میں نواز اور بے نظیر بھی طے کر چکے تھے اُس پر دونوں کے دستخط بھی موجود ہیں لیکن یہ صرف دستخط کی اور معاہدے کی حد تک ہی رہا کیونکہ وہ کوئی بھی کام عملی طور پر اپنے ادوار میں نہ کر سکے نہ کرنا چاہا ۔
اب سپریم کورٹ میں یہ معاملہ ہے اور امید ہے کہ کوئی روشن کرن چمکے گی کیونکہ روز دلائل دئے جارہے ہیں جن میں کچھ کو سُن کر تو شرمندگی بھی ہوتی ہے اور افسوس بھی ۔خاص طور پر جس طرح ہمارا الیکشن کمیشن ہاتھ اُٹھا رہا ہے وہ انتہائی حیرت کا باعث ہے لگتا ہے اُن کے ہاتھ میں کچھ ہے ہی نہیں وہ صرف اور صرف آئین کے پیچھے چھپ رہے ہیں ۔ لیکن ہمارے معزز ججز جس طرح جرح کر رہے ہیں اس سے لگتا ہے کہ یہ انتخابات شاید پیسوں کی لین دین سے باہر نکل آئیں ۔
یہ حقیقت لگتی ہے کہ انسان صحیح اور ایمانداری سے کمایا پیسہ کبھی بھی بلا ضرورت اس طرح بے دردی سے خرچ نہیں کر سکتا نہ کسی کو دے سکتا ہے ۔یہ وہ ہی پیسہ ہو سکتا ہے جو ناجائز طریقوں سے کمایا گیا ہو یا پھر کالا پیسہ ہو جس طرح کی ویڈیو سامنے آئی اُسے دیکھ کر انتہائی ازیت ہوئی جب کہ اس میں ایک خاتون بھی شامل تھیں ۔لیکن ابھی تک یہ نہیں پتہ چل سکا کہ یہ پیسہ کس نے دیا تھا ۔سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ہمارے ادارے اتنے بے بس اور کمزور ہیں کہ وہ دھوکے اور بے ایمانی کا پتہ ہی نہیں چلا سکتے ۔اب بھی سب کہہ رہے ہیں کہ بوریوں کے منہ کھلے ہوئے ہیں ارے بھائی اگر بوریوں کے منہ کھلے ہیں تو یہ بوریاں کہیں ہوں گی بھی تو ۔یہ دینے والے نظر تو آرہے ہوں گے یا سارے جن ہیں کہ نظر نہیں آتے ۔
ایسے واقعات میں کبھی کبھی تو ہمیں یہ ہی محسوس ہوتا ہے کہ جن ہمارے ملک میں فعال ہیں جو گولیاں چلا جاتے ہیں پکڑے نہیں جاتے نوٹ گنتے نظر آتے ہیں لیکن پہچان کوئی نہیں سکتا ۔کیسا اندھیر ہے جو کسی صورت کھلتا ہی نہیں ۔سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم ان باتوں پر بولتے نہیں جلسے جلوس صرف شخصیات کو اچھا برا کہنے کے لئے ہوتے ہیں کوئی اچھی بات اُن میں نہیں ہوتی ۔
وہ قوم کسی قابل نہیں رہتی جس سے اُس کی سوچ چھین لی جائے اور ہمارے سیاست دانوں نے سب سے پہلے لوگوں سے اُن کی سوچ چھین لی اب ایک ریوڑ ہے جو کبھی کسی کی طرف اور کبھی کسی کے ساتھ چل پڑتا ہے ۔بڑے مقاصد کے لئے چھووٹے فائدے قربان کئے جاتے ہیں لیکن ہم نے یہ سوچ دے دی کہ جس طرح بھی ہو بس کرسی حاصل کرو نہین کر سکتے تو کسی کو کچھ نہ کرنے دو ۔
ہمارے بہی خواہوں نے جو روز رات سات سے گیارہ بجے تک اپنی سوچ پھیلاتے ہیں ہمیں صرف گنتی اور شمار میں لگا دیا ۔مہنگائی کتنی ہوگئی پٹرول کتنا بڑھ گیا بجلی کتنی مہنگی ہوگئی ۔اتنے کروڑ یہاں اتنے ارب وہاں اتنے کھرب یہاں ۔یعنی وہ گنتی جو شاید لوگوں نے کبھی سنی بھی نہیں تھی اب بچے بچے کی زبان پر ہے ۔ عوام کو ہر وقت یہ سوچ دے دی کہ اتنا پیسہ تمہاری جیبوں سے نکال لیا اتنا تمہیں نقصان دے دیا اور یہ وہ چال ہے جو شیطان چلتا ہے بڑے خلوص کے ساتھ ۔کیونکہ یہ باتیں انتشار کا باعث بنتی ہیں یہ کمزور زہنوں کو اُکساتی ہیں شر پر فساد پر ۔کیونکہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ شاید یہ سب بس اُن ہی کے ساتھ ہو رہا ہے ،
ہم نے بجائے صبر اور شکر اور قناعت کے لوگوں میں خوب سے خوب تر کی حس بھر دی کردار کے لئے نہیں رہن سہن کے لئے ۔کاش ہم نے ان باتوں سے ہٹ کر اپنی قوت اور اپنی صلاحیت کو نوجوانوں کے کردار بنانے اور انہیں اچھے شعار اختیار کرنے پر لگایا ہوتا ہے کاش ہم نے تعلیمی میدان سجائے ہوتے مستحکم قانون بنائے ہوتے ان کی طرف توجہ دی ہوتی لیکن ہم نے صرف اخرلاف اور منافقت کو پھیلانا شروع کر دیا ۔دماغوں میں بھر دیا کہ بس پیسہ ہی سب کچھ ہے نہ اخلاق نہ ایمانداری نہ تعلیم اور نہ ہی کوشش
سب کو چھوٹے تاستے اختیار کرنے پر لگا دیا ہر ایک بس دنوں میں امیر ہونے کے خواب دیکھ رہا ہے کوئی کلرک نہیں بننا چاہتا سب سے پہلے مینیجر کا عہدہ چاہتا ہے ۔جب کہ اب سے کچھ دھائیوں پہلے سوچ یہ تھی کہ نیچے سے اوپر اؤ تاکہ تمہیں تجربہ حاصل ہو ماں باپ بھی بچوں کو یہ ہی تربیت دیتے تھے کہ جس قابل ہو وہاں سے شروع کرو اور پھر ترقی کرتے ہوئے اوپر پہنچو اب کہا جاتا ہے کہ اگر سب سے بڑی نوکری نہ ملی تو تم کسی قابل ہی نہیں ۔یہ ہی وجہ ہے کہ پہلے صرف تعلیم ہی نہیں تجربہ بھی دیکھا جاتا تھا اسی لئے ماحول کچھ بہتر تھا اور اچھے لوگ بھی زیادہ تھے سمجھدار اور پُر وقار جب سے ہم نے بچوں کے سامنے جھوٹ اور دھوکے دینے والوں کوھیرو بنا بنا کر پیش کرنا شروع کر دیا ہم نے اپنے پیروں پر کلھاڑی مار لی ۔
سیاست نے جتنا نقصان کیا وہ تو کیا لیکن ہمارے اداروں نے برائی کو پھیلنے سے نہ روک کر جس تباہی کو پیدا کیا وہ اتنی آسانی سے ختم ہوتی نظر نہیں آتی ۔
ضمنی الیکشن میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بھی قابلِ مزمت ہی ہے کیونکہ سنا ہے گولیاں چلیں اب ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اسلحہ کیوں نہیں لیا جاتا ۔ابھی کسی وڈیرے سے بے شمار اسلحہ ملا ہے ۔کیوں ہم کوئی قانونی چارہ جوئی نہیں کر سکتے کہ اسلحہ رکھنا بند نہیں کر سکتے شادیاں ہوں تو ہوائی فائرنگ، جیت جائیں تو ہوائی فائرنگ ۔مارنا ہو تو سیدھی سیدھی فائرنگ ۔اگر ان فارم ھاؤسز اور ڈیروں پر اور ان گھروں کے خفیہ خانوں میں چھاپے ماریں تو دیکھیں کیا کیا بر آمد ہوتا ہے ۔
اللہ سب کو محفوظ رکھے اور ہم سب کو صحت اور زندگی دے آمین اللہ ہمارے ملک سے برائی کا خاتمہ فرما دے آمین

SHARE

LEAVE A REPLY