میں گذشتہ چھ ہفتوں سے اپنے بہت سے صحافی ساتھیوں اور مصنفین کی کرونا وائرس کے حوالے سے کسی خاص فقہ ،جماعت،بلکہ یوں کہیے کہ دنیا کے تمام مذاہب کی بے بسی پہ تحریریں پڑھ رہی ہوں ۔ سوچا کہ کیوں نہ کچھ اسی سلسلے میں زیب قرطاس کروں ؟لوگ اداس ہوئے کہ کعبہ سمیت دنیا بھر کی تمام عبادت گاہیں ویران ہو گئیں۔دیکھا سائنس کے سامنے سب سر نگوں ہو گئے۔اب بات چونکہ سائنس کی ہورہی ہے تو یہ بھی بتاتی چلوں کہ میں نےبھی بائیو سائنس میں ماسٹرز کر رکھا ہے۔ اور دسمبر 2005 سے اپنے زمانہ طالب علمی ہی سے صحافت سے بھی منسلک ہوں۔دوران صحافت بہت سے ممالک کے سفرکا موقع بھی ملا۔
مجھے جہاں دیگر ممالک کی ثقافت ،سیاست،فوڈ، جغرافیہ،تاریخ کے بارے میں کھوج لگانے کاشوق ہے وہیں دیگر مذاہب کے بارے میں معلومات رکھنا بھی بے حد پسند ہے۔ اپنے اسی شوق کی تکمیل کے لئے ہمیشہ ، مختلف زبانیں سیکھنا، مختلف مذاہب سے منسلک دوستوں کو ان کے مذہبی تہواروں پہ مبارک باد دینا میری عادت رہا ہے۔لیکن ایک چیز جو میں نے بڑی دلچسپ پائی ،دنیا کہ تقریباً تمام بڑے مذاہب سے جڑے دوستوں میں وہ سب کے سب اپنے اپنے مذہبی نمائندوں سے بیزار پائے گئے۔ ہندو دوست پنڈت کے خلاف، مسلمان دوست مولوی کے خلاف، عیسائی دوست پادری کے خلاف یہودی دوست راہبائی کے خلاف ہی بولتے دکھائی دئیے۔
کرونا وائرس کی دہشت سے سمٹ کے گھروں میں دبک کے بیٹھ جانے والے انھی مختلف مذاہب کے دوستوں سے انکی عبادت گاہوں کی ویرانی پہ سب کا ایک جیسا جواب پا کے معلوم ہوا کہ کل خدائی ان دین کے بیوپاریوں کی زبوں حالی پہ بہت خوش ہے ۔بیچاروں کے دھندے جو بند ہوگئے۔ میں چونکہ مسلمان ہوں اور ایک شیعہ گھرانے میں آنکھ کھولی لہذا اپنے ہی مذہب پہ بات کروں گی۔لیکن اس تحریر میں شامل رویے کسی خاص مذہب ہی کی طرف اشارہ نہیں ہے بلکہ تمام مذاہب میں اسی قسم کے رویوں کا سامنا معصوم افراد کو کرنا پڑ رہا ہے۔میرا شمار ان خوش قسمت شیعہ افراد میں ہوتا ہے جنھوں نے جوانی میں عمرہ اور تمام زیارات کر کرکھی ہیں۔ بطور صحافی ان مقامات مقدسہ کی زیارت پہ بات سے ہی شروع کرتے ہیں ۔ کیونکہ پاکستان کے کچھ نام نہادصحافی بضد ہیں کہ ان زیارات پہ جانا کوئی عبادت کے معنی نہیں رکھتا اور نعوذ باللہ ان شعائراللہ کو خاکم بدہن اللہ کے مقابلے پہ پیش کر نے کی ناکام کوشش کے ذریعے اپنے اندر پنہاں ابلیس کو منظر عام پہ لے آئے ۔
لیکن ٹھہریے۔ زیارات پہ جانے سے پہلے گلی محلوں کی بند مساجد و امام بارگاہوں سے اپنی گفتگو کا آغازکرکہ خانہ کعبہ پہ اختتام کیوں نہ کیا جائے؟ جب سے میں نے ہوش سنبھالا تو یہی دیکھا کہ جن کے ہاتھوں میں مسجد کا انتظام ہوتا وہی عام نمازیوں سے بد کلامی اور چوہدراہٹ کرتے نظر آئے۔مولوی ایسے ہی شیطان نما چہروں کی خوشامد کرتے ملے کہ چلیں اس بہانے ہماری نوکری بھی بچی رہے گی اور عزت بھی۔اگر انتظامیہ کسی سے ذاتی خوار رکھتی ہے تو وہ بچارہ اس انتظامیہ کے زیر تسلط مسجد میں کوئی دینی پروگرام کرانے کی جسارت نہیں کر سکتا۔فقط منتظم کی خوشامد ہی سے پروگرام کی اجازت ملے گی۔
اب شیعہ قوم میں ایک عجیب سی خوش فہمی ہے کہ جتنی مرتبہ کربلا جائیں گے اتنا ہی جنت میں اعلی مقام پہ فائز ہوں گے ۔ جناب چاہے ہم نے کسی کا مال ہضم کیا ہے یا اپنے ہی بہن بھائیوں کو ناراض کر رکھا ہے یا اپنی بد کلامی سے خدا کے بندوں کی دل شکنی کر رکھی ہے ۔ ان تمام آلائشوں سمیت ہمیں یہ یقین ہے کہ اخلاق کی بلندیوں پہ فائز حسین ابن علی (ع) کی زیارت انھیں حساب کتاب سے بچا لے گی؟ اگر قربت حسین ہی کنجی ہوتی جنت کی تو قاتل حسین (ع) تو سب سے ذیادہ حسین کے قریب تھا کہ جس نے کند خنجر سے حسین (ع)کے سینے پہ چڑھ کہ حسین (ع) کی شہ رگ ہی کاٹ ڈالی ۔تو ثابت ہوا کہ قربت حسین (ع) نہیں بلکہ معرفت حسین (ع)جنت کی کنجی ہے۔ اپنے ارد گرد ایسے بہت سے ایسےشیعوں کو جانتی ہوں کہ جو فخر سے کہتے ہیں کہ اب تو ہمیں صحیح سے گنتی بھی نہیں یاد کہ کتنی مرتبہ کربلا گئے؟ میں نے کئی بار یہ گذارش کی کہ اب کی بار اپنے خرچے پہ کسی، بیوہ،یتیم یا مفلس بندے ہی کو بھیج کے ڈبل ثواب کمائیں ۔ یقین جانیے ایسا ردعمل ملا کہ لکھنے کی طاقت نہیں ہے۔
چلیں اب بات کرتے ہیں ان خاص کاروباری افراد کی کہ جو معصوم کربلا کے زواروں میں قافلے سالار کی حیثیت رکھتے ہیں جن کا طریقہ واردات کچھ یوں ہوتا ہے کہ وہ ایک سال پہلے ہی ہوائی جہاز کی انتہائی کم قیمت پہ پر تمام ٹکٹس خرید لیتے ہیں جو کہ نان ریفنڈایبل بھی ہوتی ہیں لیکن زواروں کو یہ موجودہ پرائس پہ ٹکٹس بیچتے ہیں یقیناً کوئی مضائقہ نہیں کاروبار جو ٹھہرا۔ لیکن اگر غلطی سے کسی ایمرجنسی کے باعث آپ کی فلائیٹ قافلہ سالار ہی کی نااہلی کی بنیاد پہ مس ہو جائے تو وہ بری الذمہ ہو جاتے ہیں کہ ٹکٹس تو نان ریفنڈ ایبل تھیں ۔لہذا آپ ہی اپنی جیب سے دوبارہ ٹکٹس خریدیں اور اپنے اپنے گھر کی راہ لیں۔اب چونکہ شیعوں کوہر موڑ پہ کربلا والوں کے مصائب یاد آجاتے ہیں بجائے کہ ایسے قافلہ سالار کی شکایت لگائی جائے الٹا زائراسی بات پہ خوش ہوجاتا ہے۔کہ چلو ایک ٹکٹ اور سہی ہم پہ کونسا امام حسین (ع) جیسی آزمائش ائی ہے ؟ اور تو اور ایسے بھی قافلہ سالار پاکستان میں بکثرت پائے جاتے ہیں جو زائرین سے ایران عراق کے پیسے لے کہ انھیں عراق بارڈر پہ چھوڑ کہ فرار ہو جاتے ہیں۔
اور ان کے خلاف ایف آئی اے شکایت موصول ہونے کے باوجود سخت ایکشن لینے سے زرا اجتناب ہی برتتی دکھائی دی۔
رہی بات حج اور عمرہ کی تو سعودی بدووں کی ائیرپورٹ سے شروع ہونے والی بدتمیزی مسجد نبوی تا مسجد حرام تک کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔خاص کر اگرحاجی کا تعلق پاکستان سے ہو تو اور بھی بد مزاجی جھیلنی پڑتی ہے۔ان عقل کے اندھوں کو یہ بات نہ جانے کب سمجھ آئے گی کہ یہ بندگان نہ صرف اللہ کے مہمان ہیں بلکہ تمہارے ملک کی اکانومی کا بہت بڑا ذریعہ بھی ہیں۔اپنی آنکھوں سے قرآن کی بے حرمتی اور حجاج کو ملنے والے دھکے تو سبھی جانتے ہیں لہذا بات دھرانا بیکارہے
یہ سنسان معبد گاہیں دیکھ کہ نہ جانے کیوں دل مغموم نہیں بلکہ مسرور ہے کہ خدا نے اپنی طاقت دکھانے کے لئے ان جیسے دین کے بیوپاریوں کو مثل ابراہہ نہ نظر آنے والے کرونا وائرس نما کنکریاں برسا کے انھیں ذہنی طور پہ مسخ کررہاہے۔ کہ یہ معمولی شیطانی طاقتیں اس ایک طاقت حقیقی کے سامنے بے بس ہیں۔ایسے حالات میں مجھے کرونا وائرس کسی نعمت خداوند ی سے کم نہیں دکھا کہ جس کے وجود نے اس دنیا کو اک مختلف اور نئی مثبت سوچ کی طرف مبذول کردیا۔
نادیہ بتول بخاری












