طارق بٹ۔ناک سے تھوڑا نیچے

0
80

وہ تینوں اگرچہ مختلف ممالک سے تعلق رکھتے تھے مگر اس کے باوجود بہت اچھے دوست تھے۔ اس دن نہ جانے کیا ہوا کہ تینوں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے پر تل گئے سب سے پہلے امریکی نے ایک لمبی چھوڑی ۔ بولا ہمارے ملک نے ایسے جہاز بنا لئے ہیں جو بالکل آسمان کے ساتھ اڑتے ہیں پاکستانی نے حیرت سے تصدیق چاہی بالکل آسمان کے ساتھ ۔ امریکی کھسیانی سی ہنسی ہنس کر بولا نہیں تھوڑا سا نیچے ۔ روسی دوست بھلا کہاں پیچھے رہنے والا تھا جھٹ بولا ارے یہ بھی کوئی کمال ہے کمال تو ہمارے ملک کے سائنسدانوں نے کیا ہے ایسے بحری جہاز تیار کئے ہیں جو بالکل سمندر کی تہہ کے ساتھ چلتے ہیں ایک بار پھر حیران ہونے کی باری پاکستانی دوست کی تھی اس کا منہ پھٹا کا پھٹا رہ گیا اور اسی پھٹے منہ کے ساتھ اس نے پوچھا بالکل سمندر کی تہہ کے ساتھ ۔ اب شرمندگی روسی دوست کے نصیب میں لکھی تھی وہ شرمندہ ہوتے ہوئے بولا ۔ نہیں تھوڑا سا اوپر ۔ باری پاکستانی کی آئی تو وہ سوچوں میں گم ہو گیا کہ کیا بتائے کون سا کارنامہ سامنے لائے جب وہ کافی دیر تک چپ رہا تو امریکی اور روسی دونوں دوست بولے یار اب تم بھی تو کچھ بتاو نا ۔ پاکستانی بولا یار ہمارے ملک کے لوگ ناک سے کھانا کھاتے ہیں اب حیران ہونے کی باری امریکی اور روسی دوست کی تھی دونوں نے حیرت کے سمندر میں غوطے کھاتے ہوئے پوچھا یار بالکل ناک سے کھاتے ہیں ۔ پاکستانی نے فورا معصومیت سے جواب دیا ۔ نہیں ناک سے تھوڑا نیچے۔

تین دوستوں کی لمبی لمبی چھوڑنے پر مبنی یہ مختصر داستان مجھے اس لئے یاد آئی کہ عوام کے محبوب قائد عمران خان نے چند دن پہلے 2018 کے انتخابات میں اپنی یقینی کامیابی کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی حکومت کے پہلے سو دن کے منصوبہ جات عوام کے سامنے رکھ دئیے ہیں ۔ ان منصوبہ جات نے ملک کے چوٹی کے ماہرین معاشیات کو ہلا کے رکھ دیا ہے جمع تفریق کے آلے جواب دے گئے مگر سمجھ سے باہر ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے سہانے سپنوں کے جو محلات تعمیر کرنے کی ٹھانی ہے یہ تعبیر کیسے پائیں گے ۔ پی ٹی آئی کے کسی ساتھی سے پوچھو تو جواب ملتا ہے ناممکن کو ممکن کر دکھانے کا نام ہی عمران خان ہے ۔ پی ٹی آئی کے مخالفین طنزیہ ہنسی ہنستے ہوئے جملہ کستے ہیں کہ یہ منصوبہ جات کسی خلائی مخلوق کی مدد کے بغیر ممکن ہی نہیں ۔ مگر اس کا کیا کریں کہ اس دور جدید میں چراغ جتنا مرضی رگڑتے چلے جائیں کوئی بھی جن حاضر نہیں ہوتا ۔ بلکہ اب تو حالات یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ راہ چلتے ایک صاحب کی ٹھوکر راستے میں پڑے تربوز کو لگی تو وہ پھٹ گیا اور اندر سے ایک جن نکلا، ہاتھ باندھے اور گردن جھکا کر بولا ۔ کیا حکم ہے میرے آقا۔ وہ صاحب جلدی سے بولے میرے لئے ایک شاندار محل تعمیر کر دو ۔ جن عاجزی سے بولا ۔ حضور کیوں اسد عمر جیسی باتیں کرتے ہیں محل بنانے کی طاقت ہوتی تو خود کیا تربوز میں رہ رہا ہوتا ۔

سیاستدان اکثر لمبی لمبی چھوڑتے ہی رہتے ہیں مگر ایسا عام طور پر جلسوں اور جلوسوں میں ہوا کرتا ہے پاکستان تحریک انصاف نے ایک نیا سیاسی کلچر متعارف کروایا ہے کہ لمبی لمبی چھوڑنے کے لئے سیمینار، کنونشن اور پریس کانفرنس کا استعمال کیا جانے لگا ہے ٹھنڈے ٹھار ہال میں بیٹھ کر تپتے جنوبی پنجاب کی محرومی کے قصے عجیب لگتے ہیں جب آپ مستقبل کے پلان پیش کرتے ہیں تو لوگ خواہ مخواہ ماضی کو کریدنا شروع کر دیتے ہیں بھلا یہ بھی کوئی طریقہ یا سلیقہ ہے کہ عوام کے محبوب قائد عوام کی سہولیات کے لئے اپنا دن رات کا سکھ اور چین قربان کر کے نت نئے منصوبہ جات بنا رہے ہیں اور جاہل عوام ہے کہ پوچھ رہی ہے ان 350 ڈیموں کا کیا ہوا جن کا آپ نے 2013 کے انتخابات سے پہلے وعدہ کیا تھا ۔ بار بار طعنے دینے کے انداز میں پوچھا جا رہا ہے کہ ابھی تک گورنر ہاوس اور وزیر اعلی ہاوس خیبر پختون خوا لائبریری میں تبدیل کیوں نہیں ہوئے اور وزیر اعلی ہاوس میں سوئمنگ پول کیوں بنایا گیا ہے ۔ اب یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے کہ ایوب میڈیکل کمپلیکس کے میڈیکل سپرینٹنڈنٹ کو کیوں کہنا پڑا کہ ہمارے ہاں انسان تو کجا کتے کا بھی آپریشن ممکن نہیں ۔ کس قبیل کے لوگ ہیں یہ جو ایسے سوالات پوچھتے ہیں اب کیا پاکستان تحریک انصاف کو ہر سوال پوچھنے والے کے ساتھ ایک ایک مراد سعید یا نعیم الحق لگانا پڑے گا تاکہ وہ سوال پوچھنے والے کا موقع پر ہی مناسب بندوبست کر سکے۔

اگر اسد عمر کے منہ سے نکل گیا کہ اگلے پانچ سال میں ایک کروڑ نوکریوں کا بندوبست کریں گے اور پچاس لاکھ نئے مکان بنا کر دیں گے تو اس پر پورے ملک کے ماہرین معاشیات نے ضرب تقسیم کے آلات کیوں سنبھال لئے ہیں ہر کوئی جمع تفریق کر کے کہہ رہا ہے ناممکن ہے کوئی ان جمع تفریق کرنے والوں سے یہ نہیں پوچھتا 1992 سے پہلے کیا ورلڈ کپ جیتنا تمہارے لئے ممکن تھا ۔ کیا شوکت خانم کینسر اسپتال سے پہلے تمہارے پاس کوئی کینسر کا اسپتال تھا کیا نمل یونیورسٹی کا کسی نے خواب میں بھی سوچا تھا ارے بابا اگر عمران خان یہ کر سکتا ہے تو وہ کچھ بھی کر سکتا ہے ۔ زیادہ سے زیادہ یہی ہو گا نا کہ پہلے ایک ارب درخت لگانے کا دعوی کریں گے اور بعد میں 30 کروڑ درخت لگا کے 70 کروڑ خود رو شامل کرنے سے ایک ارب بنا لیں گے۔ اسی طرح دس ہزار نوکریاں پانچ سال میں فراہم کرنی تھیں باقی 99 لاکھ 90 ہزار جو پہلے سے ملازمت کر رہے ہیں ان کو شامل کر کے ایک کروڑ کی تعداد ہم نے پوری کر ہی لینی ہے بعد میں مذاکرے کرنے والے کرتے رہیں ان کے لئے ہمارا نعیم الحق ہی کافی ہے ۔ ویسے بھی معصوم پاکستانی قوم تو ناک سے تھوڑا نیچے کھانا کھاتی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY