کویت کے وزیر خارجہ شیخ صباح خالد الصباح ایران اور چھے خلیجی عرب ریاستوں کے درمیان مصالحت کے لیے بدھ کو تہران کے دورے پر پہنچے ہیں۔
ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کی اطلاع کے مطابق کویتی وزیر خارجہ صدر حسن روحانی کو ڈائیلاگ پر مبنی ایک پیغام پہنچانے کے لیے آئے ہیں۔
ان کے دورے سے قبل صدر حسن روحانی نے کہا تھا کہ کویت سمیت بعض ممالک نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی ختم کرانے کے لیے مصالحت کی پیش کش کی ہے۔
کویت کی سرکاری خبررساں ایجنسی کونا نے وزیر خارجہ شیخ صباح خالد الصباح کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ”ایران اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے درمیان تعلقات اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں پر مبنی ہونے چاہییں”۔
جی سی سی کو ایران کی جانب سے عرب ممالک میں فرقہ وارانہ بنیاد پر مداخلت پر تشویش لاحق ہے اور وہ ان ملکوں میں اپنی گماشتہ تنظیموں کے ذریعے مداخلت کررہا ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ سال کے اوائل میں تہران میں سعودی سفارت خانے کو نذرآتش کیے جانے اور مشہد میں سعودی قونصل خانے پر حملے کے بعد سعودی عرب اور بحرین نے ایران سے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے تھے اور دوسرے خلیجی ممالک نے بھی سعودی عرب کے ساتھ اظہار یک جہتی کے طور پر اپنے سفیروں کو تہران سے واپس بلا لیا تھا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے دہشت گردی کی برآمد بحرین اور خلیج کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔بحرینی وزیر خارجہ خالد بن حمد آل خلیفہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران مشرق وسطیٰ کے ممالک کے لیے پہلا سکیورٹی خطرہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایرانی خطرے سے نمٹنے کے لیے عرب لیگ میں ایک قائمہ کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ایرانی رجیم بحرین اور خلیجی ممالک میں اپنی ننگی مداخلت کا سلسلہ بند نہیں کرتا ہے تو پھر بحرین اس خطرے سے نمٹنے کے لیے جی سی سی کے لیے ایک بڑا منصوبہ تجویز کرے گا۔

SHARE

LEAVE A REPLY