برطانوی کمپنی براڈ شیٹ ایل ایل سی نے شریف فیملی کے ایون فیلڈ پراپرٹی سے متعلق دعوی واپس لینے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے اہل خانہ کو قانونی اخراجات کی مد میں 20 ہزار پاؤنڈ کی ادائیگی کردی۔
براڈشیٹ ایل ایل سی نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے ساتھ 2000 میں پاکستانی شہریوں کے غیر ملکی اثاثوں کا سراغ لگانے کے لیے معاہدہ کیا تھا لیکن یہ معاہدہ 2003 میں منسوخ کردیا گیا تھا۔
حکومت نے گزشتہ برس براڈ شیٹ ایل ایل سی کو 2 کروڑ 80 لاکھ ڈالر ہرجانہ ادا کیا تھا۔
براڈشیٹ کمپنی نے پاکستانی حکومت سے رقم وصول کرنے کے بعد ایون فیلڈ فلیٹوں پر اپنا دعوی واپس لے لیا لیکن شریف خاندان کو قانونی اخراجات کی مد میں 20 ہزار پاؤنڈ ادا کردیے۔
برطانوی قانونی نظام میں یہ معمول کی بات ہے کہ کسی پارٹی کی قانونی ٹیم کو کیس ہارنے کے بعد دوسرے فریق کو ادائیگی کی جائے یا اگر فریق جس نے دعویٰ کیا تھا وہ عدالت سے دستبردار ہوجائے۔
ڈان کو موصول دستاویزات سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ براڈشیٹ ایل ایل سی نے شریف فیملی کو 20 ہزار پاؤنڈ ادا کیے۔
اس حوالے سے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے براڈشیٹ کی طرف سے ادائیگی کو ’جھوٹوں کے منہ پر ایک اور زبردست طمانچہ‘ قرار دیا ہے۔
انہوں نے ٹوئٹ میں کہا کہ ’براڈشیٹ کو لندن فلیٹوں کے بارے میں سوالات اٹھانے اور پھر عدالت سے بھاگنے کے لیے نواز شریف کے وکلا کو ساڑھے چار لاکھ روپے ادا کرنا پڑے‘۔
مریم نواز نے کہا کہ ’جھوٹ اور دھوکہ دہی کے کھیل میں اس طرح کے نتائج بھگتنے پڑتے ہیں، کوئی شرم آتی ہے؟‘
نائب صدر مسلم لیگ نے کہا کہ ’براڈشیٹ تو اپنے جھوٹے الزامات پر عدالت میں عزت افزائی کروا چکی ہے مگر ابھی ان لوگوں کا احتساب باقی ہے جو پاکستانی عوام کا پیسہ اپنی ذاتی انا کی جنگ میں جھونکتے رہے ہیں‘۔
انہوں نے کہاکہ حکومت چھپ چھپ کہ براڈشیٹ والوں سے ملتی تھی اور وہ اپنا حصہ مانگتے تھے، اب سب حقائق عوام کے سامنے آئیں گے۔
واضح رہے کہ 27 جنوری کو کابینہ کی منظوری کے بعد جو ایک رکنی کمیشن قائم کیا گیا اس کا وسیع دائرہ اختیار نہ صرف براڈ شیٹ تنازع کے معاملات کی تحقیقات کرنا ہے بلکہ اس بات پر بھی غور کرنا ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاری میں چھپائے گئے اثاثے برآمد کرنے کی بے دل اور غلط سمت کوششوں کی وجہ سے ریاست کو اتنا بڑا نقصان کیوں ہوا۔












