مرتضی شیر خدا کی بات کر۔
یعنی نفس مصطفی کی بات کر

تزکرہ مت چھیڑغیروں کا یہاں
بس یہاں کہف الورا کی بات کر

جس کو بخشی هے خدا نے ذوالفقار
هاں اسی دست – خدا کی بات کر

شفقت – خیرالبشر کے واسطے
فاطمہ خیرالنساء کی بات کر

پڑھ کبھی شبیر کی تو منقبت
اور کبھی تو مجتبی کی بات کر

طاہروں سے ہو ہو پھر منسوب تو
مرکز – قل انما کی بات کر

دنیاداروں کے قصائد مت سنا
باب – علم و فلسفہ کی بات کر

فقر کی نگری میں آنے کے لئے
تاجدار – ہل اتی کی بات کر

جو تھا واقف ہر حدیث – پاک سے
اس حققیقت آشنا کی بات کر

نعت میں بھی اے بلال – حق نوا
پیشوائے اولیاء کی بات کر

بلال رشید

SHARE

LEAVE A REPLY