یوسفی کی تحریریں جو زندہ رہیں گی

0
41

یوسفی کی تحریر میں ایک قدر جو آپ کو جا بجا ملے گی، وہ ناسٹیلجیا ہے۔ اس کیفیت کو نہ صرف ان کی تحریر میں محسوس کیا جا سکتا ہے بلکہ انہوں نے خود اس کی تعریف کرتے ہوئے ‘یادش بخیر’ میں ایک جگہ لکھا ہے، “ناچتے ناچتے ایک طلسماتی لمحہ ایسا آتا ہے کہ سارا جنگل ناچنے لگتا ہے اور مور خاموش کھڑا دیکھتا رہ جاتا ہے۔ ناسٹلجیا اسی لمحہ منجمد کی داستان ہے”۔ اسی ناسٹیلجیا کی کیفیت میں ایک جگہ لکھتے ہیں،

“لڑکپن بادشاہی کا زمانہ ہوتا ہے۔ اس زمانے میں کوئی مجھے حضرت سلیمان کا تخت ہدہد اور ملکہ سبا بھی دے دیتا تو وہ خوشی نہیں ہوتی جو ایک پتنگ لوٹنے سے ہوتی تھی”۔

ایک جگہ نوجوانی کی معصومیت کو یاد کرتے یوں مسکرا دیتے ہیں کہ،

“میرا تعلق تو اس بھولی بھالی نسل سے رہا ہے جو خلوص دل سے سمجھتی ہے کہ بچے بزرگوں کی دعا سے پیدا ہوتے ہیں۔”

لکھتے ہیں،

“اس زمانے میں ایئر کنڈیشننگ عام نہیں تھی۔ صرف ہسپتالوں کے آپریشن تھیٹرز ایئر کنڈیشنڈ ہوتے تھے لیکن اس سے مستفید ہونے کے لئے پہلے بے ہوش ہونا ضروری تھا البتہ سنیما ہال میں یہ شرط نہیں تھی۔ لہٰذا رمضان کے مہینے میں کوئی فلم قضا نہیں ہوتی تھی۔ اس عمل کو روزہ بہلانا کہتے تھے۔ ضمیر جعفری کہتے تھے آپ لوگ فلم کو چسنی کی طرح استعمال کرتے ہیں، جب کہ محمّد جعفری فرماتے تھے کہ ایسے ویسے سین کے بعد اگر تین مرتبہ قرأت سے لاحول پڑھ لی جائے تو معافی و مغفرت کی صورت پیدا ہوسکتی ہے۔ وہ بڑا غفور الرحیم ہے۔”

‘آبِ گم’ میں ایک جگہ فرماتے ہیں:

“بات یہ ہے کہ وہ زمانہ اور تھا۔ نئی پود پر جوانی آتی تو بزرگ نسل دوانی ہو جاتی تھی۔ سارے شہر کے لوگ ایک دوسرے کے چال چلن پر پہرہ دینا اپنا فرض سمجھتے تھے :

ہم اس کے پاسباں ہیں، وہ پاسباں ہمارا

بزرگ قدم قدم پر ہماری ناقابلِ استعمال جوانی کی چوکیداری کرتے تھے۔ بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ ہماری لغزشوں اور غلطیوں کو پکڑنے کے لیے اپنا بڑھاپا چوکنے وکٹ کیپر کر طرح حالتِ رکوع میں گزار دیتے تھے۔ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ اگر یہی کچھ ہونا تھا تو ہم جوان کاہے کو ہوئے تھے۔”

موجودہ نسل یوسفی کو ان کی کتب سے زیادہ ان سوشل میڈیا  سے جانتی ہے جو ہزاروں کی تعداد میں ان کے نام سے انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔ یوسفی نے اپنے لئے بھی کہا تھا،

“زندوں کی تعریف کرنا ہمارا دستور نہیں”

مگر حقیقت یہی ہے کہ یوسفی ایک عہد ساز شخصیت تھے۔ ان کی زندگی میں بھی ان کے زمانے کو عہدِ یوسفی کہا گیا، اور جو لوگ آج غمزدہ ہیں کہ اب انہیں مزاح کے نام پر پھکڑپن پر ہی گزارا کرنا ہوگا، وہ بھی دل چھوٹا نہ کریں۔ وہ کسی نے کہا ہے نا کہ بڑے ادیب مرتے نہیں، بس لکھنا چھوڑ دیتے ہیں۔ تو یوسفی نے بھی لکھنا چھوڑا ہے۔ وہ ہم میں بھلے نہ رہے ہوں، ہم آج بھی عہدِ یوسفی ہی میں زندہ ہیں۔

“آپ نے گاندھی گارڈن میں اس بوہری سیٹھ کو کار میں چہل قدمی کرتے نہیں دیکھا جو کہتا ہے کہ میں ساری عمر دمے پر اتنی لاگت لگا چکا ہوں کہ اب اگر کسی اور مرض میں مرنا پڑا تو خدا کی قسم خود کشی کر لوں گا۔”

‘خاکم بدہن’ میں ایوب خان کی بنیادی جمہوریت پر یوں جملہ کستے ہیں کہ جنرل صاحب خود بھی سنتے تو ہنستے ہنستے دوہرے ہو جاتے،

“لوگ کیوں، کب اور کیسے ہنستے ہیں؟ جس دن اس سوال کا صحیح صحیح جواب معلوم ہو جائے گا، انسان ہنسنا چھوڑ دے گا۔ رہا یہ سوال کہ کس پر ہنستے ہیں؟ تو اس کا انحصار حکومت کی تاب اور رواداری پر ہے۔ انگریز صرف ان چیزوں پر ہنستے ہیں جو ان کی سمجھ میں نہیں آتیں۔۔۔۔ “پنچ کے لطیفے، موسم، عورت، تجدیدی آرٹ۔” اس کے برعکس، ہم لوگ ان چیزوں پر ہنستے ہیں، جو اب ہماری سمجھ میں آ گئی ہیں۔ “مثلاً انگریز، عشقیہ شاعری، روپیہ کمانے کی ترکیبیں، بنیادی جمہوریت”۔

سیاست ہی پر ایک اور جگہ چٹکلا چھوڑتے ہیں،

“سیاست میں، یا سائیکل پر کسی بھی سمت نکل جائیں، آپ کو ہوا ہمیشہ مخالف ہی ملے گی۔”

پھر ‘چراغ تلے’ میں لکھتے ہیں،

“گرم ممالک میں بحث کا آغاز صحیح معنوں میں قائل ہونے کے بعد ہی ہوتا ہے۔ دانستہ دل آزاری ہمارے مشرب میں گناہ ہے۔ لہٰذا ہم اپنی اصل رائے کا اظہار صرف نشہ اور غصّے کے عالم میں کرتے ہیں۔”

SHARE

LEAVE A REPLY