انڈونیشیا کے حکام نے بتایا ہے کہ داعش کا رکن بننے کے لیے اپنے کنبے سمیت شام جانے کی کوشش کرنے والا شخص ماضی میں وزارت خزانہ سے وابستہ رہا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ پانچ افراد کی فیملی کو ترکی سے ملک بدر کر دیے جانے کے بعد انہیں منگل کو وطن واپسی پر بالی سے گرفتار کیا گیا تھا۔

انقرہ حکومت کے مطابق یہ افراد شام جانا چاہتے تھے، اس لیے انہیں واپس انڈونیشیا روانہ کیا گیا۔ اس کنبے میں تین بچے بھی شامل ہیں۔ حکام کے مطابق اس فیملی کے انتالیس سالہ سربراہ نے آسٹریلیا سے تعلیم حاصل کی تھی اور وہ وزارت خزانہ کے دو مخلتف محکموں میں خدمات سر انجام دے چکا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY