پانامالیکس ،تقسیمِ جائیداد کی تفصیل جمع کرانے کے لیے مہلت طلب
سپریم کورٹ میں پانامالیکس سے متعلق آئینی درخواستوں کی سماعت کے دوران وزیراعظم کے وکیل نےجائیداد کی تقسیم اور تحائف کی تفصیل جمع کرانے کے لیے عدالت سے پیر تک کی مہلت مانگ لی،اسحاق ڈار کے وکیل شاہد حامد نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حدیبیہ انجینئرنگ اور حدیبیہ پیپر ملز کیس کا فیصلہ 1997 میں ہوا، تمام ملزمان بری کردئیے گئے۔

جسٹس آصف کھوسہ نے ریمارکس دیے اس کیس میں ایف آئی آر موجود ہے، چالان ختم ہونے پر ملزمان بری ہو گئے یہ کیسے ممکن ہوا؟

سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بینچ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پاناما پیپرز لیکس کیس کی سماعت کررہا ہے۔

وکیل شاہد حامد کے اسحاق ڈار سے متعلق دلائل کا آغازکرتے ہوئے کہا کہ حدیبیہ انجینئرنگ اور حدیبیہ پیپر ملز کیس کا فیصلہ1997 میں ہوا،1997 میں عدالت عالیہ ان الزامات پر ملزمان کو بری کر چکی ہے۔

جسٹس آصف کھوسہ نے ریمارکس دیے اس کیس میں ایف آئی آر موجود ہے، چالان ختم ہونے پر ملزمان بری ہو گئے یہ کیسے ممکن ہوا؟

شاہد حامد نے کہا کہ اس وقت اسحاق ڈار وزیر خزانہ تھے نہ ہی ایم این اے، نیب ریفرنس میں بھی وہی الزامات تھے جو ایف آئی اے نے اپنے مقدمے میں لگائے۔

جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ ہائیکورٹ نے اس کیس کو تکنیکی بنیادوں پر ختم کیا تھا،نیب ریفرنس تحقیقات قانون کے تحت نہ ہونے پر خارج ہوا۔

عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل نیب سے حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس میں اسحاق ڈار کا اعترافی بیان طلب کرلیا۔

پاناما پیپرز کیس کی سماعت کے آغاز میں وزیراعظم نواز شریف کے وکیل مخدوم علی خان نے عدالت سے کہا کہ جائیداد کی تقسیم اور تحائف کی تفصیل جمع کرانے کے لیے پیرتک مہلت دی جائے۔

جسٹس آصف کھوسہ نےکہا کہ پہلے کہا گیا کہ تمام دستاویزات ہیں، پیش کر دی جائیں گی۔

پاناما پیپرز کیس کی سماعت کے موقع پر چیئرمین تحریک انصاف عمران خان، عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید، جماعت اسلامی کے سراج الحق ودیگر درخواست گزار موجودتھ

SHARE

LEAVE A REPLY