ریاست فلوزیا سے آیا ایک خط ٭٭محمدثقلین رضا

0
223

ہمیں محلہ دا روں نے بتایا کہ آ ج کل فیکا پھر سے ”ا ن” ہے مگر اس بار ا س کی خوشی دیدنی ہے’ ہرسو دندناتا پھرتاہے’ پائوں دا ئیں کورکھتا تو پڑتے بائیں کو ہیں’ آ تے جا تے بچوں سے کھلنڈرے نوجوا نوں جیسے چونچلے کرتا ہے” پہلا خیا ل یہ ذہن میں آ یا کہ شا ید بہت سے مقدما ت ا ور پھر پولیس کے چھا پوں کے با عث شا ید ا س کا ذہن چل چلائو کا شکا ر ہوگیا ہے تبھی تو طویل پریشانیوں کے بعد آج کل خوش نہا ل ہے کیونکہ سیا نے کہتے ہیں کہ ”پا گل پن کا بھی ا پنا مزہ ہے ” یعنی نہ فکر فاقہ ‘ نہ کاکی نہ کاکا ‘ گویا فکر جا نا ں سے جا ن چھوٹی رہتی ہے تو فکر روزگا ر بھی تنگ نہیں کرتا’ زندگی کے بے مزہ ہونے کا بھی ا حسا س تک نہیں رہتا ۔ خیر عرض کررہے تھے کہ فیکے کی خوشیوں کی کہا نیا ں کئی محلہ دا روں سے سنیں’ خیر مصروفیت میں بھول جا تے کہ فیکا کیوں خوش ہے’ ا بھی کچھ ہی دن پہلے گھر وا لے بتا رہے تھے کہ فیکا کئی بار آ کر آ پ کا پوچھ چکا ہے’ ”ا لہٰی خیر” یہ جملہ سنتے ہی ہما ری ا ہلیہ محترمہ نے فوراً ا ستغفرا للہ پڑھا’ پوچھا تمہیں کیا ہوا؟ محترمہ نے فوراً کڑے تیوروں کے سا تھ کہا ”آ پ نے بھی تو کہا ا لہٰی خیر ‘ظاہر ہے کہ کوئی بری خبرسنتے ہی ا یسا کہتے ہیں نا ں” ا ب ا نہیں کیا سمجھا تے کہ نیک بختے یہ فیکا عذاب الہٰی سے کم نہیں ‘ چونکہ سمجھنے سمجھا نے کا وقت نہ تھا ا س لئے خا موشی ا ختیا رکرلی’ پتہ نہیں نیک بخت کتنی دیر تک ہما رے سٹھیا جا نے کا رونا روتی ا ورمنہ میں بڑبڑاتی رہی’ا گلی ہی صبح کسی مجبوری کے تحت دفتر جاتے ہی وا پس گھرکولوٹ آ نا پڑا’را ستے میں ہی ایک خوش نہا ل شخص نے ہا تھ کے ا شارے سے روکا’ ہم پہلے تو غو ر نہیں کرپا ئے کہ یہ ”جسا رت ” کس نے کی’ جب بہت ہی قریب جا کر دیکھا ا بھی پہچا ننے کی کوشش کررہے تھے کہ دائیں پسلیا ں با ئیں جا نب ا وربا ئیں وا لی دائیں جا نب جا تی دکھا ئی دی’

بس صرف ا یک ہی آواز سنائی دی” بھا ئی جان بہت تنگ کرتے ہو” ہما رے ا وسا ن ا بھی بحا ل ہی نہیں ہوئے تھے کہ پھر کمر پرایک ”دھپ ” کی آ واز کے ساتھ گھونسہ پڑا اورہم سجدہ ریز ہونے کا سوچ ہی رہے تھے کہ اس موٹے ‘بھاری بھرکم ہا تھ وا لے فیکے نے ہمیں سنبھالا دیا اور پھر چہکتے ہوئے بولا ” بھائی آپ بھی نویں نویلی محبوبہ کی طرح کیوں چھپتے چھپاتے پھرتے ہیں” ہم نے ا س قا بل اعتراض جملے پر کچھ سنانے کا سو چا مگر پھر فیکے کی ہیئت دیکھ کر خا موشی ا ختیا رکر لی’ خیر طبیعت کی بحا لی پر پوچھ لیا ” میا ں آج کل بہت خوش ہو ‘خیریت تو ہے نا ں” فیکا چہکتے اورہات ھ نچاتے ہوئے بولا ” بھائی جا ن اب میں پولیس کے شکنجے سے بچ گیا ہوں’ کوئی مجھے ہا تھ تک نہیں لگا سکتا’ میں آ زا د ی سے گھو م رہا ہوں’ کسی کی مجال ہے کہ مجھے ہاتھ لگائے ” ہم خوشی کی ا س عجیب تاویل پر مخمصے کا شکا رتھے’

کچھ پوچھنے کا سوچا اورپھر خا موشی اختیارکرلی’ فیکا خود ہی بولا” دیکھو میری جیب میں اب بھی پڑیا ں ہیں’ میں جس کو چا ہے دیتا پھروں ‘ میرے بنک ا کا ئونٹ میں بھرے ا ور میری صندوقچوں میں پڑے نوٹوں کا کوئی حسا ب کتاب کرنیوا لا نہیں ہے’ نہ نیب کی جرات نہ پولیس کی” گویا فیکے نے آج سا رے کا سا را آ سما ن ہمارے سرپرگرا نے کا پر وگرام بنا لیا تھا’ ا بھی سوچنے سمجھنے کی کوشش کررہے تھے کہ فیکا پھر گدھے کی سینگوں کی طرح ا ڑن چھو ‘ بات ا دھوری رہ گئی’ ہم وہ را ز نہ پا سکے جس نے ڈیڑھ درجن مقدما ت کے باوجود فیکے کو آ زا د ی سے گھومنے کا راستہ دکھا دیا تھا’ وہ دن اوررا ت ا سی سوچ میں گزرگئے’ محلہ دا روں سے پوچھا’ فیکے کے ”مخصو ص دوستوں ” سے معلومات لیں کہ شاید کوئی اس کا دوست یار ‘ رشتہ دا ر کسی بڑی پوسٹ پر تعینات ہوا ہو’ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما ضی میں ا س کی سرپرستی کرنیوا لا کوئی شخص کسی ا یسے عہدے پرتعینات ہوا ہو جس کی بدولت ا سے کھل کھیلنے کا موقع مل گیا ہو’ مگر کئی دن کی خجالت کے باوجود وہ را ز ‘راز ہی رہا’ پھر کا فی دنوںکے بعد علی ا لصبح ہی دروا زہ دھڑ دھڑ بجنے لگا’ جونہی دروازہ کھلا تو سا منے فیکا سرخ سرخ آنکھو ں سے گھوررہا تھا’ ہما رے پوچھنے ‘سلام دعا سے پہلے ہی فیکے نے بھاری بھرکم ہاتھ ہمارے نا زک کا ندھوں پر رکھا اوربولا” کیوں بھا ئی جی! آپ کو کیا پڑی ہے کہ آپ لوگوں سے میری خوشیوں کی وجہ پوچھتے پھررہے ہیں’ ا س دن ڈائریکٹ مجھ سے معلوم کرلیا ہوتا ‘ یہ شریکوں سے پوچھنا کچھ اچھی بات نہیں ہوتی’

پھر فیکے نے اپنی نئی نویلی جیکٹ کی سائیڈ وا لی جیب میں ہاتھ ما را اور خوبصورت پھو لدا ر کا غذ نکا ل کر ہماری جانب بڑھادیا’ جونہی کاغذکی تہیں کھلیں تو ہرسو خوشبو سی پھیل گئی’ اب پتہ نہیں کاغذ خوشبودار تھا یا پھر اس پر سپرے کیا گیا’ خیر کاغذ پر جو کچھ لکھا تھا وہ ہماری سمجھ سے با ہر تھا’ چونکہ لکھے ہوئے لفظ نہ اردو میں تھے نہ ا نگریزی میں’ عربی ‘فارسی اور بہت سی زبانوں کے تلفظ چونکہ پتہ ہیں اس لئے جا نچ پڑتا ل کے با وجود ہما ری سمجھ میں آ نیوا لی کوئی زبان بھی نہ تھی ‘ ہم ا بھی تحقیق ‘کھوج لگا ہی رہے تھے کہ فیکے نے کاغذ چھینتے ہوئے کہا” مجھے پتہ تھا کہ آپ کو سمجھ نہیں آئیگا’ یہ ریا ست فلوزیا کے شہزادے کاخط ہے’ ‘آ پ جا نتے بھی نہیں ہونگے کہ فلوزیا ہے کہاں؟ پتہ تو خیر مجھے بھی نہیں ہے مگرمیرے ایک دوست نے مجھ پر مہربان کرائی ہے اور مجھے یہ خط لاکر دیا ہے ‘بالکل اس کی اوپر والی سطور میں میرا نا م ‘ولدیت ‘پتہ لکھا ہے ا ور پھر اس شہزادے نے کہا ہے کہ وہ میرے ساتھ دھندہ(سوری کاروبار) کرتا ہے’ یعنی میں جو پا ئوڈر وغیرہ کا دھندہ کرتا ہوں وہ سب اس شہزادے کا ہے’ اور اس نے یہ بھی لکھا ہے کہ فیکا اس کا خاص آدمی ہے ا سے کچھ نہ کہاجا ئے” فیکا یہ کہہ کر خط جیب میں ڈا لتے ہی ا ڑن چھوہوگیا
اگلی ہی صبح ایک نئی خبر پھرمنتظر تھی کہ فیکے کو پولیس پکڑ کر لے گئی ‘ را ز معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ فیکے نے جونہی بڑے پولیس افسر کو خط دکھا تو دیا مگر اس نے یہ کہہ کر خط فیکے کے منہ پر ما را کہ مجھے یہ زبان سمجھ نہیں آتی’ فیکا اس خط کے مندرجات بارے چیختا چلاتا رہا مگر کسی نے نہ سنی اور جیل بھجوا دیا’ سنا ہے کہ فیکے کے بھائی وہ خط لیکر روزانہ عدا لتوں کا چکر لگارہے ہیں کہ شا ید کسی کی سمجھ میں وہ خط آ سکے

SHARE

LEAVE A REPLY