انور عباس انور۔۔ پاکستان کو ایسے لوگ چاہئیں

0
85

ہم روزانہ کی بنیاد پر ایسے ایسے لوگوں سے ملتے ہیں جن سے ملنے کے بعد یہ کہنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ خدایا’’ کیسے کیسے لوگ ‘‘ تیری مخلوقات میں موجود ہیں ،جن سے ہم کلام ہوکر انسان کا سر فخر سے بلند ہوجاتا ہے آج کے اس کالم میں ہم بھی چند ایسے ہی لوگوں کی بات کرنے کا عزم لیکر بیٹھے ہیں۔ ہم ان سطور مین جن لوگوں کا تذکرہ کریں گے زمانہ انکی علمی و ادبی مہارت، پاکدامنی اور وسعت قلبی،انسان دوستی،علم دوستی کے ساتھ ساتھ ان کی حب الوطنی کا معترف ہے۔ان لوگوں سے ملنے اور انکی قربت میں گزارے لمحات زندگی کے یادگار لمحات میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ ان کی زبان سے نکلنے والے الفاظ شرقپور شریف کی سوغات گلاب جامنوں سے بڑھکر میٹھے ہوتے ہیں کہ انہیں سننے والے اللہ سے ملتمس ہوتے ہیں کہ وہ ان عظیم لوگوں کو ہمارے لیے مختص کردے۔ ایسے لوگ زمین پر اللہ کی نعمت سے کم نہیں ہوتے۔ ایسے لوگوں کے وجود باعث رحمت و برکت ہوتے ہیں ہم ان سے استفادہ نہ کریں تو الگ بات ۔
چند روز قبل مجھے بھی چند ایسے افراد کی زیارت کا شرف حاصل کرنے کی سعادت اللہ تعالی نے عطا کی، کہ لطف آگیا۔ ان خوش بختوں کی صحبت سے اٹھنے کو من ہی نہیں کر رہا تھا، دل چاہتا تھا کہ گھڑی کی سوئیاں رک جائیں اور وقت تھم جائے اور یہ سلسلہ ہائے گفتگو جاری رکھیں اور ہم سماعت کرتے رہیں۔واقعہ کچھ یوں ہے کہ معروف شاعر ،ادیب اور صحافی سید قائم نقوی سے پریس کلب میں ملاقات ہوئی، میرے سوال’’کہاں سے آرہے ہیں‘‘ کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ وہ ڈاکٹر تحسین فراقی کے آفس سے آرہے ہیں ،ان کے جواں سال فرزند کے انتقال پر فاتحہ خوانی کرنے گئے تھے۔ ایسا سننا تھا کہ دل و دماغ پر گہری چوٹ لگی، کچھ لمحے بعد تحسین فراقی سے تعزیت کے لیے جانے کی خواہش کا اظہار کیا تو قائم نقوی صاحب نے بتایا کہ جب آپ وہاں پہنچیں گے اسوقت تک تو جناب فراقی آفس سے روانہ ہو چکے ہوں گے لہذا اب کل صبح سویرے ہو آنا۔ جس پر ارادہ ملتوی کرکے قائم نقوی کے ہمراہ کلب میں بیٹھ گئے ،باتیں تو کرتے رہے مگر دل و دماغ فراقی صاحب کی طرف ہی متوجہ رہے۔جوان سال بیٹے کی موت کا صدمہ کیسے برداشت کرپائیں ہوں گے فراقی صاحب۔۔۔!!! یہ سوچتے سوچتے کہ فراقی صاحب تو اپنے طالب علموں کو بھی ڈانٹتے وقت الفاظ کے انتخاب میں بھی بہت احتیاط برتتے تھے۔۔۔!!!!
رات بہت بے چینی سے بسر کی، صبح ہوتے ہی اپنی کتابوں کا تھیلا ’’ کچھے‘‘ مارا اور گھر سے روانہ ہوا، میری منزل مجلس ترقی ادب لاہور( مال روڈ ) تھی وہاں پہنچ کر جناب تحسین فراقی کے آفس کے’’ صاحب‘‘ سے ان کا دریافت فرمایا تو اس نے فراقی صاحب کی دفتر میں موجودگی کی خوش خبری سنائی، اور میرا نام پوچھ کر وہ اندر سے اذن ملاقات لے آیا۔ گرمی سے بگڑے چہرے کو رومال سے صاف کیا ہاتھوں سے بالوں اور داڑھی کو سنوارنے کے بعد دفتر میں داخل ہواتو باریش نوارنی چہرے کے ساتھ فراقی صاحب موبائل فون پر کسی سے گفتگو فرما رہے تھے۔ سلام دعا کے بعد ہمیں اپنے سامنے سلیقہ سے سجے صوفہ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور دوبارہ فون پر بات کرنے لگے۔ ان کے انداز گفتگو سے اندازہ ہوگیا تھا کہ دوسری طرف والے دوست ان سے ان کے ’’کڑیل‘‘ جوان پتر کے اس دارفانی سے راہی ملک عدم ہونے پر تعزیت کررہے ہیں۔۔۔فراقی صاحب دوسری طرف والے دوست سے فرما رہے تھے کہ ’’بھائی صبر ہی کرنا ہوتا ہے مگر صبر ہوتا نہیں۔۔۔!!!! ان الفاظ کے کانوں سے معانقہ ہوتے ہی آنکھیں آبدیدہ ہوگئیں اور دل پسیج گیا۔ فون سے فراغت پائی تو میں نے دست دعا بلند کیے ان کے مرحوم لخت جگر کی مغفرت اور بلندی درجات کی دعا کرنے کے بعد انہیں اپنی شناخت کروائی۔۔۔ ان سے یہ ہماری 1978 کے بعد ملاقات تھی اس سے قبل وہ ہمیں گورنمنٹ پائلٹ سکنڈری سکول شرقپور شریف میں پڑھایا کرتے تھے۔فراقی صاحب ان دنوں ایم اے او کالج میں تدریس کے فرائض سرانجام دیا کرتے تھے۔ان کے ساتھی اساتذہ کے اس دنیا سے اٹھ جانے کی خبریں سنائیں اور جو زندہ ہیں ان کی خیرو خیریت کی آگاہی فرمائی۔تحسین فراقی رنجیدہ اوربوجھل دل کے ساتھ ان احباب کے صحت و سلامتی کی دعا کرتے رہے۔ہمارے توسط سے اپنے زندہ و سلامت دوستوں کو سلام پہنچایا۔
ابھی میں فراقی صاحب کو غم ودکھ کی وادی سے نکال کر انہیں 70دہائی میں لایا تھا اور پرانی یادوں کو ان کے ذہن میں تازہ کرکے ان کے غم کو بھلانے کی سعی کر رہاتھا کہ جناب شعیب بن عزیز تشریف لے آئے ،شعیب جی نے بھی اظہار تعزیت کیا اور مرحوم کی بخش و بلندی درجات کے لیے دعا فرمائی۔ تحسین فراقی جواں سال لخت جگر کے پرسے بڑی ہمت سے وصول کررہے تھے۔ موقع پاکر شعیب بن عزیز سے انکی نئی ذمہ داریوں کے متعلق دریافت کیا تو اس بھلے مانس شریف النفس نے بات کچھ اس انداز سے کہی کہ ہم ششدر رہ گئے۔ شعیب بن عزیز بتا رہے تھے کہ انہوں نے اپنی نئی ذمہ داریوں کا چارج تو سنبھال لیا ہے لیکن ابھی اپنے فرائض کی ادائیگی کا آغاز نہیں کیا۔ وجہ معقول تھی،وہ بتا رہے تھے کہ جس جگہ پر دفتر قائم ہے اس جگہ کی رینٹ اسسمنٹ 25 ہزار سے زائد نہیں لیکن حکام نے وہ جگہ 2 لاکھ ماہوار کرائے پر لے رکھی ہے، اس لیے وہ اس گناہ میں حصہ دار نہیں بننا چاہتے۔ حکام کو نیا دفتر لینے کی ہدایت فرمادی ہے جونہی نیا دفتر معقول کرائے میں حاصل ہوجاتا ہے وہ دفتر جانا شروع کردیں گے۔دوسرا ابھی معلوم نہیں کہ آنے والی نئی حکومت کیا فیصلے کرتی ہے۔
شعیب بن عزیز انتہائی مخلص انسان ہیں، ان کے دل میں بنی نوع انسان کی خدمت کا جذبہ موجزن رہتا ہے اور یہ اللہ کی مخلوق کے کام اانے کے لیے بہانے تلاش کرتے رہتے ہیں، اور پھر انکی تشہیر سے بھی منع فرماتے ہیں، میں نے بھی اپنے جگری یار محمد ادریس بٹ مرحوم کی بیماری کا بتایا، بٹ صاحب ان دنوں گھرکی ہسپتال میں بستر بستر علالت پر موت سے پنجہ آزمائی کررہے تھے۔ شعیب صاحب نے مجھ سے بس اتنا کہا کہ’’ کچھ کرتا ہوں‘‘ پھر معلوم ہوا کہ وہ مدد کو پہنچے،میں نے انکا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں بتایا کہ ادریس بٹ اب اس دنیا میں نہیں رہے۔
اس نشست میں مرحوم منیر نیازی کے زندگی کی ورق گردانی بھی ہوئی، تحسین فراقی کی کتاب مشفق خواجہ کے خطوط کے متعلق شعیب بن عزیز نے آگاہی دی کہ وہ ان کے زیر مطالعہ ہے اور اسے پڑھ کے بہت مزہ آ رہا ہے۔ میں تو بس ہمہ تن گوش بن کر دو بڑے لوگوں کی باتیں سن رہا تھا، شعیب مجلس ترقی ادب میں ڈاکٹر فراقی کے کام کی تعریف کے پل باندھ رہے تھے، اور تحسین فراقی نے ان سے فرمائش کی کہ ’’ شعیب اپنا ایک مجموعہ کلام ہی شائع کروالیں، زندگی کا کیا بھروسہ۔۔۔ جس پر شعیب بن عزیز نے ڈاکٹر تحسین فراقی کی خواہش پوری کرنے کی ’’ہاں‘‘ کردی ۔ اس کے بعد جناب شعیب بن عزیز نے بھی ڈاکتر تحسین فراقی سے ایک فرمائش کی کہ وہ مجلس ترقی ادب کے کام کے حوالے سے بھی حقائق عوام تک پہنچائیں، یہاں فراقی صاحب نے ایسا کرنے کی حامی بھری تو لوہا گرم دیکھ کر اور ماحول کو سازگار پاکر میں نے بھی انہیں رائٹر گلڈ کی جانب سے اپنی کتاب’’ اقبال کے شاہین‘‘ کی تقریب رونمائی میں شرکت کی دعوت دے ڈالی جس پر شعیب بن عزیز نے اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ اآنے کا وعدہ کیا اور ساتھ یہ بھی کہا کہ وہ آجکل انکار کرنے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ انکار کی صورت میں بحث طول پکڑ جاتی ہے۔
خلوص ،پیار ،محبت کی مٹی سے بنے ڈاکٹر تحسین فراقی کی جانب سے خلوص کی چاشنی سے بھرے ’’ قہوہ ‘‘ کو نفاست سے لبریز بسکٹس کے ساتھ نوش فرمایا اور رخصت ہونے سے قبل دونوں مہربان دوستوں کی خدمت میں اپنی دونوں کتابیں پیش کرنے کی درخواست کی تو انہوں نے ہماری درخواست کو شرف قبولیت بخشا۔ ڈاکٹر فراقی نے اپنے اسٹاف میں سے کسی کو بلا کر فوٹو بنوائیں۔میں نے شعیب بن عزیز سے دریافت کیا کہ ان کی اگلی منزل کونسی ہے؟ جس پر اس عظیم انسان نے انسان دوستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پوچھ لیا کہ آپ نے کس طرف جانا ہے وہ آپکو وہاں چھوڑ دیں گے۔ چنانچہ انہوں نے ہمیں اپنے ساتھ گاڑی کی پچھلی نشست پر بٹھایا اور چائینہ چوک میں حمید نظامی پریس انسٹیٹیوٹ کے باہر چھوڑ دیا اور گاڑی سے اتر کر ہم سے رخصت چاہی۔
حمید نظامی پریس انسٹیٹیوٹ کے باہر ہمارے درینہ دوست نذر عباس بھنڈر ہمارے منتظر تھے،ان کے ہمرا ایک اور عظیم انسان ابصار عبدالعلی سے ملاقات طے تھی۔ لڑکپن میں پاکستان ٹیلی ویژن پر رات کے خبرنامہ اور دن کو وقتا فوقتا ان کی زبانی خبریں سنا کرتے تھے۔ ان کے آفس میں داخل ہوئے تو انہوں نے اپنی نشست سے اٹھ کر ہمیں خوش آمدید کہا۔یہاں بھی ماضی حال مستقبل کی ڈھیروں باتیں ہوئیں، ان سے ان کے ادارے کی غرض و غایت معلوم کی تو انہوں نے اپنے مخصوص انداز و لہجے میں بتایا کہ یہاں نوجوان صحافیوں کو جدید دور کے تقاضوں کی ضروریات ،ان کے فرائض و ذمہ داریوں سے متعلق آگاہی فراہم کی جاتی ہے۔ اور بھی بہت کچھ بتایا جن سے ہماری معلومات میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ہم نے اپنی کتاب ابصار صاحب کو بھی پیش کی ،کچھ دیر کتاب کی اوراق گردانی کرتے رہے ،پھر ’’شاباش دی۔ وقت کی قدر کا احساس کرتے ہوئے اور ابصار صاحب کی مصروفیات کے پیش نظران سے اجازت چاہی۔ابصار عبدالعلی کی صحبت سے اٹھنے کو جی نہیں کرتا تھا لیکن بقول ابن انشا ’’ انشاء جی اٹھو اب کوچ کرو‘‘رخصت ہونا پرا۔ ابصار صاحب کے آفس سے باہر نکلتے وقت ہم سوچ رہے تھے کہ ’’کیسے کیسے لوگ‘‘ اب بھی موجود ہیں جہاں میں۔جو اپنی ذات میں ایک انجمن ہیں ،ایک مکمل اکیڈمی ہیں۔خدا انہیں سلامت رکھے اور پاکستان،ملت اسلامیہ کی راہنمائی کرتے رہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY