کولمبیا کے صدر جان مینیوئل سنٹوس نے امن کا نوبیل انعام وصول کرتے ہوئے اسے اپنے ملک میں پانچ دہائیوں سے جاری خانہ جنگی ختم کروانے میں اپنی کوششوں پر “جنت سے آیا تحفہ” قرار دیا ہے۔

ہفتہ کو ناروے کے شہر اوسلو کے سٹی ہال میں نوبیل انعام دیے جانے کی تقریب سے خطاب میں انھوں نے کہا کہ “(باغیوں کے ساتھ ) اس معاہدے سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ براعظم امریکہ۔۔الاسکا سے پاٹاگونیا تک۔۔ امن کی جگہ ہے۔”

سنٹون کو یہ انعام کولمبیا کی حکومت اور بائیں بازو کے متحارب باغی اتحاد “ریولوشن آرمڈ فورسز آف کولمبیا” (فارک) کے ساتھ معاہدے کے لیے کی گئی کوششوں پر دیا گیا۔

منشیات اور اغوا برائے تاوان سے حاصل ہونے والے وسائل کی بنیاد پر چلنے والی باغی سرگرمیوں کے باعث ہزاروں افراد کو اپنی جان گنوانا پڑی تھی۔

انعام وصول کرنے کے بعد اپنی تقریر میں سنٹوس نے اسے اپنے ہم وطنوں خصوصاً خانہ جنگی میں مارے جانے والے 22 ہزار لوگوں کے نام کرتے ہوئے کہا کہ معاہدہ جنگ کے شکار دیگر ملکوں کے لیے ایک نمونہ ہے۔

“یہ ثابت کرتا ہے کہ پہلے پہل ناممکن نظر آنے والے معاملات کو ہمت کے ساتھ ممکن بنایا جا سکتا ہے یہاں تک یہ شام، یمن یا جنوبی سوڈان میں بھی (کامیاب ہوسکتا ہے)۔”

اس تقریب میں طبیعیات، کیمیا، طب، ادب اور اقتصادیات کے شعبے میں بھی نوبیل انعام حاصل کرنے والوں کو یہ اعزاز دیا گیا۔

رواں سال ادب کا نوبیل انعام امریکی نغمہ نگار اور موسیقار باب ڈیلن کو دیا گیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY