پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کیلئے رکن قومی اسمبلی خورشید شاہ نوڈیرو میں بھٹو ہاؤس پہنچے۔

لاڑکانہ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق پارٹی چیئرمین نے خورشید شاہ کو ضمانت کے بعد جیل سے رہائی پر مبارک باد دی۔ اس موقع پر بلاول بھٹو نے خورشید شاہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی ثابت قدمی اور اصولوں پر ڈٹے رہنا قابل ستائش ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ نیب کا ادارہ عمران خان کی بی ٹیم ہے، جس کا مقصد اپوزیشن کی آواز کو دبانا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ احتساب کی آڑ میں سیاسی انتقام پر مبنی کارروائیاں ملک میں انتشار کو جنم دے رہی ہیں۔

………………………

پیپلزپارٹی کے دو سال سے اسیر رہنما خورشید شاہ کو سینٹرل جیل سے رہا کردیا گیا۔

خیال رہے کہ خورشید شاہ آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس میں 25 ماہ سے قید میں تھے، انہیں نیب نے 2019 میں اسلام آباد سے گرفتار کیا تھا۔

دو روز قبل سپریم کورٹ نے خورشید شاہ کی ضمانت پر رہائی کے احکامات جاری کیے تھے جس کے بعد پی پی رہنما کے بیٹے نے عدالتی حکم پر ایک کروڑ کےضمانتی مچلکے احتساب عدالت میں جمع کرائے۔

پیپلز پارٹی کےکارکنوں نے سکھر میں جیل کے باہر خورشید شاہ کا استقبال کیا، خورشید شاہ کارکنوں کے قافلے کے ہمراہ رہائش گاہ روانہ ہوئے۔

سابق اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کو سینٹرل جیل سےکاغذات ضمانت پر دستخط کرنےکے لیے احتساب عدالت پہنچایا گیا جہاں عدالت نے سپریم کورٹ کےآرڈر کی تصدیق کے بعد خورشید شاہ کی رہائی کے احکامات جاری کیے۔

………………….

21 Oct 2021

سپریم کورٹ نے پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ کی ضمانت منظور کرلی۔

سندھ ہائیکورٹ نے پی پی رہنما خورشید شاہ کی ضمانت کو مسترد کیا تھا جسے انہوں نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

سپریم کورٹ نے سابق اپوزیشن لیڈر کی ایک کروڑ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی ہے۔

دورانِ سماعت نیب نے استدعا کی خورشید شاہ کا نام ای سی ایل میں رکھا جائے جس پر عدالت نے ان کا نام ای سی ایل میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔

سپریم کورٹ کے جج جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ نیب تحقیقات کرے لیکن خورشید شاہ کوجیل میں مستقل نہ رکھاجائے۔

واضح رہےکہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے پی پی رہنما خور شید شاہ کو آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں 18 ستمبر 2019 کو گرفتار کیا تھا اور ان پر آمدن سے زائد اثاثوں کا الزام ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY