ایوان بالا میں قائمہ کمیٹیوں کے معاملہ پر پی ٹی آئی اور حکومتی ارکان میں شدید اختلاف پیدا ہوگیا، چیئرمین سینیٹ نے پی ٹی آئی اور حکومتی ارکان سے کہا کہ قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف مل کر قائمہ کمیٹیوں پر معاملات طےکریں گے۔

اسلام آباد میں چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی زیرصدارت اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے سینیٹر اور حکومتی ارکان کے درمیان ایوان بالا میں قائمہ کمیٹیوں کے معاملہ پر شدید گرما گرمی ہوگئی۔

پی ٹی آئی سینیٹر شبلی فراز نے اپنی گفتگو میں کہا کہ قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف بیٹھ کر باتیں طے کرتے ہیں، ہماری ایک ہی میٹنگ ہوئی جو جلد بازی میں تھی، میں نے اس میٹنگ میں خاکہ پیش کیا،میں نے قائد ایوان سے کہا کمیٹیوں کا فارمولا طے کر لیتے ہیں، قائد ایوان کہنے لگے اپ نئی روایت قائم کر رہے ،میں نے کہا کہ نہیں ہم اسے لے کر چلنا چاہتے ہیں۔

سینیٹر شبلی فراز کااپنی گفتگو میں کہنا تھا کہ حکومتی ارکان کونہیں معلوم 2 ماہ بعد آپ یہاں بیٹھے بھی ہوں گے یا نہیں، کل رات تک کمیٹیوں کے قیام کی کسی کو خبر بھی نہیں تھی، قائمہ کمیٹیوں کے حوالے سے پارلیمانی روایات کو مدنظر رکھا جائے۔

پی ٹی آئی رہنماء کا مزید کہنا تھا کہ ہم قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی چیئرمین شپ میں دلچسپی رکھتے تھے، اگر انتخابات کرانےہیں تو پھر اپوزیشن تمام قائمہ کمیٹیز کا انتخاب ہار جائےگی، قائمہ کمیٹیز کی تشکیل اور چیئرمین شپ سے متعلق چیئرمین سینیٹ اپنا کردار ادا کریں۔

وفاقی وزیرقانون اعظم نذیرتارڑ کا سینیٹ کے اجلاس میں کہنا تھا کہ ہمارےمعصوم رہنماء عرفان صدیقی کو کرایہ داری ایکٹ میں گرفتار کیا گیا، تمام سیاسی جماعتوں کو عددی تناسب کے مطابق قائمہ کمیٹیاں ملیں گی، آج ملک کو سیاسی مفاہمت اور بیٹھ کرمعاملات حل کرنے کی ضرورت ہے، مفاہمت سے چلیں گے تو مسئلے حل ہوں گے۔

پی ٹی آئی اور حکومتی ارکان کے اختلاف پر چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ میں نے قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل کا پراسس نہیں روکا، قائدایوان اور قائد حزب اختلاف مل کر قائمہ کمیٹیوں پر معاملات طےکریں۔

SHARE

LEAVE A REPLY