وقت آگیا ہے کہ امریکہ کی طویل ترین جنگ ختم کرکے اپنے فوجیوں کو واپس لایا جائے’

0
841

امریکہ کے صدر جو بائیڈن آج واشنگٹن ڈی سی کے وقت کے مطابق دوپہر دو بج کر تیس منٹ پر امریکی قوم سے خطاب کر رہے ہیں۔ جس کا مقصد افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاٗ کا اعلان کرنا ہے۔

صدر بائیڈن نے اپنے خطاب میں کہا کہ گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کو ہونے والے حملے اس بات کی توجیح نہیں کہ امریکی افواج کو بیس سال بعد بھی افغانستان میں رہنا چاہئیے ۔

بائیڈن کی تقریر کے مطابق، “اب وقت آ گیا ہے کہ امریکی افواج کو ملک کی سب سے طویل لڑی جانے والی جنگ سے واپس بلایا جائے”، اور یہ کہ امریکہ مسلسل غیر نتیجہ خیز جنگ میں اپنے وسائل نہیں جھونک سکتا، کجا یہ کہ اس کے مختلف نتائج کی توقع بھی کی جائے۔

صدر بائیڈن نے کہا کہ،”امریکہ افغانستان سے انخلا کے لیے مثالی حالات پیدا کرنے کی امید میں اپنی فوجی موجودگی کو مزید بڑھا نہیں سکتا”۔

ان کا کہنا تھا کہ،” میں افغانستان میں امریکی افواج کی موجودگی کی نگرانی کرنے والا چوتھا امریکی صدر ہوں، اس سے پہلے دو ری پبلکن اور دو ڈیموکریٹک صدر افغانستان کی جنگ کے خاتمے کی کوششیں کر چکے ہیں۔ اور اب یہ ذمہ داری پانچویں صدر کے پاس نہیں جانی چاہئے”۔

صدر بائیڈن نے اعلان کیا کہ انہوں نے اتحادیوں، فوجی لیڈروں، قانون سازوں اور نائب صدر کاملا ہیرس سے مشاورت کے بعد اس سال گیارہ ستمبر کو، امریکہ پر بیس سال پہلے ہونے والے دہشت گرد حملے کے بیس سال بعد، افغانستان سے اپنی افواج کے انخلا کا فیصلہ کیا ہے۔

صدر بائیڈن نے زور دے کر کہا کہ اُن کی انتظامیہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان قیامِ امن سے متعلق بات چیت اور افغان فوج کی تربیت کے لیے بین الاقوامی سطح پر کی جانے والی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گی۔

صدر جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ افغانستان میں 20 برس سے جاری جنگ کا خاتمہ امریکہ کے مفاد میں ہے۔

وائس آف امریکہ کے نمائندے سٹیو ہرمن کی رپورٹ کے مطابق، بائیڈن انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا ہے کہ افغانستان سے افواج کی واپسی اس وقت عالمی سطح پر درپیش ان مسائل پر نظر رکھنے کے لیے ناگزیر ہے ، جن کا سامنا امریکہ کو دو دہائیوں قبل نہیں تھا۔

عہدیدار کا کہنا تھا کہ انتظامیہ سمجھتی ہے کہ عسکری طاقت سے افغانستان کے اندرونی سیاسی چیلنجز پر قابو نہیں پایا جا سکتا اور اس سے افغانستان کے اندرونی تنازعات کا خاتمہ بھی ممکن نہیں۔ لہٰذا افغانستان میں فوجی آپریشنز ختم کرنے کے بعد ساری توجہ سفارتی سطح پر امن مذاکرات کی کوششوں کی حمایت پر ہو گی۔”

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین ساکی نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو کے دوران صدر بائیڈن کے افغانستان سے افواج کے انخلا کے منصوبے کی تصدیق کی تھی۔ ان کے کہنا تھا کہ صدر بائیڈن کا خیال ہے کہ امریکہ، طویل عرصے سے افغانستان میں موجود ہے، اور افغان مسئلے کا کوئی عسکری حل نہیں ہے۔

امریکہ کی سابق انتظامیہ اور طالبان کے درمیان گزشتہ برس ہونے والے امن معاہدے کے تحت تمام غیر ملکی افواج کے افغانستان سے نکلنے کی حتمی تاریخ یکم مئی مقرر کی گئی تھی۔ تاہم صدر بائیڈن کے اس منصوبے کے تحت افغانستان میں موجود امریکہ کے تین ہزار فوجی یکم مئی کی ڈیڈ لائن کے بعد بھی وہاں موجود رہیں گے۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں طالبان کے ساتھ امن معاہدہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہوا تھا جس کے تحت طالبان نے غیر ملکی افواج کو نشانہ نہ بنانے اور بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں سے روابط نہ رکھنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

SHARE

LEAVE A REPLY