آج سے کچھ عرصے قبل کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا، وہ ملک جہاں دنیا بھر میں خانہ جنگیوں سے اکتائے ہوئے، مذہبی اور فرقے وارانہ تعصبانہ رویوں، ملکی قانون اور ریاستی جبر و تششد کے شکار اور ستائے افراد آزاد فضا میں سکھ کا سانس لے پاتے تھے، وہ ہی ملک ان کے لیے جائے پناہ کے بجائے نفرتوں کا عفریت بن جائیگا۔ دو دن پیشتر شام سے آنے والے پناہ گزیں بچوں، عورتوں اور مردوں کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم نامے کے تحت نیویارک کے ہوائی اڈے پر روک دیا گیا شام ان سات ملکوں میں شامل ہے جن کے شہریوں پر امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ دوسرے چھ ملک ایران، عراق، صومالیہ، لیبیا، یمن اور سوڈان ہیں۔

anti trump london1

ٹرمپ کے اس فیصلے کے خلا ف امریکہ کی تمام ریاستوں میں اور یورپی ملکوں میں تشویش، مخالفت اور احتجاج کی ایک لہر دوڑ گئی ہے، جس میں اس متنازعہ فیصلے کو نسلی طور پر متعصبانہ اور انسانی حقوق کی صریحاً خلاف ورزی قرار دیا جارہا ہے ۔ نیویارک میں ہزاروں مظاہرین اور کئی ایک سیاسی رہنما اس ایر پورٹ کے سامنے گھنٹوں تارکین کی حمایت میں آواز اٹھاتے رہے، جہاں پناہ گزینوں کو باہر نکلنے سے روک دیا گیا تھا۔

احتجاج کے لیے سوشل میڈیا کو بھی استعمال کیا جارہا ہے، فیصلے کے خلاف پیٹیشن پر دستخط کرنے والوں کی تعداد پندرہ لا کھ سے تجاوز کرچکی ہے۔

خود امریکہ میں ہی انسانی حقوق کی ایک تنظیم ’ دی امریکن سول لبریشن یونٹ (اے سی ایل یو) نے اس فیصلے کےخلاف نیویارک کی مقامی عدالت میں اس پابندی کے خلاف دائر کی جس پر عدالت نے فوراً حکم سناتے ہوئے صدر کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے پرعارضی پابندی عائد کردی ہے۔

عوامی سطح پر اٹھنے والی پرزور احتجاجی آواز میں کئی ملکوں کے عالمی رہنماؤں کی آوازیں بھی شامل ہیں، جن میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

سب سے پہلے کینڈا کے وزیر اغطم نے فوراً ہی اپنے ملک کے دروازے پناہ گزینوں کے لیے کھولتے ہوئے ایک ٹوئیٹ کے ذریعےً شام سے آنے والوں کو کینڈا آنے کی دعوت دی ہے۔ برطا نیہ میں حزب اختلاف کے رہنما لیبر پارٹی کے سربراہ جرمی کوربن نے کہا ہے کہ وہ مسٹر ٹرمپ جیسے لیڈر کا برطانیہ میں استقبال کرنے کو تیار نہیں۔ انھوں نے اپنی حکومت پر زور دیا ہے کہ مسٹر ٹرمپ کے سرکاری دورے کو منسوخ کیا جائے۔ واضح رہے کہ ابھی گزشتہ ہفتے ہی برطانوی وزیر اعظم ٹریسا مے اور امریکی صدر کے درمیان تعلقات میں بڑی گرمجوشی اور قربت کا مظاہر ہ کیا گیا تھا اور صدر ٹرمپ کو برطانیہ آنے کی دعوت دی تھی۔ برطانوی وزیر اعظم نے ابتدا میں ٹرمپ کی سفری پابندیوں کی پالیسی پر تبصرہ کرنے سے گریز کرنے کی بہت کوشش کی اور کہا امریکہ کی اپنی پالیسی ہے اور برطانیہ کی اپنی، لیکن بعد ان پر سیاسی اور عوامی دباؤ اتنا بڑھاکہ انھیں اپنا سابقہ موقف تبدیل کرتے ہوئے کہنا پڑا کہ وہ پناہ گزینوں کے بارے میں صدر ٹرمپ کی پالیسی سے اتفاق نہیں رکھتی۔کئی یورپی ملکوں کے رہنماؤں نے اس پالیسی کو غیر اخلاقی، غیر انسانی ، شرمناک اور ظالمانہ قرار دیا۔

جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل نے تو خاص طور پر مسٹر ٹرمپ سے ٹیلی فون پر گفتگو کرکے انھوں یہ بھی باور کرایا کہ جو کچھ وہ کررہے ہیں، درست نہیں، بلکہ غیر منطقی اور بین الاقوامی قانون کے منافی ہے۔

anti trump london2

امریکی اور یورپی عوام مسلسل سٹرکوں پر ہیں، برطانیہ کے کئی شہروں اور لندن میں وزیر اعظم کی سرکاری رہائش گاہ کے سامنے سول سو سائیٹی کا ایک بڑا مظاہرہ پیر کے روز بھی رات گئے تک جاری رہا۔ سوچنے کی بات ہے انھیں کیا پڑی ہے یہ سب کچھ کرنے کی، جبکہ یہ معاملہ ان کے اپنے ملکوں ، اپنے شہریوں، اپنے سیاسی مفادات کا ہے بھی نہیں۔

مگر کیا یہ ستم ظریفی نہیں کہ احتجاج کی اس بازگشت میں اگر کسی آواز کی شدت سے کمی محسوس کی جارہی ہے تو وہ خود ڈیڑھ ارب افراد پر مشتمل مسلمان ملکوں کی آواز ہے۔ سوائے ایران اور عراقی پارلیمان کے پابندی لگائے جانے والے باقی ملکوں اورنہ ہی پچاس سے زیادہ ملکوں میں سے کسی نے اس نسل پرست پالیسی پر کوئی تشویش، کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ۔ خصوصاً مشرق وسطیٰ کے  سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات جیسے امیر ممالک، جہاں خاصی تعداد میں امریکی موجود ہیں، اور ترکی اور پاکستان جیسے جمہوری ملکوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ سیاسی ایوانوں میں بھی اور عوامی سطح پر عجب سی ایسی بے حسی اور لاتعلقی نظر آئی۔ جیسے اس خوف سے خاموش ہوں کہ کہیں اس فہرست میں ان کا نام بھی شامل نہ ہوجائے۔

کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف اگر سب نہیں تو کم از کم کچھ مسلمان ملک ہی یورپی رہنماؤں کے ساتھ اپنی آواز ملاتے، تاکہ ٹرمپ آئیندہ کوئی فیصلہ کرتے ہوئے سوچتے۔ مگر جہاں مغربی ملکوں میں احتجاجی مظاہرے ان ملکوں میں جمہوری، سیاسی شعور اور انسانی حقوق کی پاسداری کے عکاس ہیں۔

وہیں مسلمان ملکوں کی خاموشی نہ صرف افسوناک اور باعث ندامت ہے ، بلکہ ان ملکوں کی قیادت میں سیاسی اور ذہنی ناپختگی کا واضح ثبوت بھی۔

ماہ پارہ صفدر

SHARE

LEAVE A REPLY