وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) پر کام کرنے والے چینی سرمایہ کاروں اور کنٹریکٹرز کے ویزا کیسز پر کارروائی سمیت ان کو درپیش مسائل کو فوری طور پر دور کرنے پر زور دیا ہے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سی پیک اتھارٹی کے دفاتر کے دورے کے دوران وزیر نے متعلقہ حکام کو ایک ڈھانچہ تیار کرنے کی بھی ہدایت کی تاکہ سی پیک اتھارٹی کو کو ختم کر کے اسے وزارت منصوبہ بندی اور ترقی میں ضم کیا جا سکے کیونکہ یہ مختلف وزارتوں کے قواعد و ضوابط سے متصادم ہے۔
احسن اقبال نے ڈان کو بتایا کہ سی پیک ا.تھارٹی غیر فعال ہے اور اس سلسلے میں وزارتوں کے کردار سے متصادم ہے، کاروبار کے قواعد کے تحت سی پیک کی پالیسیوں اور منصوبوں کے نفاذ میں وزارتوں کا بنیادی کردار تھا لیکن ایک متوازی تنظیم کے قیام نے صرف کام نقل ہوا اور کوئی اس کی ذمے داری بھی نہیں لیتا۔












