عقل والو زرا سوچو ۔ احمد وقاص

0
963

حماس کا,ایک بھی میزائیل لیزر گائیڈڈ نہی تھا سب کے سب سکڈ یا راکٹ کی طرح کے کم رینج والے دیسی میزائل تھے جو کہ سب فضا میں تباہ کر دئے گئے
اسرائیل کے تمام میزائیل کنٹرولڈ اور ایکوریٹ تھے اور اسکا تھاڈ اور آرن ڈوم سسٹم دنیا کے لئے حیران کن تھا۔
یہودی مرتے کسی نے نہی دیکھے۔ نہتے فلسطینی مسلمانوں کی نعشیں بھی جل کٹ گئیں۔
ایک طرف دنیا کی جدید ٹیکنالوجی کے ہتھیار اور دوسری طرف نہتھے مسلمان (سوائے چند جہادی تنظیمات کے ج کا کردار بھی کچھ جگہ مشکوک نظر آتا ہے یا بنا دیا جاتا ہے) جن کے پاس سوائے کلمہ شہادت کے کچھ نہ تھا ۔ جبکہ دوسری جانب بیشتر مسلم ممالک کے پاس بری بحری اور فضائی قوت کاانبار ہے۔ جب ایک مسلمان دوسرے مرتے کٹتے مسلمان کے کام نا آیا تو کیا,فائدہ ایسے ہتھیاروں کا جنکو چلا بھی نہ سکیں تف ہے ایسے بارود پر جب بہنوں کی عزتیں لٹتی رہیں اور بھائی مرد مجاہد بنے بارودوں کی حفاظت کرتے رہیں۔ اسرائیل سے سیکھا جائے بارود کیسے چلاتے ہیں۔جان لیں لاتوں کے بھوت باتوں سے نہی مانتے۔ جسطرح اسرائیل نے ماضی میں چند مسلمان ممالک کی فضایہ اور ایٹمی پلانٹ تباہ کئے تھے ویسے ہی حملے کی ہمت اور اسلحہ ہو تو بات بنتی ہے۔
تمام میڈیا کی ہیپوکریسی اور جانبداری پر ہزار بار ۔۔۔۔ جب خود میڈیا تک محفوظ نہی اس دہشتگردی سے تو سویلین کیسے محفوظ ہونگے۔
اب جو ہم نے دیکھا یہ سب کچھ ایک وار اکانومی کا,حصہ ہے امریکہ اور برطانیہ نے اپنا اسلحہ بیچ لیا اسرائیل نے اپنے میزائیلوں کا ڈیمو دے دیا دنیا کو۔ مرا کون صرف مسلمان معیشت کسی تباہ ہوئی صرف مسلمان کی۔
ہمیں کیا چاہیے
ہمیں آرٹیفشل انٹیلیجنس کی تعلیم چاہیے ۔ ریسرچ ادارے چاہیں۔ ہمیں جدید سیٹلائیٹ چاہیے۔ ہمیں اینٹی میزائیل ٹیکنالوجی چاہیے۔ ہمیں جدید فضایہ کے جہاز خود بنانے ہیں۔ ہمیں اتنا ایڈوانس ہونا ہے کہ امریکہ ہم سے پوچھے یار دسیں فلاں ماڈل کیسے بنایا۔ ہمیں سائنس سیکھنی ہے۔ حتاکہ وہ سب کچھ جو مغرب و امریکہ اور یہود اپنے لئے بنا رہے ہیں۔ وہ سب کچھ ہمیں بھی بنانا ہے۔ جسکے لئے تعلیم یافتہ قوم چاہیے۔ تعلیم یافتہ قوم کیسے بنے گی؟
صرف سکول کالج یونیورسٹی ترقی نہی دیں گے اور صرف مزہبی تعلیم ترقی نہی دے گی۔ علم کے حصول کے لئے چین جانا پڑے تو وہاں بھی جاو مطلب اس زمانے کے سب سے دور علاقے کا نام لیا گیا حدیث مبارکہ میں ہمارے آخری نبی زماں ﷺ کی جانب سے۔ اور ایک جگہ تو یہ بھی حکم ہے تلوار اور گھوڑے ہمیشہ تیار رکھو۔
مدرسہ یونیورسٹی جب تک چلا مسلم دنیا عروج پر رہی جب یہ سلسلہ ٹوٹہ مسلم قوم کا شیرازہ بکھر گیا۔
ہم کیا سے کیا ہوگئے۔۔۔ یہود نثارہ ہمارے دوست نہی ہونگے سواۓ اپنے مطلب تک ہمیں مارنے کے لئے ہمارا,مسلمان ہونا کافی ہے کافر کا میزائیل فرقہ نہی پوچھتا۔
اللہ ہمیں نبی آخر و ذماں حضرت محمدﷺ کے راستوں پر تقوی کے ساتھ چلنے اور آپکی زات اقدس پر کامل ایمان اور ختم نبوت پر یقین محکم کی توفیق عطا فرمائے۔
احمد وقاص

SHARE

LEAVE A REPLY