اے میری ملت کے جوان ۔ ۔ ۔

0
916

اے میری ملت کے جوان ۔ ۔ ۔

تیری زمین بہت زرخیز ہے ۔ ۔ ۔
اس چمن کا گل لالہ بہت سرخ اور گہرا ہے ۔ ۔ ۔اسکی سرخی ماند نہیں پڑی ۔ ۔ ۔

کہ اس گل لالہ کی آگ کو تیز کرنے کے واسطے اسکی رگوں میں اسکی بنیادوں میں، اسکی روح اور اسکی فضاوں میں اقبال رح کے پاکیزہ گیت، نغمے، نظمیں، کلام، ادب، افکار، موجود ہیں جو اس سرخ گل لالہ کی آگ کو مزید تیز کرتے ہیں کہ اگر آج اس ملت، قوم و جوان کی روح کو اسکے قلب کو یہ گیت، یہ نغمیں یہ آرزو اقبال چھو جائے کہ یہ موجود نسل انکی آرزو کو درک کر پائے، یہ انکے کلام کی مخاطب بن پائے تو اس کے عشق اسکے زوق اور اسکے بصیرت کو وہ پرواز مل جائے گی اور وہ جد اور جہد اسکی روح کو مل جائے گی کے جس کے بعد کوئی طاقت اس ملت کو ملت بننے سے اور اس قوم کو قوم بننے اور اس دنیا کو امن اور سلامتی سے بھرنے سے نہ روک پائے گا ۔ ۔ ۔

مگر اے میری ملت کے جوان تجھے تیرا خسارہ ہی معلوم نہیں کہ تجھ سے ایسا غزل سرا، ایسا موزن ایسا پیغام رسانی کرنیوالا نہ صرف چھین لیا گیا ہے بلکہ فکروں کے انتشار کے ساتھ ساتھ حق ۔ ۔ ۔اور حقیقت کو ہی چھین لیا گیا ہے ۔ ۔ ۔

اے میری ملت کے جوان تو زرا غور تو کر کے تیرے ساتھ ہو کیا رہا ہے ۔ ۔ ۔
کہ آج ہر زبان، روح و قلب، زہن، فکر، عمل حقیقت کی نسبت فسانوں اور تخیلات کے دلدادہ ہیں ۔ ۔ ۔کہ آج کے وجود کو زائقہ لگ چکا ہے فریب کو سچ اور حقیقت سمجھنے کا اور حقیقت کو کسی اور جہاں کی شے سمجھنے کی لت پڑ چکی ہے کہ جن نگاہوں کو دور اندیشی اور بصیرت کے نور سے سجا ہونا چاہییے تھا وہ زرق برق رنگوں، محفلوں اور شباب و کباب کی اسیر کر دی گئ ہے، جہاں مساجد اور عبادت گاہوں کو تو سجادیا گیا ہے مگر روحیں اور قلب اندھیروں اور ظلمتوں میں گھر چکی ہے ۔ ۔ ۔

کہ آج قرآنی فکر دینے والے کی فکر صرف قوال، غزل سرا یا صابن بیچنے کی کمپنیاں ہی زندہ رکھے ہوئے ہیں ورنہ یہ فکر ہر طرف متروک اور طلسماتی خواب تصور ہوتی ہے جبکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ تو حقیقت کے سفر کو اختیار کرتا اور فریب کے ہر فتنہ و وبال کو اپنی بصیرت، دانش، فہم و فراست کے نور سے چاک کر دیتا کہ

آج سچ کو بتانے کے لیے وہ روح و قلب تلاش کرنا پڑتے ہیں کہ جنکی فکروں، عقلوں، روحوں کو ڈھونڈنا پڑتا ہے جو سچائی کے زائقے، سچ اور حقیقت کی روح سے واقف ہوں ۔ ۔ ۔

ورنہ فریب تو پل میں قبول کر لیا جاتا ہے اور سچ اپنے منہ پہ چادر اوڑھے کہیں چھپ کہ بیٹھ جاتا ہے ۔ ۔ ۔

کہ آج اقبال رح کو پڑھ کر بھی انکی فکر انکے درد انکے کرب اور انکے بتائے پیغام کی روح کو لیا ہی نہیں اور انکا تعارف بھی غیروں سے یا کم فہموں سے کروایا جاتا ہے ۔ ۔ ۔

سینکڑوں چینلز دین، مزہب، اینٹرٹینمنٹ کے نام پہ اس ملک اور ملت اسلامیہ میں کھلے ہیں مگر کوئی ایک ایسا ہے جو فکر اقبال کو اس سچائی اور اس روح سے بیان کرنے پہ وقف ہو جہاں صرف اس گوہر کے آفاقی کلام کو اسی کی فکر اور روح کیساتھ بیان کی جانے کی جہد کی جاتی ہو ۔ ۔ ۔

اور کتنے مخاطبین ملینگے اس چینل کو، اس کلام اس فکر کو اور کتنے ہونگے جو حقیقت کو حقیقت کر دکھانے کی طاقت رکھتے ہونگے ۔ ۔ ۔

فکر اقبال رح کو اسطرح سے اس قوم و ملت کی جڑوں سے نکالا گیا ہے کہ اس قوم کو اپنے اس عظیم نقصان کی نہ تکلیف ہوتی ہے نہ ازیت نہ چوٹ پہنچتی ہے نہ ہی حتی ایک خراش تک بھی اس ملت و قوم کی روح پہ آتی ہے کہ جب کوئی بھی قوم فکر سے محروم کر دی جائے تو پھر تباہی ہر صورت ہی اس کا مقدر ہوتی ہے جو کہ آج ہم بخوبی دیکھ سکتے ہیں ۔ ۔ ۔

سوائے مسلمان، مومن، مرد حر، مرد آفاقی یا پاکستانی ہونے سے کہیں زیادہ ہم انگریز ہونے، ہندوانہ، انگریزی اور اغیار کے رسومات اور انکے رہن سہن انکے زبان افکار کو تسبیح کی طرح پڑھ پڑھ کر اختیار کرنے جو تو تیار ہیں ۔ ۔ ۔

لیکن اپنی الہی تہزیب، افکار، زبان، اصولوں اور قوانین کی روح کو سمجھنے اور شعوری طور سے انکو احیاء کرنے سے گریزاں دکھائی دیتے ہیں کہ اج

پاکستان کے جس گھر کو دیکھ لیجیے انگریز بننا، اسکی زبان، لباس، ریسینٹ فلمی، ڈرامائی اور افسانوی ٹرینڈز، جملے اور افکار کو اختیار کرنا ہم اپنا فخر سمجھتے ہیں اور حتی جن ماوں کی چادروں کی کچھ دہائیاں پہلے ایک عزت تقدس اور احترام ہوا کرتا تھا آج وہ چادریں ہر سمت سے اتار کے پھینکی جا چکی ہیں ۔ ۔ ۔

اور زبان ہو یا تہزیب ہم غربی، ہندی، یا کسی کی بھی اپنانے کو تو فخر سمجھتے ہیں اپنی اپنانے کو باعث زلت و شرمندگی سمجھتے ہیں آخر اپنی ہر ایک شے سے اتنی بیزاری، دوری، بیگانگی کیوں کر ۔ ۔ ۔؟

کیا ترقی اور خوشحالی کا مطلب اپنے گھر کی تہزیب، زبان، افکار چھوڑ کر دوسرے کی گھر کی زبان، اصول، افکار، اختیار کرنا ہیں؟

اے میری ملت کے جوان کچھ ہوش کر اپنی فکر کی اصلاح کر اسکی محافظت کر، اس کو الہی اصولوں سے انکی روح اور فلسفے کی ساتھ سمجھو، حقیقت کو حقیقت کیساتھ شفاف روح سے سیکھنا پڑے گا نہ فسانوں کی بنیاد پہ حقیقت کو دیکھا جائے کہ تخیلاتی اور حقیقی نگاہ اور ہے ۔ ۔ ۔

عقیدت کی بنیاد پہ عقیدت، رسم ہے، رواج ہے، آبائ افکار ہیں اور حقیقت کی بنیاد پہ عقیدت کا سفر اور ہے یہاں نور روشنی، بدلاو کی روح بالکل الگ ہے ۔ ۔ ۔

اقبال کا مرد آفاقی وہ بصیرت، شجاعت، فکر، عمل، جد، جہد، کامیابی کی مکمل اڑان رکھتا ہے جبکہ عقیدتوں اور رسموں کا مرد آفاقی صرف تحریر بن کے صفحے پر ہی بنتا اور وہیں مرجاتا ہے کہ اسکے پاس نہ یقین ہے، نہ زوق پرواز نہ ہی گل لالہ کی مانند سرخ و تیز آگ کی مانند کوئی بھی خواب و تحریک ہے اس میں کہ یہ تو جینا سیکھنے سے پہلے ہی زندگی کے اوصاف کھو چکا ہے ۔ ۔ ۔

اے میری ملت کے جوان ۔ ۔ ۔

تو نے اپنے زرخیز وجود کی زرخیزی کو بنجر کر دیا ہے تو نے اس زمین کو کہ جہاں کھیت کھلیان باغ و گلستان دجناں تھے وہاں جھاڑیوں، موسمی خود رو جڑی بوٹیوں کے حوالے کر رکھا ہے، تیری زمین زرخیز ہے، تیرے پاس ہر وصف ہے بس جرات فیصلہ، ھدف کی درست شناخت، عمل کی جہد، محنت و جستجو نہیں ہے ۔ ۔ ۔

فائزہ عباس

SHARE

LEAVE A REPLY