گدی نشین اور کہیں دربار کھا گئے،ابو آمنہ قيصر مظفر

0
215

دربار مزار مقبرے یوں تو مسلمانوں کیلۓ متبرک مقامات کی حیثیت رکھتےہیں کیونکہ یہاں بزرگان دیں اولیاء اللہ جیسی اعلٰی و برتر ہستیاں مدفون ہیں لیکن پاکستان میں ان مقدس جگہوں کو گورکھ دھندوں کا گڑھ بنادیا گیا ہے اس کی بنیادی وجہ کم علمی اور بے شعوری تو تھی ہی لیکن دوسری بڑی وجہ انتہائی خفیہ وزارت محکمہ اوقاف ہے جو ہمیشہ وڈیروں جاگیرداروں سیاست دانوں بدمعاشوں لٹیروں اور چند مخصوص مقتدر خائن ٹولوں کے تسلط میں رہی ہے

مدتیں ہو گئیں وطن عزیز میں بچپن سے دیکھتے آرہے ہیں کہ یہاں مزاروں درباروں پہ سالانہ عرس منانے کی آڑ میں میلوں ٹھیلوں کا اہتمام کیا جاتا ہے ناچ گانے پینا پلانا نشے اور دیگرغیر اخلاقی و غیر قانونی سرگرمیاں عروج پہ ہوتی ہیں لیکن مجال ہے کئی برسوں سے جاری ان گھناؤنے اقدام کو کسی نے روکنا تو دور کی بات کبھی ان قبیح رسومات و رواج کی کسی سرکاری و نجی محکمے و ادراے یا انسانیت کی بڑی علبردار این جی او نے مذمت تک کی ہو

بڑی اور اہم وجہ وہ ذریعہ آمدن ہے جو ان درباروں سے حاصل ہوتا ہے بشمول کالا دھن پیسوں منتوں مرادوں چڑھاوں سے بھرے صندوق و دیگر مالی فوائد ہیں جن پہ لاکھوں حرام خور پلتے ہیں۔۔۔ان میں نام نہاد پیڑ گدی نشین سجادہ نشین شاہ پھا افسر شاہی جاگیر دار سرمایہ دار سیاستدان نما بدیسی گورے شامل ہیں جن کے چولہے ان مزاروں درباروں اور آستانوں کی آمدنی سے گرم رہتے ہیں اور ہماری علم شعور اور توہمات پرستی کی ماری جاہل عوام یہاں جا کر اپنی جائز کمائی بھی لٹاتی ہے اور شرک کی مرتکب بھی ٹھہرتی ہے،،،یہ گورکھ دھندے نجانے کب بند ہوں گے

اللہ ہم سب کو دین اسلام کی سمجھ بوجھ عطا فرما اور جو ہدایت کے راستے سے ہٹ چکے انھیں راہ راست پہ لے آ بیشک تو ہے بہتر حکمت والا ہے،،

ابو آمنہ قيصر مظفر

SHARE

LEAVE A REPLY