علی ابن الحسین زین العابدین نے فرمایا۔۔ پانچواں حصہ،نگہت نسیم

0
887

خطبہ امام زین العابدین کا پانچواں حصہ

جب طویل مسافت کے بعد اسیران کربلا شام پہنچے تو انہیں دربار یزید میں پیش کیا گیا ۔ امام سید الساجدین زین العابدین نے یزید ملعون کے دربار میں اہل شام اور درباریوں سے خطاب کیا۔ اسی خطبہ کے آغاز میں اللہ سبحانہ تعالی کی تعریف کی پھر نسبت رسول پاک کی فضیلیت بیان فرمائی ۔۔۔۔۔۔ پھر انہوں نے اپنا تعارف بیان کیا ۔۔۔

تعارف سنتے ہی دربار میں لوگ پریشان ہو گئے اور بلند آواز میں رونے لگے ۔یزید کی گھبراہٹ دیدنی تھی اسے عوام میں انقلاب نظر آ رہا تھا جس میں اپنی حکومت ڈوبتی نظر آ رہی تھی ۔ اس نے ایکدم موزن کو ازان دینے کا حکم دیدیا ھالانکہ کسی نماز کو وقت نہیں تھا ۔ لیکن یزید نے یہ حکم خطبہ سجاد کو روکنے اور لوگوں کی توجہ بانٹنے کے لئے بے وقت ازان کا دیا تھا ۔۔

موزن نے ازان کہنی شروع کی
جیسے ہی موزن نے اللہ اکبر اللہ اکبر کہا
امام سجاد ع نے فرمایا
“بے شک خداوندِ عالم ہر شے سے بلند و بر تر ہے
آُس سے کوئی شے بھی بلند نہیں ہے “

موزن نے اشہدان الا الہٰ الا اللہ کہا
امام سجادع نے فرمایا
” میرا خون ۔۔ میرا گوشت ۔۔ میری ہڈیاں
میرے جسم کا روم روم اللہ تعالٰی کی بڑائی بیان کرتا ہے “

موزن نے اشہدان محمد الرسول اللہ کہا
امام سجادع نے یزید کی طرف رخ کر کے فرمایا
” اے یزید زرا یہ تو بتا
یہ محمد رسول اللہ تمہارے جد ہیں یا ہمارے جدِ بزرگوار ہیں
اے یزید ۔۔۔ تو
اگر یہ کہے یہ میرے جد ہیں تو یہ بات جھوٹی ہے اور تو کافر ہے
اگر حق بات کہے کہ وہ میرے جدِ بزرگوار ہیں
تو پھر ۔۔ کیوں
تو نے اُن کی عترت کو اسیر کیا
تو نے انہیں در بدر پھرایا
تو نے کیوں انہیں قید میں ڈال رکھا ہے
کیوں ۔۔ ؟
( جاری ہے )

ڈاکٹر نگہت نسیم

(مضمون کی تیاری کے لئے نیٹ کے مضامین اور نہج البلاغہ سے مدد لی گئی
خصوصاً بیانِ خطبہ از ناسخ التواریخ ج ۲ صفحہ 167 ، طبع جدید زندگی حضرت سید الشہداء)

SHARE

LEAVE A REPLY