حقوق العباد (13) ۔۔۔از ۔۔۔۔شمس جیلانی

0
892

ہم پچھلے مضمون میں یہاں تک پہونچے تھے کہ پہلے یہاں ا سلام پر آپ خودعمل کرنا شروع کردیں جہاں پرعمل کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے اور وہ پہلی جگہ ہے آپکا اپنا گھر لہذا عمل نہ کرنے کا بندے کے پاس کوئی جواز بھی نہیں ہے۔ اب آگے بڑھتے ہیں ۔ دوسرے درجہ میں ہیں اسلام میں اجتمایت کے تقاضے ان میں اپنے ہمسایہ سے بہتریں سلوک کرنے کا حکم ہے ؟ لیکن گھر کے بعد پڑوسیوں سے سلوک کرنے کا کام یہاں اتنا ہی مشکل ہے جتنا کہ گھر میں عمل کرنا آسان ہے ۔اس لیے کہ اس میں ان کی مرضی کا شامل ہونا ضروری ہے! جس کے بغیر اس پر عمل نا ممکن ہے۔ جبکہ حقوق ہمسایہ گی اسلام میں اتنے اہم ہیں کہ مسلمانوں کو جب حضور (ص) ان میں موجود تھے اورقرآن نازل ہورہا تھا تو شبہ ہونے لگا تھا کہیں اایسانہ ہوکہ ہمسائے وراثت میں بھی داخل ہو جا ئیں ۔ یہاں سب سے مشکل اس میں یہ ہے کہ ان سے راہ و رسم بڑھانا بہت مشکل کام ہے۔ایک دوسرے کا صرف کبھی اتفاق سے آتے جا تے ہی سامنا ہوتا ورنہ زیادہ تر لوگ جانتے بھی ںہیں ہیں کہ ا ن کے پڑوس میں کون رہتا ہے۔
یہاں کا دستور یہ ہے کہ جب آتے جا تے کسی اجنبی سے بھی سامنا ہو تو دونوں ایک دوسرے پر مسکراہٹیں برساتے ہوئے چلے جاتے ہیں نہ مصافحہ نہ معانقہ ۔ یہ عادت شاید دوسرے آداب ِکی طرح انہوں نے ہمیں سے لی ہے جوکہ ہم میں اب کم نظر آتی ہے حالانکہ ہمارے یہ بہت بڑی نیکی ہے۔ کاش وہ باقی چیزیں بھی ہم سے لے لیتے اور الٹا ہمیں دوبارہ سکھاتے تو ہم بطور فیشن فوراً قبول کرلیتے جیسے اور بہت سی باتیں ان کی سمجھ کر ہم نے قبول کرلیں ہیں جن کی تفصیل طویل ہے؟ لہذا یہاں ہمسایہ سے تعلقات بنانا اور قائم رکھنا بہت ہی مشکل کام ہے۔ مگر وہ مومن ہی کیا جو کسی کوشش میں ہار مان جا ئے، کوشش کر دیکھئے اگر اس سمت میں بھی کوئی پیش رفت ہوسکے تاکہ آپ کا فرض ادا ہوجا ئے ؟ لیکن مجھے بطور سنیر سٹیزن کونسلر ان کے بزرگوں میں کام کرنے کا موقعہ ملا ہے۔ اگر انہیں کوئی کام نہیں بھی ہوتا تو بھی وہ کوئی ایک مسئلہ لیکر میرے پاس وقت گزارنے آجاتے تھے۔ کیونکہ ان کے بوڑھے جو ہیں وہ کسی سے بات کرنے کو بھی ترستے ہیں ۔ اس لیئے انہیں تنہائی بہت ستاتی ہے۔ بچے اور بچیاں دونوں جہاں سولہ سال سے ان کی عمر یں تجاوز ہوئیں وہ اپنی پرائیویسی چاہتے ہیں ۔ اورا ٹھارہ سال کے بعد تو وہ قطعی طور پر والدین کے ساتھ رہنے سے ا نکار کردیتے ہیں ۔ صرف سال میں کچھ تیوہار ہوتے ہیں کہ وہ والدین پر کرم فرمائی فرماتے ہیں اور والدین سے ملنے چلے آتے ہیں۔ اس دن ا ن کی خوشی دیکھنے کے قابل ہوتی ہے۔چونکہ وہ تنہا رہتے ہیں اوران کی تنہائی دور کرنے کے لیے بہت سی آرگنائزیشن ہیں جن میں آپ رضا کارانہ طورپر کام کر سکتے ہیں اور اگر آپ کے ہمسایہ میں کوئی بزرگ رہتے ہیں تو وہ آپ کو یقیناً خوش آمدید کہیں گے اور اچھے ہمسایہ بھی ثابت ہونگے۔ یہ بھی میرا ذاتی تجربہ ہے جس کی بنا پر میں یہ دعوے کے ساتھ آپ سے عرض کر رہا ہوں ۔( باقی آئندہ)

SHARE

LEAVE A REPLY