پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) دور حکومت میں مشیر احتساب شہزاد اکبر نے سلمان شہباز اور دیگر کی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے مقدمے میں بریت کو چلینج کر دیا۔
شہزاد اکبر نے ایف آئی اے سینٹرل کورٹ نمبر ون کا فیصلہ ہائیکورٹ میں چیلنج کیا، درخواست میں ایف آئی اے، سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔
اپنی درخواست میں شہزاد اکبر نے مؤقف اپنایا کہ ایف آئی اے کورٹ کا فیصلہ حقائق سے ہٹ کر سنایا گیا، دوران انکوائری 28 بےنامی اکاؤنٹ سامنے آئے، 15ہزار ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ بھی موجود تھا جس کو چالان کا حصہ بنایا گیا۔
درخواست گزار کی جانب سے کہا گیا کہ چالان میں 100 لوگوں کی گواہوں کی فہرست فراہم کی گئی، ٹرائل کورٹ نے حقائق کے برعکس ملزمان کو مقدمے سے بری کر دیا، ٹرائل کورٹ نے جن ملزمان کو بری کیا ان کےخلاف دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔
شہزاد اکبر نے اپنی درخواست میں استدعا کی کہ لاہور ہائیکورٹ ٹرائل کورٹ کا بریت کا فیصلہ کالعدم قرار دے۔













