طالبان کے ترجمان نہیں اور نہ ہی اُن کی کارروائیوں کے ذمے دار ہیں: عمران خان

0
600

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان افغان طالبان کا نہ تو ترجمان ہے اور نہ ہی افغانستان میں جاری ان کی کارروائیوں کا ذمے دار ہے۔

وزیرِ اعطم خان نے یہ بات جمعرات کو اسلام آباد میں افغان صحافیوں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے واضح کیا کہ پاکستان کا افغانستان میں کوئی پسندیدہ دھڑا نہیں ہے اور اسلام آباد کابل میں اس حکومت سے اچھے تعلقات رکھنا چاہے گا جسے افغان عوام منتخب کریں گے۔

وزیرِ اعظم عمران خان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب افغانستان سے غیر ملکی فورسز کے انخلا کا عمل آئندہ ماہ کے اواخر میں مکمل ہو جائے گا۔ لیکن دوسری جانب طالبان اور افغان حکومت کے درمیان لڑائی میں شدت بھی آ رہی ہے۔

لیکن وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ افغانستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کا ذمے دار پاکستان نہیں ہے۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ طالبان افغانستان میں کیا کر رہے اس کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس لیے آپ کو طالبان سے بات کرنا ہو گی اس کا ذمے دار پاکستان نہیں ہے۔ اور نہ ہی ہم طالبان کے ترجمان ہیں۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے مزید کہا کہ گزشتہ 20 برسوں میں افغانستان میں امریکہ نے فوجی حل تلاش کرنے کی کوشش کی جو کامیاب نہیں ہو سکی۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا کہ افغان تنازع کا حل بات چیت کے ذریعے ہونے والے سیاسی تصفیے ہی سے ممکن ہے۔

عمران خان نے یہ بات ایسے موقع پر کہی جب بعض افغان رہنماؤں کے حال ہی میں سامنے آنے والے بیانات میں افغانستان کی موجودہ صورتِ حال کا ذمے دار پاکستان کو قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا گیا تھا کہ اسلام آباد کابل میں اپنی حامی حکومت دیکھنا چاہتا ہے۔

لیکن وزیرِ اعظم عمران خان نے افغان صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں پاکستان کا کوئی پسندیدہ گروپ یا دھڑا نہیں ہے اور پاکستان اس حکومت سے اچھے تعلقات رکھے گا جسے افغان عوام منتخب کریں گے۔

SHARE

LEAVE A REPLY