ڈاکٹر نگہت نسیم کی کورونا ڈائری ۔۔۔قسط نمبر25‎

0
1033

مارچ29, ,2020

کورونا اور ازدواجی رشتے

کورونا وائرس جیسی عالمی وبا سے نمٹنے کے لیے
دنیا کے درجنوں ممالک نے
مکمل یا جزوی لاک ڈاؤن نافذ کر رکھا ہے
دنیا کی تقریباً تین ارب آبادی گھروں میں رہنے پر مجبور ہے
اور یہ سچ ہے کہ
اس عمل سے کورونا کیسز میں نمایاں کمی ہوئی ہے
پر ۔۔ حیران ہوں
لاک ڈاؤن سے دنیا بھر میں کئی ایسے مسائل سامنے آئے
جن کی طرف سے دھیان ہٹانا میرے لئے ممکن نہیں
میں شاید اتنا متفکر نہ ہوتی
جو پاکستان سے ڈاکٹر جہاں آرا لطفی کا میسج نہ آتا
پہچان ویب چینل سے شفق جعفری کا طویل آڈیو نہ ملتا
میں اپنی کھڑکھی سے باہر
جہازوں کے شور اور دھوئیں سے آزاد سانس لیتا ہوا آسمان دیکھ رہی ہوں
سوچ رہی ہوں ۔۔۔
ایک طرف لاک ڈاؤن ہے اور دوسری طرف ازدواجی مسائل ہیں
علیحدگی ، طلاق کی شرح سمیت گھریلو تشدد میں حیران کن اضافہ
میں اب دکھی ہو رہی ہوں‌
خبروں‌ پر نظر بار بار جا رہی ہے
برطانیہ ، فرانس ، جرمنی ، اٹلی میں گھریلو تشدد میں 30 فیصد اضافہ
برازیل میں 40 سے 50 فیصد اضافہ اور ہائے اس سے بچے بھی محفوظ نہیں
خلیج فارس کے عرب ممالک اور اسرائیل میں 36 فیصد اضافہ
پاکستان ، انڈیا اور بنگلہ دیش میں 24 فیصد اضافہ
آسٹریلیا میں 20 فیصد اضافہ
یہ سب بہت پریشان کن ہے
اف یہ سب مجھے دکھ دے رہا ہے
گھریلو تشدد کا شکار عورتوں کی عمریں 18 سے 75 سال تک ہیں
جن پر لاک ڈاؤن میں
جسمانی ۔۔ نفسیاتی ۔۔ معاشی ۔۔جنسی تشدد ہو رہا ہے
میں سوچ رہی ہوں ۔۔۔۔ رنجیدہ ہو رہی ہے
ہر ملک میں ۔۔ ہر معاشرے میں
کیا عورت اتنا آسان ٹارگٹ ہے ؟ ؟
ابتدائے آفرینش سے لے کر آج تک دستور چلا آرہا ہے
موروثی شرافت کی آڑ میں تو کبھی دین مذہب کو بیچ میں لا کر
انسانی سماج میں فقط عورت کی گردن پر اکثر مردوں کے پنجے گڑھے ہیں
ان کے جسم کو گدھ کی طرح تار تار کر رہے ہیں
تھکی ہاری عورت پر
دن رات کے کسی بھی پہر میں اپنی مستی اتار رہے ہیں
حکم عدولی پر انہیں سزایئں دے رہے ہیں
یہ محبت نہیں ۔۔۔ یہ خواہش ‌نہیں
یہ کنٹرول کرنے کا روگ ہے
جو اکثرمردوں کو لگا ہے
انہیں اپنے موروثی ہیکل کی تعمیر کے لئے عورت کی ہڈیاں درکار ہیں
بچے ۔۔۔ بچے ۔۔ کتنے اور بیمار اور بیچارے بچے چاہیئں
کیا کسی اور کو
اب تمہارے گھروں اور بیڈ رومز کے قوانین بھی بنانے ہونگے
کتنے شرم کا مقام ہے
عمر بھر ساتھ نبھانے کے وعدے کرنے والے
چوبیس گھنٹے بھی ساتھ نہیں رہ سکتے
یوں کہو ۔۔ کورونا نے
کھوکھلے دیمک زدہ ازدواجی رشتوں کی پول کھول دی
کیا مرد و عورت کو بتانا ہوگا ۔۔ رشتوں میں باہم احترام کیا ہے
خدا کے لئے اپنی اپنی خواہشوں کے تندور سے باہر نکلیں
اور ۔۔ دنیا میں دیکھیں ۔۔۔ کیسے زندگی شکست کھا رہی ہے
دنیا بھر میں
کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد
آج کی تاریخ میں
بڑھ کر 6 لاکھ 65 ہزار اور ہلاکتوں کی تعداد 30 ہزار سے زائد ہوچکیں
امریکہ جیسا ملک کیسی بے بسی میں ہے جہاں ایک لاکھ 24 ہزار مریض ہیں
اٹلی کے دکھ کو محسوس کریں جہاں 10 ہزار اموات ہو چکی ہیں
وبائی دن و رات آزمائیش کے دن اور رات ہیں
آگے سوچنے ۔۔ اپنے دن اور رات بدلنے کے دن ہیں
عورت سے کیا مقابلہ کرنا ۔۔۔ اسے کس بات پر ہرانا ہے
کیا ۔۔۔عورت کو
پیر کی جوتی سمجھ لینے سے
مارنے پیٹنے ، دھمکانے سے
اسے اپنا محتاج بنا لینے سے
اسے مفتوح‌ علاقہ سمجھنے سے
کیا تم فاتح کہلا ئے جا سکتے ہو ۔۔ کیا یہ مردانگی ہے
عورت تو چھوٹی چھوٹی باتوں سے خوش ہو جاتی ہے
سچ تو یہ ہے
عورت فطری تخلیقکار ہے اور تم ایک بانجھ مرد ہو
سنو
مردانگی جنس کا نام نہیں
مردانگی ایک وصف ہے جو تم جیسے مردوں میں نہیں

ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY