الفاظ و صوت و رنگ ونگارش کی شکل میں
زندہ ہیں لوگ آج بھی مرنے کے باوجود
(سید فخرالدین بلے )
”رفاقتوں کی داستاں“ سے ایک اقتباس
تحریر:۔ ظفر معین بلے جعفری
سید آفتاب شاہ نام کی دو شخصیات کہ جن سے ہمارا ہمارے والد گرامی قبلہ سید فخرالدین بلے شاہ صاحب کے توسط سے رابطہ ہوا اور رہا۔
دونوں ہی انتہاٸی منفرد مزاج کے حامل تھے بے ضرر ۔ سچے کھرے مخلص۔ نیک ۔ فرض شناس اور حددرجہ ایمان دار۔ باکردار ۔ عجز و انکساری اور پاک باز اور پرہیزگار بلکہ ہماری نظر میں متقی اور ان تمام تر اوصاف کے ساتھ ساتھ قلندرانہ اور فقیرانہ مزاج ۔
ایک سید آفتاب شاہ صاحب ڈاٸریکٹر محکمہ تعلقات عامہ سرگودھا اور ملتان رہے۔ سرگودھا اور ملتان میں انہیں بہت قریب سے دیکھنے کے مواقع میسر آٸے اور دوسرے (فرسٹ کامن ڈی۔ایم۔جی) جناب سید آفتاب شاہ صاحب جن کے حوالے سے بس ہم اتنا جانتے ہیں کہ ایک ایسے اعلی سرکاری منصب پر فاٸز کہ جس منصباور منصب دار کا رعب اور دبدبہ تو عام طور پر دیکھنے میں آتا ہے لیکن دلوں میں عزت اور تعظیم نہیں مگر اللہ جس کو چاہے عزت دے اور جتنی چاہے دے۔ یہ سید آفتاب شاہ صاحب دیگر بہت سے منصب اور عہدوں کے علاوہ ڈی۔آٸی جی کے عہدے پر فاٸز رہے ۔ ایک خوش فکر شاعر اور مفکر اور ایک عظیم انسان۔
ہمیں متعدد بار ان سے ملنے اور ان کے ساتھ وقت گزارنے اور ان کی دلآویز شخصیت ۔ ان کی علمیت ۔ ان کی بصیرت افروز فکر و گفتگو اور ان کی شفقت سے فیض یاب کا موقع ملا۔ ہم کیا کوٸی بھی سید آفتاب شاہ صاحب سے تعلق داری کے نازاں ہوسکتا ہے۔ ہماری نظر میں ایسے ہر خوش نصیب کےلیے یہ ایک اعجاز ہے اعزاز ہے اور افتخار ۔
ہم نے سید آفتاب احمد شاہ صاحب سے مزاج اور انداز بلکہ خدوخال میں بھی کافی حد تک ملتی جلتی ایک شخصیت سرگودھا ہی میں دیکھی تھی ۔ ان کا نام شیخ رشید صاحب تھا وہ سابق سیکریٹری اطلاعات و ثقافت حکومت پنجاب شیخ حفیظ الرحمن صاحب کے بڑے بھاٸی صاحب تھے۔ شیخ رشید صاحب بھی اعلی عہدوں اور منصب پر فاٸز رہے تھے لیکن جب اور جس عرصے میں ہمارا ان سے ملنا جلنا رہا وہ ریٹاٸرڈ زندگی گزار رہے تھے۔ہمارے والد گرامی کے قریبی دوستوں میں سے تھے اور مرتضی برلاس انکل کی طرح دوست ہونے کے ساتھ ساتھ برج Bridge پارٹنر بھی۔ ہم پر بہت بعد میں قبلہ سید آفتاب شاہ صاحب سے دوران گفتگو یہ انکشاف بھی ہوا کہ ان کا اور شیخ رشید صاحب کا بھی دوستانہ رہا ہے ۔ سید آفتاب شاہ ملتان اور لاہور میں ان گنت ملاقاتیں رہیں جو ہماری حسین یادوں کا حصہ ہیں
ہمیں یاد ہے کہ ممتاز شاعر اور اس وقت کے چیف سیکریٹری جاوید احمد قریشی صاحب ایک روز ہمارے والد گرامی قبلہ سید فخرالدین بلے شاہ صاحب سے ملنے کےلیے آٸے تو ہمارے ہاں پہلے جناب پرتو روہیلہ ۔ عبدالعزیز خالد۔ شہزاد احمد اور ڈاکٹر انورسدید پہلے سے ہیگ اپنے میزبان سید فخرالدین بلے شاہ صاحب کے ساتھ محفل سجاٸے ہوٸے تھے۔
باتوں باتوں میں جاوید احمد قریشی صاحب ہم سے مخاطب ہوٸے اور حوصلہ افزاٸی کے سے انداز میں فرمایا کہ ظفر معین بلے ہمیں نواٸے وقت میں جو آپ کا مضمون انورسدید صاحب کے حوالے سے شاٸع ہوا ، بے حد پسند آیا ظفر معین بلے نے بجا فرمایا ہے کہ ڈاکٹر انور سدید دیانت داری اور فرض شناسی کے تناظر میں اپنے محکمے کی واحد مثال ہیں۔
ہماری دلجوٸی کرنے کے بعد جاوید احمد قریشی صاحب نے حاضرین محفل کی توجہ اپنی جانب مبذول کرواتے ہوٸے فرمایا میں حیران رہ جاتا ہوں جب اس دور میں اعلی عہدوں پر فاٸز افسران کی فرض شناسی کے معاملات میرے سامنے آتے ہیں کہ اپنی تمام تر بھرپور صلاحیتوں سے آشنا ہونے کے باوجود کرپشن کی اس دلدل سے خود کا دور رکھتے ہیں ۔ میں ذاتی طور پر ایسے افسران سے واقف ہوں ۔ انور سدید صاحب۔ سید فخرالدین بلے۔ طارق محمود اور ان جیسے جن چند لوگوں سے واقف ہوں بے وہ گنتی ہی کے ہیں لیکن انہی کے دم سے نظام چل رہا ہے ۔ بےشک سید آفتاب احمد شاہ صاحب بھی انہی میں سے ایک ہیں۔
دور سے بیورو کریسی کی آساٸشوں سے بھرپور زندگی اور چسکے اور رعب اور دبدبہ یقینا“ متاثر کرتا ہے لیکن اس دلدل میں رہ کر بھی اپنا دامن صاف اور پاک رکھنا کس قدر دشوار ہوتا ہے یہ آسانی سے سمجھنے میں آنے والی بات نہیں ۔ محترم جناب شعیب بن عزیز صاحب بےشک ایک ممتاز شاعر اور ادیب ہیں اور محترم طارق محمود صاحب اردو ادب کے ممتاز افسانہ نویس اور ناول نگار ہیں۔ اللہ نے ان پر بھی اپنا کرم کیا نیک نامی عطا فرماٸی اور عزت اور شہرت بھی اور بیوروکریسی کی ذلتوں اور نحوستوں سے محفوظ رکھا۔ بےشک ہمارا ان سے برابری کی سطح کا دوستانہ نہیں ہے لیکن وہ ہمارے والدگرامی قبلہ سید فخرالدین بلے شاہ صاحب کے حلقہ ٕاحباب میں شامل رہے ہیں ہمیں مواقع میسر آٸے انہیں قریب سے دیکھنے اور ان کی شہرت کے حوالے سے ہونے والی گفتگو کو سننے کے اور ہم ان کی تخلیقی صلاحیتوں سے فیضیاب بھی ہوٸے ۔ ایسی ہستیاں ہمارا کیا اردو ادب کا اور پاکستان بھر کا مان ہوتی ہیں۔ اللہ کریم انہیں صحت و سلامتیاں عطا فرماٸے۔
جو لوگ بھی جناب سید آفتاب احمد شاہ صاحب ۔سید فخرالدین بلے صاحب۔ جاوید احمد قریشی صاحب ۔ طارق محمود صاحب اور شعیب بن عزیز صاحب جیسی متقی اور پاک باز اور دیانت دار شخصیات سے ملے ہیں شاید وہ یہ بات سمجھ سکیں کہ بظاہر ہمیں ان کا حلقہ احباب وسیع نظر آتا ہے لیکن درحقیقت
دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانےوالا
اس طرح کی شخصیات کو جاننے پہچاننے اور سمجھنے والے کم ہوتے ہیں اور جو ہوتے ہیں وہ ان کے دلوں پر راج کرتے ہیں اور یہ ان کے دلوں پر۔
”رفاقتوں کی داستاں“ ۔۔۔۔۔۔۔۔ سے ایک اقتباس
تحریر :۔ ظفر معین بلے جعفری













