فطرت انسانوں کو بے شمار نعمتوں اور صلاحیتوں سے نوازتی ہے۔ ان نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت دلِ درد مند اور دوسرا بڑا انعام فنونِ لطیفہ سے فرد کی وابستگی ہے۔ بیشتر شخصیات کیلئے کسی ایک شعبہ میں ملکہ و مہارت ہی ان کی وجہِ شہرت بن جاتی ہے۔ مشاہدہ کیاجائے تو ادب اور فنونِ لطیفہ سے وابستہ افراد کی اکثریت انسان دوستی کی نعمت سے بھی بہرہ ور ہوتی ہے اور ایسی شخصیات صفحہ تاریخ پر ہی نہیں بلکہ اپنے معاصرین کے دل و دماغ پر اپنے کردار اور صفات کے ایسے ان مٹ نقوش چھوڑ جاتی ہیں، جو آنے والی نسلوں کی رہبری و رہنمائی کرتے ہیں۔ چراغ سے چراغ جلتا ہے کے مصداق نئی نسل کے افراد بھی ایسی دل کش،با عمل اور ہمہ جہت شخصیت سے بھرپور انداز میں متاثر ہوتے ہیں اور ان کو اپنا آئیڈیل بنا کر اپنی بے سروسامانی اور زمانے کی نا مہربانی کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی آدرش کی تکمیل میں مصروف ہو جاتے ہیں۔
مرحوم سیّد فخر الدین بَلّے (علیگ) بھی ایسی ہی قابلِ قدر شخصیت کے مالک تھے۔ زمانہ ءطالب علمی میں ان کی صلاحیتیں ظاہر ہونا شروع ہو گئی تھیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا نکھرا ہوا ماحول ، عروسِ آزادی کی انقلابی جدوجہد، اکابرینِ تحریک ِپاکستان کی پر جوش تقاریر، آزادی کے متوالے نوجوانوں کا ساتھ،مسلم یونیورسٹی کے اساتذہ کی رہنمائی، ان سب نے مل کر بَلّے بھائی کو محشرِ عمل بنا دیا تھا۔ آزادی سے محبت، بے تعصبی، انسانوں سے دوستی، مظلوم افراد کی داد رسی اور مطالعہ کے شغف نے ان کی شخصیت میں روشن خیالی، بے خوفی، رواداری اور خود اعتمادی جیسی صفات پیدا کر دی تھیں۔ مسلمانوں کے لئے علیحدہ وطن کی خواہش اور تحریک آزادی سے وابستگی نے انہیں مسلم لیگ کے نوجوانوں اور طلبہ ونگ میں شامل کرا دیا۔ وہاں بھی ان کی پر جوش اور متحرک شخصیت نے اپنا رنگ دکھایا اور وہ عہدیدار منتخب ہو گئے۔ ان کی شخصیت میں قوس ِقزح کے تمام رنگ جذب ہو چکے تھے۔ ان کی رنگا رنگ شخصیت میں زندگی کے تمام تعمیری رنگ بڑی آب و تاب سے چمک رہے تھے۔ بقول امید فاضلی۔
فطرت کا اشارا ہے کہ فطرت کا ہو اظہار
بجلی ہے تو لہرائے جو بادل ہے تو برسے
دیکھا جائے تو آدمی کا سب سے بڑا مسئلہ اس کی اپنی شخصیت اور محسوسات و کیفیات کا اظہار ہے جو کچھ انسان پر گزرتی ہے، اس کا اظہار تو ہر فرد و بشر اپنی بساط کے مطابق موثر انداز میں کرتا ہے لیکن کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں، جو اظہار پر اس سلیقے سے قادر ہوتے ہیں کہ عام آدمی کی سطح سے بلند ہو کر فن کار کہلاتے ہیں۔ بَلّے صاحب بھی انہی میں شامل ہیں۔ ان کے اظہار میں فن کارانہ حسن، تجربے کی سچائی، روح کی تڑپ،شخصیت کی توانائی، کائنات کی صورت گری کی آرزو اور اپنے عہد کا عرفان سبھی کچھ ملتا ہے۔ بَلّے صاحب کی تحریریں اور فن پارے پڑھنے والے کے دل و دماغ کو اثر و تاثیر اور بصیرت کی گہرائی سے مسخر کر لیتے ہیں۔ بَلّے صاحب میں ایک بے چین روح تھی، وہ حرف و صوت کے حوالے سے اپنے خوابوں اور امنگوں کی تکمیل چاہتے تھے۔ اسی لئے انہوں نے سائنسی علوم میں فارغ التحصیل ہونے کے باوجود ادب اور فنونِ لطیفہ سے اپنا رشتہ استوار کیا۔ کیونکہ وہ اس بات سے واقف تھے کہ سائنس کے ذریعہ موجودات ِعالم کا علم حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہیں مسخر بھی کیا جا سکتا ہے اور ان سے فیض بھی اٹھایا جا سکتا ہے لیکن انسانی معاشرہ کی صورت گری صرف فنونِ لطیفہ سے ہی ممکن ہے۔ سائنس کے ذریعہ روبٹ کو تو متحرک کیا جا سکتا ہے۔ خلا کی تسخیر تو ہو سکتی ہے لیکن انسانی روح کو تازگی اور احساس ِ جمال کو تابندگی صرف فنونِ لطیفہ ہی سے ممکن ہے۔ انسان‘ فطرت کی ایسی تخلیق ہے جو کسی سائنسی فارمولے میں مقید نہیں ہو سکتا۔ اس کو سمجھنا اور سمجھانا کسی سائنسدان کے بس کی بات نہیں۔ انسان تو ہر لمحہ رنگ بدلتی ہوئی زندگی کا ایسا متحرک ‘ رنگا رنگ اور روشن سیارہ ہے جو عقل و خرد کو مبہوت کرتا ہوا ،ہوا کے جھونکے کی طرح گزر جاتا ہے، ہر لحظہ نیا طور، نئی برق تجلی کے مصداق با کمال فنکار بھی تیزی سے بدلتے ہوئے انسان کے موڈ اور کیفیات کے طلسم کو اپنے نگار خانہ ءفن میں مشکل ہی سے قید کر پاتے ہیں۔فخر الدین بَلّے صاحب نے بھی فطرت کے شاہکار تخلیق کو اپنا موضوع سخن بنایا۔ اپنی تہذیبی روایت کے دلکش پس منظر کے ساتھ عہدِ جدید کو اپنے وجود میں جذب کرتے ہوئے نئے انسان کے مسائل اور اخلاقی زبوں حالی کا تذکرہ موثر انداز میں پڑھنے والے تک پہنچایا ہے۔
صحافت عُجلت میں لکھی ہوئی تاریخ بھی ہے لیکن اگر لکھنے والا بَلّے صاحب کی طرح ادبی لطافت اور تخلیقی جوہر سے بھی مالا مال ہے تو اس کی تحریریں لافانی بن جاتی ہیں۔ بَلّے صاحب کا صحافتی سفر نصف صدی پر مشتمل ہے۔ اس دوران موصوف نے اٹھارہ رسالوں اور جریدوں کا اجراءکیا اور ہر جگہ اپنی انفرادیت ، خوش تدبیری اور حسن ِانتظام کے علاوہ اپنی علمیت اور نفسِ مضمون پر قدرت کا لوہا منوایا ہے۔ان جریدوں میں بعض ان کی محکمہ جاتی ذمہ داری تھے اور بعض ان کے ادبی شوق کی تکمیل کا ذریعہ۔ یہ رسالے ہمارے حافظے سے تو فراموش ہو سکتے ہیں لیکن صحافتی ریکارڈ میں باقی رہیں گے۔
بامقصد زندگی گزارنے والا شخص اپنے آدرش سے ہٹ کر کوئی کام نہیں کرتا۔ وہ اظہارِ تمنا سے تکمیل ِ تمنا تک کے تمام مراحل بڑی تیز رفتاری سے طے کر جاتا ہے۔ ادبی تخلیقات کا خام مواد جب انسان دوستی کے خمیر سے اٹھتا ہے تو ایسے فن پارے سامنے لاتا ہے، جو آدمی کو اپنے اندر اور باہر کے تعصبات سے لڑنا سکھا دیتا ہے۔
دنیا کے تمام معاشروں میں ہجرت کر کے آنے والوں کو ابتداءمیں ہمیشہ شک و شبہ کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور وہ بھی اپنے ماضی سے مشکل ہی سے پیچھا چھڑا پاتے ہیں لیکن اگر شخصیت فخر الدین بَلّے جیسی توانا ہو تو ماحول اور حالات کے بدلنے کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ بَلّے صاحب نے حامی و مخالف سب ہی سے اپنے خلوص‘ مہارت‘ علمیت اور جانفشانی کا لوہا منوایا ہے۔ راولپنڈی کی آرٹس کونسل ہو یا ملتان کی‘ دونوں شہروں میں بَلّے صاحب کی ان تھک محنت، خلوص، لگن اور فنونِ لطیفہ کی ہر شاخ سے ایک والہانہ قربت نے ان کی کارکردگی میں چار چاند لگا دیئے ہیں۔ فنون ِلطیفہ کا کون سا ایسا شعبہ ہے، جس کے فروغ کے لئے بَلّے صاحب بے چین نہیں تھے۔ انہوں نے ملتان آرٹس کونسل کے زیر اہتمام 25 روزہ ڈرامہ فیسٹیول منعقد کرا کے نہ صرف ڈرامہ اور تھیٹر کی روایت کو مستحکم کیا بلکہ نئے امکانات سے بھی روشناس کرایا۔
سرکاری افسری…. با ضمیر اور بااصول آدمی کےلئے پل صراط پر چلنے سے کم نہیں۔ عام طور پر سرکاری ا فسروں کے بارے میں وہی بات کہی جاتی ہے جو آٹو گراف کے بارے میں مشہور ہے کہ اس میں گھوڑے اور گدھے ایک ساتھ بندھے ہوتے ہیں۔ سرکاری ملازمت میں محکمہ جاتی چپقلش ، اکھاڑ پچھاڑ،سازشیں، کردار کشی ایک عام سی بات ہے لیکن بَلّے صاحب اس میدان میں بھی سب سے مختلف ثابت ہوئے ۔انہوں نے ہر فرد کو مروت اور احسان سے فتح کیا۔ رہ گئے بد طینت افراد…. تو معاشرہ ان کو خود ہی مسترد کر دیتا ہے۔ موصوف نے سرکاری ملازمت اور ذمہ داریوں کے پہاڑ کو اس طرح سر کیا کہ وہ فاتحانہ انداز میں چوٹی پر نظر آئے۔منصف مزاج ‘ اہلِ فکر و دانش ان کی صلاحیتوں اور خوبیوں کے معترف تھے۔ مطالعہ فرد کی بہترین تربیت بھی کرتا ہے اور اس سے وسعتِ نظر بھی پیدا ہوتی ہے ۔ افسر میں احساس ذمہ داری کے ساتھ ساتھ ذوق ِ سلیم اور حس ِ جمال بھی شامل ہو تو کارکردگی بے مثال ہو جاتی ہے۔
بَلّے صاحب کے قدر دانوں میں جاہ و جلال کے مالک، منصب و جاگیر کے حامل،ایوانِ اقتدار کے سرخیل اور صاحبانِ ہنر و کمال سب ہی شامل تھے۔ اس میں کچھ موصوف کی عالمانہ شخصیت کا طلسم تھا اور کچھ ان اخلاقی خوبیوں کا‘ جن سے معاشرہ اب خالی ہوتا جا رہا ہے۔ تحریر، تقریر، تاریخ، تحقیق، تنقید، آرٹ،خطاطی،رقص، مجسمہ سازی، موسیقی،ڈرامہ ، تھیٹر، فنِ تعمیر، کوزہ گری،غرض فنونِ لطیفہ کا کون سا شعبہ ایسا تھا ،جس کی تاریخ‘ فن اور امکانات سے وہ واقف نہیں تھے ۔بَلّے صاحب ایک چلتا پھرتا انسائیکلو پیڈیا تھے‘ انہوں نے علوم و فنون کو اپنے وجود میں جذب کر لیا تھا۔یہی وجہ ہے کہ وہ فنونِ لطیفہ کی روح اور اسپرٹ سے واقف تھے ۔وہ اس خوبی سے کسی فن کی تاریخ اور نکات بیان کرتے تھے کہ پڑھنے والا اور سننے والا اس کی اصل تک پہنچ جاتا تھا۔ دوسری بات یہ کہ جب آدمی نفع و نقصان ‘ گناہ و ثواب‘ سزا و جزا‘ خوف و امید سے بلند ہو کر اظہار ِ حق کرتا ہے تو وہ آفاقی توانائی کا ایسا پر تو بن جاتا ہے ،جس سے سب محبت بھی کرتے ہیں اور متاثر بھی ہوتے ہیں۔ سیّد فخر الدین بَلّے صاحب کی بے غرض زندگی میں جو دل کشی تھی، اس میں علم و فضل کے علاوہ ان کی درویشی کا بھی بڑا حصہ ہے۔ وہ اہل اقتدار اور اہل ثروت دونوں کے سامنے دل بے مدّعا ہی رہے۔ درویش کے پاس جو کچھ تھا ،وہ نذرِ دوستاں تھا ‘ انہوں نے علم و فضل اور فکر و خیال کی دولت سے اس طرح ارادت مندوں کو مستفید کیا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کے مطابق معاشرے کی صورت گری میں مصروف ہو گئے۔ کہا جاتا ہے کہ بَلّے صاحب کے پاس ذاتی مکان نہیں تھا ۔وہ صاحب ِ جائیداد نہ ہونے کے باوجود محبت و مروت، ایثار و قربانی، ہنر و کمال، رازداری اور خودداری کے ایسے محل میں براجمان رہے، جن پر بہت سے اہل ِثروت اور اہل ِ اقتدار کو رشک آتا ہے۔ بقول جگر مراد آبادی
کیا عشق نے سمجھا ہے‘ کیا حسن نے جانا ہے
ہم خاک نشینوں کی ٹھوکر میں زمانہ ہے
سیّد فخر الدین بَلّے کی زندگی میں ملتان کی حیثیت ایک سنگِ میل کی سی ہے۔ وہ اسی حوالے سے تاریخ و تحقیق کی طرف متوجہ ہوئے اور یہی شہر انہیں تصوف کی لا محدود وسعتوں کی طرف کشاں کشاں لے جاتا ہے۔ صوفیائے کرام کی زندگی محبت اور انسان دوستی سے عبارت ہے ۔ بَلّے صاحب کی شخصیت میں یہ دونوں خوبیاں اس طرح جذب ہو چکی تھیں کہ ان کی ذات کا حصہ بن گئی تھیں۔ ملتان اپنی قدامت کے علاوہ صوفیائے کرام کا شہر ہے۔ بَلّے صاحب کے خیال میں یہ شہر قدیم اورپاکستان کا ثقافتی دارالحکومت ہے۔ اس خیال میں ملتان سے عقیدت و محبت کے علاوہ ملتان کا محلِ وقوع ، تاریخی اہمیت اور ثقافتی ورثہ سب ہی کچھ شامل ہے۔ ملتان کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرنے کا ہر پہلو ان کے پیش نظر رہتا ہے۔ اسی لئے جب ان کے علم میں یہ بات آئی کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے آباﺅ اجداد کا تعلق ملتان کی سرزمین سے تھا تو وہ اس موضوع پر تحقیق کرانا چاہتے تھے تاکہ اس خیال کی اصل تک پہنچا جا سکے۔ کیا اہل ملتان ‘ فخر الدین بَلّے کی ملتان سے وابستہ محبت کا کوئی جواب پیش کرسکتے ہیں۔
سیّد فخر الدین بَلّے ایک با عمل مرد مومن تھے۔ ان کے عقیدے میں بے تعصبی،رواداری اور روشن خیالی کے ساتھ ساتھ انسان دوستی بھی شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ظواہر کے بجائے باطن کے تزکیہ کے قائل ہیں ۔یہی صفت انہیں صوفیاءکے قریب کر دیتی ہے۔ وہ صاحبان قال سے علیحدہ ہو کرصاحبان حال کے گروہ میں شامل ہو جاتے ہیں۔ یہی وہ منزل ِعرفان ہے جس کے بعد حیات با انداز دگر اپنے آپ کو منکشف کرتی ہے۔ اسی لئے وہ عبادات کے فلسفے سے بھی پوری طرح واقف ہیں۔ عبادات کا بنیادی مقصد فرد کو عملِ صالح کی طرف لے جانا ہے۔ یعنی عبادات کا لازمی نتیجہ عمل صالح اور تزکیہ نفس ہے۔ ختمی مرتب کی ذات سے بھی انہیں یہی سبق ملتا ہے۔ قول کے ساتھ عمل ، تمام صالح افراد کا وطیرہ ہوتا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ ّ آلہ وسلم سے محبت اور علی مرتضیٰؓ سے عقیدت بھی اسی کیفیت کی آئینہ دار ہے۔ اہلِ علم اس بات سے واقف ہیں کہ صوفیاءکے سارے سلسلے سیدنا علی ابن طالبؓ تک پہنچتے ہیں۔ بَلّے صاحب کے یہاں ان کیفیات کا کیا خوبصورت اظہار ملتا ہے۔
ذات سے اٹھ گئے جب سارے حجابات ِصفات
دیکھا ” ااِلَّا” کو کہ در پردہ “لا” رقص میں ہے
صبح ِتہذیبِ طریقت کی اذاں سے پہلے
ہمہ تن کارگہ ِ قدر و قضا رقص میں ہے
لیلتہ القدر میں خورشید بکف ہے جبریل
جبلِ النور پہ خود نورِ ہدیٰ رقص میں ہے
سید فخرالدین بلے مولا علیؓ کے حضور یوں سراپا سپاس ہیں
وجود و واجد و موجود وماجرا بھی علیؓ
شہود و شاہد ومشہود واشتہا بھی علیؓ
ہے قصد و قاصد و مقصود و اقتضا بھی علیؓ
رضا و راضی، رضی اورمرتضیٰ بھی علیؓ
فخر الدین بَلّے نے زندگی کو بہت قریب سے دیکھا ہے ۔وہ اس بات سے واقف ہیں کہ انسان ہی اس کائنات کا مرکز ہے اور اللہ تعالیٰ خالق کائنات ہے۔نیکی اور بدی تمام سماجی زندگی کو بہتر بنانے اور انسان کی فلاح و بہبود کے لئے ہیں۔ جب وہ نیکی ،خیر اور صداقت کے دعوے داروں کو دوغلی زندگی گزارتے دیکھتے ہیں تو ان کے اندر کا فن کار پوری شدت سے اس کے خلاف مزاحمت کرتا ہے وہ اس روش پر کھلے ، واضح اور صاف لفظوں میں احتجاج کرتے نظر آتے ہیں۔
ہو لب پہ رام رام‘ بغل میں رہے چھری
جینے کا اس جہاں میں یہی ڈھنگ رہ گیا
ہم شب میں رند بن کے رہے، دن میں متقی
دنیا میں اس چلن سے بڑی آبرو رہی
فخر الدین بَلّے صاحب کا مشاہدہ بڑا عمیق اور گہرا ہے ۔ وہ موجودہ معاشرے اور اس کی اداﺅں پر غور کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ فی زمانہ آدمی اپنے علم و ہنر اور کمال سے بڑا نہیں ہوتا بلکہ اشتہاری ادارے،میڈیا اور تعلقات عامہ کی سیڑھی کے ذریعہ کوئی بھی اوسط درجہ کا فنکار اپنے آپ کو عہد آفریں اور عہد ساز کے مرتبہ پر فائز کروا سکتا ہے۔ بقولِ مختار مسعود پہلے مشاہیر ہوا کرتے تھے،اب صرف مشتہر رہ گئے ہیں۔
دیدہ وروں کے شہر میں ہر ایک پستہ قد
پنجوں کے بل کھڑا ہے کہ اونچا دکھائی دے
سیاست ہمارے معاشرہ کا بہت اہم شعبہ ہے۔پہلے اس کا مقصد خدمت کرنا اور جنت کمانا ہوتا تھا، اب یہ سیاست بن گئی ہے اور ہر صاحب ِ اقتدار اپنے آپ کو فرعون سمجھتا ہے اور صرف ان افراد کی قربت کا خواہاں ہوتا ہے جو اس کی خوشامد کر سکتے ہوں۔ صاحبان ِ تخت و تاج کو سچائی، حقیقت پسندی اور عدل و انصاف سے ایک دائمی سا بیر ہوتا ہے۔ وہ لمحہء موجود میں زندہ رہتے ہیں ان کی قریب اور دور دونوں نگاہ عام طور پر کمزور ہوتی ہے ۔ تو ازن اور انصاف ان کی سرشت میں ہوتا ہی نہیں ہے۔ وہ مخلوق خدا کی آنکھ کا تارا بننے کے بجائے خارِ نگاہ بنتے جاتے ہیں۔ ان کا سراپا اس شعر میں کیسا نمایاں ہے
دماغ عرش پہ ہیں اور چڑھی ہوئی آنکھیں
ابھی نوشتہ ء دیوار کون دیکھے گا
کبھی وہ معصومیت سے سوال کرتے نظر آتے ہیں
چمن کے دیدہ وروں سے سوال ہے میرا
بہار کا ہے یہ موسم تو پھر گھٹن کیوں ہے
پرانی نسل عام طور پر اپنے عہد میں رائج قدروں کو معیار مان کر نئے زمانوں اور نئی قدروں پر تنقید کرتی نظر آتی ہے کیونکہ پرانی نسل اپنے معیار اخلاق اور نظام زندگی کے مطابق معاشرہ کو دیکھنا چاہتی ہے بَلّے صاحب کا دور بحثوں کا دور تھا۔ وہ جس نسل کے فرد تھے ،وہ نسل انسانوں سے محبت کرتی تھی۔ اپنے وسائل اور سرمائے کو ان کی خوشنودی کے لئے استعمال کرتی تھی۔ موجودہ نسل سامانِ تعیش، دولت اور دنیاوی وسائل سے محبت کرتی ہے اور ان کے حصول کے لئے دوستوں اور رشتہ داروں کو استعمال کرتی ہے۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے جس نے انسانوں کو انسانوں سے توڑ کر سرمائے اور خود غرضی سے جوڑ دیا ہے۔ ماضی میں مشترکہ خاندان کی برکتیں اب نئی نسل کے لئے کلفتیں بن گئی ہیں وہ انفرادی آزادی اور اپنی آسائش کے حصول کے تعاقب میں اس درجہ سرگرداں ہے کہ خود ان کا چہرہ مسخ ہو کر رہ گیا ہے۔ بَلّے صاحب اس کیفیت کو دیکھتے ہیں اور پھر زیر لب یہ کہتے ہیں۔
خود ارادی اور آزادی کی برکت دیکھئے
گھر کے آنگن میں نظر آتے ہیں اب چولہے کئی
ہر معاشرہ اور اس کا اخلاقی نظام فرد کو فرد سے جوڑنا چاہتا ہے۔ ظلم و نا انصافی کا خاتمہ کر کے ایک بہتر اور خوشگوار طرز زندگی انسانوں کیلئے لانا چاہتا ہے۔ بڑھتی ہوئی اخلاقی گراوٹ،خود غرضی اور نفسا نفسی کا یہ عالم بَلّے صاحب جیسے حساس فرد کو بھی دکھی کر دیتا ہے۔ وہ ابن آدم کی بے حسی اور مفاد پرستی پر افسردہ نظر آتے ہیں چونکہ وہ انسانوں کے درمیان خود پُل بنانے اور دیواریں گرانے کے قائل ہیں ۔اس لئے انہیں افراد کی یہ لاتعلقی حیران اور پژمردہ کردیتی ہے ۔وہ انسانوں کے ہجوم میں انسانوں کو تنہا پاتے ہیں۔
ہنگامہ ہائے کارگہ ِروز و شب نہ پوچھ
اتنا ہجوم تھا کہ میں تنہاسا رہ گیا
اتنا بڑھا بشر کہ ستارے ہیں گردِ راہ
اتنا گھٹا کہ خاک پہ سایہ سارہ گیا
کلام منظوم اور شاعری میں جو فرق ہے فخر الدین بَلّے اس سے بخوبی واقف ہیں۔ شعراءاکثر کہی ہوئی باتوں کو دہراتے رہتے ہیں اور جہاں کہیں کسی شاعر کے اظہار میں ندرت، حیرت اور انفرادیت آجاتی ہے، وہیں سے اس کی مقبولیت کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔ بقول فراق گورکھپوری اکثر شعراءکے یہاں “پنچائتی خیالات “ملتے ہیں اور وہ رائج الوقت تصورات کو یکجاکرتے نظر آتے ہیں۔ اس کا داخلی احساس سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔اسی لئے اس میں وہ سچائی نہیں ہوتی ،جسے ہم زندگی کی معرفت کہتے ہیں اور میر کی زبان میں زندگی کے دکھ سکھ کا عرفان بھی ‘۔ بہت کم شاعر ایسے ہیں جو پنچائتی خیالات کے ہجوم سے نکل کر اقدار کی ردو قبول کی منزل پر کھڑے نظرآتے ہیں اور آنے والے زمانے کے شعور کی بناءپر اپنے رجائی نغموں میں زندگی کے غموں سے ابھرنے کی کوشش کرتےدکھائی دیتے ہیں ۔ بقول غالب
لکھتے رہے جنوں کی حکایات ِ خونچکاں
ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے
فخر الدین بَلّے صاحب امید اور رجائیت کے شاعر ہیں۔غم ان کے یہاں کو ئی مستقل قدر نہیں بلکہ خارزاروں سے گزر کر گلستانوں تک پہنچنے کا ذریعہ ہے ۔اسی لئے تو کہتے ہیں ۔
چمن میں فصلِ بہاراں سہی، خزاں نہ سہی
مگر حضور یہ موسم ضرور بدلے گا
رتوں کی ریت یہی ہے‘ یہی ہوا کی روش
تپش بڑھے گی تو بادل ضرور برسے گا
فخر الدین بَلّے صاحب کا مطالعہ وسیع اور عمیق تھا۔ ان کی مشرق اور مغرب کے فلسفیوں پر بھی نظر تھی۔ وہ فرد کی آزادی کے اس طرح قائل نظر آتے ہیں کہ عقیدوں کی زنجیر میں بندھا اور روایت پرستی کی گرد میں ا ٹا آدمی انہیں محدود اور مجبور نظر آتا ہے۔ وہ انسان دوستی کے حوالے سے درویشی کی طرف محوِ سفر انسان پر خالق کائنات اور موجودات پر غور کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ بہت کچھ کہنا چاہتے ہیں لیکن “خوف ِفساد ِخلق”سے ضبط کی منزل پر فائز ہونے کے باوجود بھی یہ کہنے پر مجبور ہیں
رہیں گے قصرِ عقائد ‘ نہ فلسفوں کے محل
جو میں نے اپنی حقیقت کا انکشاف کیا
وہ نیر کی طرح عظمتِ آدم کے قائل ہیں اور اس حقیقت سے آشنا ہیں کہ صفات الٰہی انسانوں میں متحرک و بیدار ہیں اور وہ ہر جگہ جمال ِ الٰہی کا عکس دیکھتے ہیں۔ اسی لئے وہ خود کو وجودِ مطلق کے قریب پاتے ہیں۔
ازل سے عالمِ موجود تک سفر کر کے
خود اپنے جسم کے حجرے میں اعتکاف کیا
خدا گواہ کہ میں نے خود آگہی کےلئے
سمجھ کے خود کو حرم عمر بھر طواف کیا
جس طرح غالب نے زندگی اور کائنات کے بارے میں بہت سے سوال اٹھائے ہیں۔ اسی طرح بَلّے صاحب زندگی،انسان اور کائنات کے بارے میں بنیادی سوال اٹھاتے ہیں۔ ان کاجوکلام میری نظر سے گزرا ہے، اس کے حوالے سے میں کہہ سکتا ہوں کہ موصوف نے زندگی کی ماہئیت اور حقیقت ِسزا و جزا کے عقیدے پر بھی غور کیا ہے اور اپنا نقطہ نظر یوں بیان کیا ہے۔
رہیں گے مرحلے تقدیر کے جو مرکر بھی
یہ زندگی کا مسلسل عذاب کیسا ہے؟
ہے معرفت کا سفر آگہی سے حیرت تک
مراجعت کاجو ہو ارتکاب کیسا ہے؟
فخر الدین بہت پڑھے لکھے اور تربیت یافتہ ذہن و مزاج کے حامل تھے ۔ ان کی شاعری کی زبان انتہائی سادہ و شگفتہ ہے۔ وہ اپنے خیال کو بڑی خوبی سے لفظوں کا جامہ پہناتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جو لفظ جس جگہ استعمال ہوا ہے، وہی اس کی مناسب جگہ ہے۔ اسکی بنیادی وجہ ان کا اپنے عقیدوں کے مطابق اظہار کرنا ہے۔ بقول اطہر نفیس
خود اپنے ہی باطن سے ابھرتا ہے وہ موسم
جو رنگ بچھا دیتا ہے تتلی کے پروں پر
موصوف کی تصانیف اور مضامین ان کے فکر و خیال کی ترجمانی کرتے ہیں ۔ اسلام اور فنونِ لطیفہ جیسے نازک‘ دقیق اور شجرِ ممنوعہ قسم کے موضوع پر لکھنا ان کی خرد افروزی اور دانائی کا مظہر ہے۔ میں بلا خوف تردید کہہ سکتا ہوں کہ فخر الدین بَلّے نے اپنی حیاتِ مستعار کے تمام لمحات اپنے عقیدے، مسلک اور فکر و خیال کے مطابق اس طرح بسر کئے کہ ان کے شوق کی تکمیل بھی ہوئی۔ انہیں ذہنی آسودگی بھی ملی۔ انہوں نے اپنی تحریروں ، تقریروں اور خاص طور پر شخصیت کی دل آویزی سے ایک عالم کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔ ان کا یہ شعر خود ان پر صادق آتا ہے۔
الفاظ و صوت و رنگ و نگارش کی شکل میں
زندہ ہیں لوگ آج بھی مرنے کے باوجود













