کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کا ایک اور اہم کمانڈر مفتی خالد افغانستان میں قتل

0
573

پاکستان میں کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے منسلک اہم جنگجو کمانڈر مفتی خالد کو سرحد پار افغانستان میں نامعلوم افراد نے قتل کر دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق مفتی خالد کو گولیاں مار کر قتل کیا گیا ہے جن کی لاش پاکستان کے قبائلی اضلاع باجوڑ اور مہمند سے ملحقہ افغان صوبے کنڑ سے ملی ہے۔

ٹی ٹی پی اور افغان حکومت کی طرف سے مفتی خالد کی ہلاکت کی نہ تصدیق کی گئی ہے اور نہ ہی تردید سامنے آئی ہے۔

پاکستان کے ذرائع ابلاغ کے مطابق مفتی خالد 2008 کی انتخابی مہم کے دروان ایک سیاسی جلسے پر ہونے والے حملے میں ملوث تھے۔ اس حملے میں 36 افراد ہلاک اور 17 زخمی ہوئے تھے ۔

اطلاعات کے مطابق مفتی خالد 20 دسمبر 2016 کو چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی پر ہونے والے حملے میں بھی مبینہ طور پر ملوث تھے۔

باچا خان یونیورسٹی پر ہونے والے حملے میں 19 افراد ہلاک اور 17 زخمی ہوئے تھے۔

اسی طرح مفتی خالد پر پشاور کے نواحی علاقے بڈھ بیر میں پاکستان ایئر فورس (پی اے ایف) کی ایک عمارت اور بس پر حملے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔

گزشتہ برس فروری میں بھی ٹی ٹی پی کے سابق ڈپٹی کمانڈر مفتی خالد کی افغان سیکیورٹی فورسز سے جھڑپ میں ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ البتہ اس وقت ٹی ٹی پی کے ترجمان نے ان خبروں کی تردید کی تھی۔

SHARE

LEAVE A REPLY