ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے مہاجرین اور سات مسلم ممالک کے شہریوں کی امریکا آمد پر پابندی کے فیصلے کے خلاف امریکا کے علاوہ متعدد یورپی ممالک میں احتجاجی ریلیاں منعقد کی جا رہی ہیں۔ گزشتہ روز امریکی ریاست فلوریڈا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گولف کلب کے باہر دو ہزار افراد نے اس صدارتی حکم نامے کے خلاف احتجاج کیا۔
اسی طرح دیگر امریکی شہروں کے علاوہ یورپ میں برطانیہ اور فرانس میں بھی ہزاروں افراد سڑکوں پر نکلے۔ یورپ میں سب سے بڑا مظاہرہ لندن میں ہوا، جس میں قریب دس ہزار مظاہرین نے برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے کی طرف سے امریکی صدر کی حمایت پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔
لندن میں ہزاروں افراد نے امریکی سفارت خانے کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے امریکی صدر کے خلاف نعرے بازی کی اور برطانوی حکومت سے صدر ٹرمپ کے دورہ برطانیہ کی منسوخی کا مطالبہ کیا۔ مظاہرے کی کال مسلم کونسل آف برِٹن اور فرینڈز آف اقصیٰ نے دی تھی۔ تاہم سٹاپ دی وار کولیشن اور سٹینڈ اپ ٹو ریسزم سمیت درجنوں برطانوی تنظیموں نے مظاہرے میں بھرپور شرکت کی۔ پیرس میں بھی امریکی صدر کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے ٹرمپ مخالف بینرز کے ساتھ ایفل ٹاور تک مارچ کیا۔













