اگر فرد نے اپنی طاقت سمجھ لی ہوتی؟فائزہ عباس

0
55

گر فرد نے اپنی طاقت سمجھ لی ہوتی تو یہ معاشرہ امن سکون اور محبت کا گہوارہ ہوتا ۔ ۔ ۔پھر جنت جانے کے لیے مرنے کا انتظار نہیں کرنا پڑتا ۔ ۔۔ بلکہ یہ دنیا جنت سے زیادہ دلکش اور حسین ہوتی ۔ ۔ ۔اگر کہ سمجھ لیتا فرد اپنی طاقت کو ۔ ۔ ۔تو کبھی ہوس ، و ریا کہ پیچھے نہیں بھاگتا بلکہ اپنے وجود کے جوہر اور گوہر تراشتا ۔ ۔ ۔ کہ پھر اس کا ھدف دولت اور عربوں کا حصول نہیں رہتا بلکہ رتبے، دولت ، سب اسکے محتاج ہوتے چوں کہ انسان نے اپنی طاقت و قوت کو محتاجی کے ہاتھوں فروخت کر ڈالا اور خود کے بت کو ضرورت سمجھکر پرستش میں مگن ہو گیا تو پھر معاشرہ انسانی حیوانوں کا وہ ریوڑ بن گیا کہ جس میں انسان سوائے اپنی کم نصیبی کے ۔ ۔ ۔کسی اور شے کو نہیں روتا دکھائی دیتا ۔ ۔ ۔اور یہ کم نصیبی اس کے پست انتخاب کے باعث ہے ۔ ۔ ۔اور یہ انتخاب انسان نے خود اپنی قیمت رتبہ، دولت، ہوس، ریا کو خود سازی، ادب، علم، ہنر اور جاننے کی خواہش و عزت نفس پر ترجیح دیکر کی اور دائمی مفلسی کو اپنا مقدر بنا بیٹھا ۔ ۔ ۔اور سمجھنے لگا کہ گویا ظاہر پا کر وہ بہت معتبر ہو گیا ہے جب کہ باطن کا سفر کیے بنا اصل تو پانا ممکن ہی نہ تھا ۔ ۔ ۔ اسی لیے ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ بظاہر بہت قابل ، اور عظیم و معروف ہستیاں بھی اندر سے بہت نا مکمل اور نا خوش محسوس ہوتی ہیں ۔ ۔ ۔ اور بہت سے دولتمند صاحب ثروتافراد اس اطمننان تک نہیں پہنچ پائے کہ جس کا راستہ خود میں اترنے کے باعث ہی دریافت ہو سکتا ہے ۔ ۔ ۔

اور زندگی کے دسترخوان سے انسان کو خواہش کے حساب سے نہیں بلکہ جرات ، ہمت اور ترجیح کے حساب سے میسر آتا ہے ۔ ۔ ۔ اور جب تلک انسان اس دسترخوان سے انتخاب کرنے سے پہلے نتخاب کی درست صلاحییت کو درک نہیں کر لے اور یہ جان نہیں لے کہ واقعی ہی درست انتخاب کرنا کسے کہتے ہیں ۔ ۔ ۔یعنی کب جیتنے کہ لیے ہار جانا ہے اور کب جیتنے کے لیے جیتنا ہے ۔ ۔ ۔اور کب ہمیشگی کی جیت کے لیے وقتی ، مصنوعی، عارضی ہار کو ترجیح دینی ہے ۔ ۔ ۔تب تلک انسان خود کا تعارف خود سے نہیں کروا سکتا ۔ ۔ ۔ کیوں کہ یہ جانے بنا کہ میرا فایدہ یا نقصان کس شے میں ہے ۔ ۔ ۔میری قیمت در حقیقت ہے کیا ۔ ۔ ۔؟؟؟
کیا میں وہ یوں جو لوگ مجھے سمجھتے ہی ، جس سب تعارف سے معاشرہ مجھے پہچانتا ہے یا کہ میں کچھ اور ہوں اور معاشرہ وہ نہیں جانتا کہ جو میں خود کے متعلق جانتا ہوں ۔ ۔ ۔
یعنی آسان لفظوں میں اگر کہا جائے تو انسان کی شخصیت پر تین عوامل اثر انداز ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔

ایک یہ کہ معاشرہ، لوگ، خاندان انسان کے متعلق کیا رائے رکھتے ہیں۔ ۔ ۔؟؟

دوسرا یہ کہ انسان خود کیا سمجھتا، جانتا اور مانتا ہے کہ لوگ اس کے متعلق کیا رائے رکھتے ہیں۔ ۔ ۔؟؟

لیکن سب سے اہم یہ ہوتا ہے کہ انسان خود کے متعلق کیا رائے رکھتا ہے ۔ ۔ ۔یعنی اسکی خالص رائے خود کے متعلق ہے کیا ۔ ۔ ۔منفی سوچتا ہے خود کے لیے یا کہ مثبت یا کہ جو لوگ اسکے متعلق رائے رکھتے ہیں اسی پر یقین رکھتا ہے یا کہ وہ جانتا ہے کہ اسکی قدر و قیمت کیا ہے ؟ اور کس شے میں ہے ۔ ۔ ؟ اور وہ خود کی قیمت کیا لگا رہا ہے اور در حقیقت کیا وہ قیمت طے کرنے کے ترازو کا درست استعمال کر پا رہا ہے ؟
کیا وہ جانتا ہے کہ اس کی قیمت طے کرنے کا حقیقی میعار کیا ہے ۔ ۔ ۔؟؟ اور جسے میعار سمجھ کہ وہ قیمت طے کر رہا ہے وہ حقیقی ہے ، دنیاوی ہے ، انفرادی ہے یا تصوراتی ہے ۔ ۔ ۔؟؟؟

قیمت طے کرنے سے پہلے درست انداز و میعار کی معرفت درکار ہے اور درست میعار کی معرفت سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ خود انسان کے اندر کیا موجود ہے۔ ۔ ۔کیا معلوم ہے۔ ۔ ۔؟
کیا ابھی خود سے ظاہر نہیں۔ ۔ ۔اور کیا ہے جسکی کھوج کر سکا ہے۔ ۔؟؟کیا ہے جسے تراش پایا ہے ۔ ۔؟
اور کیا ہے جہاں پر ابھی تک رکا ہوا ہے ۔ ۔ ۔؟؟؟
انسان کا وجود اتنا بے قیمت ہر گز نہیں کہ اسے جانے، پہچانے، سمجھے بنا اسکی قیمت طے ہو سکے اور معاشرے فرد سے وجود میں آتے ہیں اور اس وجود کی روح تب کھو جاتی ہے رخصت ہو جاتی ہ جب فرد اپنی طاقت، اپنی قوت، اپنی زات کے گوہر کو تراشنے کی بجائے اسے دنیا کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے بوکھلاہٹ، محرومی، شرم ، نادانی ، کم فہمی کے احساس کیساتھ الٹتا پلٹتا تو رہتا ہے مگر خود میں اتر کر نہیں دیکھتا کہ اس کی زات خود میں کیسا بڑا خزانہ ہے اور اس خزانے کا راستہ توجہ کیساتھ محنت طلب ہے کہ دنیا کا جب عام سا خزانہ انسان کو بنا مسافت نہیں ملتا ، بنا تکلیف اٹھائے اور جرات کیے تو اپنے حقیقی خزانے کو کیسے انسان بنا خود کا سفر کیے ، بنا خود کو کھنگالے اور صاف کیے ۔ ۔ ۔بنا کسی ریاضت و محنت کے۔ ۔ ۔بنا کسی صفائی ستھرائی کے کیے۔ ۔ بنا خود کی تاریکیوں اور روشنیوں کی پہچان کیے میسر آ سکتا ہے ۔ ۔ ۔ ؟؟؟
آج کا انسانی المیہ یہ بھی ہے کہ خود فراموشی کو انسان نے وڈ شناسی سمجھ لیا ہے جو یہ نہیں جانتا کہ وہ نہیں جانتا اور بضد ہو کہ وہ جانتا ہے اور اس جانے پہ تقیہ کیے جو سفر میں ہو گا اسکی حالت اس مسافر کی ہے کہ جسے نہ نسل پتہ ہے نہ راستہ نہ ہی یہ معلوم کہ درست سمت کونسی ہے ۔ ۔ ۔بلکہ وہ ہر رونق میلے کو منزل سمجھ کر جیتا چکا جا رہا ہے یہ انسان ہلاکت کے سفر پہ ہے اور اپنے نقصان اور تباہی کو اپنی کامیابی سمجھنے والا غافل ہے جسکے اندھیروں نے اسکی دیکھنے کی صلاحیت چھین لی ہے ۔ ۔ ۔
اور یہ نقصان انسان کا بہت بڑا نقصان ہے کہ جو ہر طرف سے کھو کر اس گمان میں رہے کہ بہت کچھ پا رہا ہے وہ خود فریبی کا شکار ہے ۔ ۔ ۔اور خود فریبی کی منزل ہلاکت اور تباہی ہے جو انسانی وجود کا وہ نقصان ہے جس کی بھرپاحی ممکن نہیں اور آج کے انسان ایسے ہی ہیں جو خود کے تباہی ہونے کو کامیابی تصور کرتے ہوئے خود کے لیے ہمیشگی کے نقصان کو ترجیح دیکر اپنا سب کھو بیٹھے یہی آج کے معاشرے کی تنزلی کی اولین وجہ ہے۔ ۔ ۔جس پہ انسان کا دھیان نہیں ۔ ۔ ۔
جب تک انسان باہر دیکھتا رہتا ہے وہ خواب دیکھنے کے مسلسل سلسلے پر معمور رہتا ہے اور جب وہ خود میں اتر جاتا ہے تو روشنیاں پھیلنے لگتی ہیں ۔ ۔ ۔ اور اس خواب سے بیداری نصیب ہوتی ہے اور جس قدر جو بیدار ہوتا چلا جاتا ہے اسی قدر فعال ، اور قیمتی ہوتا کا جاتا ہے ۔ ۔ ۔اور معاشرے بیدار افراد سے تشکیل پاتے ہیں سوئے ہوئے خوابوں میں مسحور لوگ کبھی معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا نہیں کر سکتے ۔ ۔ ۔

فائزہ عباس

SHARE

LEAVE A REPLY