ڈاکٹر نگہت نسیم تمہیں‌کینسر ہے ! قسط نمبر 47

2
1465

ساڑھے دس بج چکے تھے ۔۔ گاڑیاں‌آگے پیچھے جانے کے لیئے تیار کھڑی تھیں ۔۔۔۔ میں‌ خاموش تھی ۔۔ تیار ہو رہی تھی لیکن دھیان فریحہ کی طرف تھا ۔۔کیسی التجا تھی جیسے کوئی ڈوبتا ہوا انسان پانی سے ہاتھ باہر نکال کر مدد کے لئے پکارے ۔۔۔ میں نے اس کا ہاتھ تھام لیا ۔۔ میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ اسے ڈوبنے سے بچا لوں ۔۔۔اس دنیا کو اتنے بڑے نقصان سے بچالوں‌ ۔۔ایک اچھے انسان کا جہاں سے جانا کتنا بڑا نقصان تھا ۔۔ میں اپنی دعاؤں‌کو اپنی ہمت کی طرح‌جمع کر رہی تھی ۔
امی آپ ٹھیک ہیں‌ناں ۔۔ منیب نے مجھے گلے لگاتے ہوئے پوچھا
جی ۔۔بیٹا ۔۔میں بلکل ٹھیک ہوں ۔۔سنو اگر جیسیکا اور ایمیلیا گھر ہی رہیں‌تو زیادہ اچھا نہیں ۔۔ تم جانتے ہو ہوسپٹل ۔۔منیب نے میری بات مکمل ہونے سے پہلے کاٹ‌دی ۔۔ نہیں امی ہم سب جائیں گے ۔۔۔ جیسیکا تو ایمیلیا کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ بھی چکی ہے ۔
میں نے کل ہی اپنی بلیوں بینو اور آرنلڈ‌کو بتا دیا تھا کہ آپریشن کے لئے جا رہی ہوں‌ ۔۔ بگینی کو پیار کیا ۔۔ خدا حافظ‌کہا اور گاڑی میں بیٹھ گئی ۔
دونوں‌گاڑیاں‌آگے پیچھے اپنے وقت پر روانہ ہو چکی تھیں ۔ ۔۔ نجیب نے آفس سے ہوسپٹل آنا تھا۔

ہم تینوں‌خاموش تھے ۔۔ میں‌جان سکتی تھی وہ کیا سوچ رہے ہیں ۔۔ پر وہ یہ نہیں سوچ سکتے تھے کہ میں‌کیا سوچ رہی ہوں‌ ۔۔آپریشن سے پہلے میرے پاس صرف ایک ہی گھنٹہ ہو گا اور مجھے صرف دعائیں کرنی تھیں ۔۔ صرف فریحہ کے لئے نہیں بلکہ ہر اس فرد کے لئے جو مجھ سے کبھی نہ کبھی منسلک رہا ہوگا ۔۔چاہے فیس بک کے ایک تبصرے ہی کی صورت مجھے جانتا ہو ۔۔ مجھے ان کی محبتوں اور وقت کا قرض‌ دعاؤں کی صورت اتارنے ہیں ۔۔ مالک مجھے مہلت دے دے ۔۔ مجھے اتنا وقت ضرور دینا کہ میں سب کے لئے دعائیں کر سکوں ۔۔

جناب صفدر ہمدانی نے مجھے ناد علی پڑھتے رہنے کی تاکید کی تھی ۔۔

نادِ عَلیّاً مَظهَرَ العَجائِب تَجِدهُ عَوْناً لَکَ فِی النَّوائِب لی اِلَی اللهِ حاجَتی وَ عَلَیهِ مُعَوَّلی کُلَّما اَمَرتَهُ وَ رَمَیتُ مُنقَضی فی ظِلِّ اللهِ وَ یُضِلِلِ اللهُ لی اَدعُوکَ کُلَّ هَمٍّ وَ غَمٍّ سَیَنجَلی بِعَظَمَتِکَ یا اللهُ بِنُبُوَّتِکَ یا مُحَمَّدُ بِوَلایَتِکَ یا عَلِیُّ یا عَلِیُّ یا عَلِیُّ

اور وہ دعا جو انہوں نے میسج میں‌ریکارڈ‌کر کےبھیجی تھی وہ بھی جب جب موقع ملتا سنتی رہی تھی ۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَمَّن يُّجِيبُ المُضطَرَّ اِذَا دَعَاہ وَيَكشِفُ السُّووءَ وَيَجعَلُكُم خُلَفَاءَ الاَرضِ‌ ؕ ءَاِلٰـہ مَّعَ اللّٰہ ‌ؕ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ
( ترجمہ ؛ وہ کون ہے جو بے قرار شخص کی دعا قبول فرماتا ہے جب وہ اسے پکارے اور تکلیف دور فرماتا ہے اور تمہیں زمین میں(پہلے لوگوں کا) وارث و جانشین بناتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی (اور بھی) معبود ہے؟ تم لوگ بہت ہی کم نصیحت قبول کرتے ہو۔۔۔)

گھر سے نکلنے سے پہلے دو رکعت نماز حاجت کی بھی تاکید تھی ۔۔ صبح ان سے فون پر بات ہوئی تو انہوں نے مجھے پھر یاد دہانی کروائی تھی ۔۔ ان سے اجازت لے کر ہی سفر پر روانہ ہوئی تھی ۔۔ میں‌ بے اختیار ناد علی پڑھ رہی تھی ۔۔ ناد علی جب بھی پڑھتی تھی زہن میں بار بار وہ منظر گھوم جاتا ۔۔جب مجھے محبت ۔۔۔ نسبت ۔۔ملکیت ۔۔۔ عشق کی زاتیں سمجھ میں آئی تھیں۔

میں نے یہ بات اس طرح سے کبھی نہیں سوچی تھی جس طرح سے آج سے چند برس پہلے سوچی تھی .. میں آج بھی سوچتی ہوں تو وہ لمحہ مجھے حیران کر دیتا ہے … کہ ادراک صرف ایک لمحے کا کرشمہ ہی تو ہے .. فیصلہ .. یقین .. حوصلہ .. صرف ایک پل کی کہانی ہے ..

میں ان دنوں نئی نئی آسٹریلیا آئی تھی … روز نئے نئے چہروں سے ملنا مجھے ہراساں کر دیتا تھا .. لیکن مجھے ان سے ملنا ہی پڑتا تھا .. کبھی اپنی جاب کے حوالے سے تو کبھی بچوں کے اسکولوں کے حوالے سے .. غرض ہر روز کوئی نیا مذھب ..کوئی نئی زبان دریافت ہوتی تھی اور میں کبھی یہاں وہاں ان سے چھپتی ہوئی … مجھے پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ دنیا میں اسلام کے علاوہ بھی کئی طاقتور مذہب ہیں جن کے ماننے والے آپ کی کم فہمی کو مذاق بنا سکتے ہیں … پہلی بار میں نے دنیا کے دوسرے مذاہب کے مطالعے کی اہمیت کو سمجھا اور پھر مطالعہ کیا … بین الادیان مطالعے کے بعد مجھے انسانوں سے پہلی بار اتنی شدید محبت محسوس ہوئی کہ میں احساس تشکر سے مالا مال ہو گئی ۔

دوران سفر مجھے اللہ پاک کے حبیب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ۔۔۔ انہیں کے رنگ میں ڈھلے ہوئے ۔۔ انہیں جیسے مولا علی (ع) کے مقام سے بھی آگہی نصیب ہوئی … لیکن مجھے اس دن اپنی محبت میں شدید کمی کا احساس ہوا جس دن ایک بدھ مت مذہب کی لڑکی نیتا نے یہ کہہ کر مجھے اپنے ایمان کی تفصیل دینی شروع کی ” میرا بدھا یہ کہتا ہے اور میرا بدھا وہ کہتا ہے ” … وہ کہتی جا رہی تھی اور میں سنے جا رہی تھی .. اس کی محبت کی وہ اڑان دیکھ رہی تھی جس میں اس کے اپنے بدھا سے تعلق کی انتہا “ملکیت” کا روپ دھار چکی تھی … اس کی زبان … اس کی آنکھیں ۔۔ اس کے ہاتھ کے اشارے بدھا کے لیئے “خالص محبت ” کی روشنی کی لو دے رہے تھے …

میں نے گھبرا کر اپنے وقت کو پیچھے کی طرف موڑکر ایک لمحہ ملکیت ڈھونڈنا چاہا .. پر… مجھے کوئی ایسا لمحہ نہ ملا جس میں ، میں نے یہ کہا ہو” میرا رب” یہ کہتا ہے … میرے محمد (ص) یہ فرماتے ہیں .. میرے مولا علی (ع) کا یہ کہنا ہے … میرے مولا حسنین کریمین (ع) یہ کہا کرتے تھے .. میری بی بی سیدہ فاطمہ سلام اللہ ایسا کہا کرتی تھیں ۔۔۔ اس بدھ مت کی لڑکی نے محبت اور فریفتگی میں مجھے شکست دے دی تھی … سوزعشق کی کمی مجھے احساس ” ملکیت ” تک نہیں پہنچا پائی تھی ….

میں اپنی شکست شاید بھول ہی جاتی جو ایک سکھ لڑکی گگن سے ملاقات نہ ہو جاتی …. وہ مجھے ریڈیو اسٹیشن پر ملی تھی .. باتوں باتوں میں مجھ سے پوچھنے لگی کہ میں کہاں کی رہنے والی ہوں .. جب میں نے اسے بتایا کہ میں ” گرونانک پورہ (جو آجکل فاروق آباد کہلاتا ہے ) ، شیخوپورہ ” میں پیدا ہوئی تھی … تو ۔۔۔ دوسرے ہی لمحے وہ سب کام ادھورے چھوڑ کر دوڑتی ہوئی میرے گلے لگ گئی اور میرے ماتھے پر پیار کرتے ہوئے گلوگیر آواز میں پنجابی میں بولی ” تسی تےمیرے مکے مدینے دے او ” … میں اس کی گرونانک صاحب کی جائے نسبت سے محبت دیکھ رہی تھی … جس کی وجہ سے وہ مجھے پیار دے رہی تھی اور عزت میں سارا وقت کھڑی رہی …. میں حیران تھی کہ یہ کیسی محبت دیکھ رہی ہوں .. یہ کونسا عشق ہے جو جائے نسبت کی وجہ سے ” ملکیت” بن گیا تھا ….

اس روز گھرکو لوٹتے ہوئے میں بہت اداس تھی …بہت ملول تھی .. اوردل ہی دل میں اپنے رب سے صرف ایک ہی دعا مانگ رہی تھی کہ میرے عشق کو احساس ” ملکیت ” عطا کر دے … میں اپنی محبت کے گن گانا چاہتی ہوں ۔۔ ان نسبتوں کو عام کرنا چاہتی ہوں ۔۔۔۔ اپنے عشق کی کہانی لکھنا چاہتی ہوں … میں اپنے رب کو ساری دنیا کے سامنے “میرا رب” اور اس کے حبیب کو” میرامحمد (ص)” اور اس کے حبیب کے حبیب کو ” میرا علی (ع) کہہ کر پکارنا چاہتی ہوں …میں اپنے نبی پاک کی آل پاک سے ویسی ہی محبت کرنا چاہتی ہوں جیسا ان کا حق ہے …اور ۔۔۔ جیسا تو اور تیرا حبیب چاہتا ہے ۔۔۔ میں رواں رواں ناد علی کی پکار میں‌گم تھی۔

ممو جی اتریئے ۔۔ ہوسپٹل آگیا ۔۔آمنہ دروازہ کھولے ہاتھ بڑھائے کھڑی تھی
میں نے اس کاہاتھ تھام لیا ۔۔اور گاڑی سے اتر کر راہ داری پار کر کے مین ریسیپشن استقبالیہ تک آ گئی
کوویڈ‌ ٹیسٹ

(RAT)

کا رزلٹ‌۔۔ ضرروی سوالات کے انبار ۔۔کاغذات کی پڑتال سب کچھ اپنے وقت پر ہو رہاتھا۔
میں صرف ضروری جواب دے رہی تھی ۔۔زیادہ تر آمنہ ہی ساری کارروائی میں‌شامل تھی ۔ آفتاب اور منیب گاڑی پارک کر کے آ چکے تھے ۔۔ ایمیلیا گاڑی میں‌سو چکی تھی اسی لیئے جیسیکا اسی کے ساتھ گاڑی میں‌بیٹھی تھی ۔ ۔۔ نجیب کی وڈیو کال آگئی ۔۔ ہم سب ماسک میں‌ اپنے چہروں کے تاثرات کو چھپائے بیٹھے تھے ۔۔۔کوویڈ‌ نے ہم سے بہت کچھ چھین لیا تھا ۔۔اس میں سب سے زیادہ مسکراہٹ‌ کا نقصان ہوا تھا ۔۔ مسکراہٹ‌جو تسلی کی تصویر ہوتی ہے ۔۔ اپنے پن کی پہچان ہوتی ہے وہ چھپا دی تھی ۔

ایک نرس نے کمرے سے باہر نکل کر میرا نام پکارا ۔۔ میں آرام دہ کشن والی کرسی پر بیٹھی ہوئی تھی ۔۔ ایک دم اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔۔ سب باری باری مجھ سے گلے ملے ۔۔مجھے ماتھے پر پیار کیا ۔۔۔ اور میں نے آیت الکرسی پڑھ کر سب پر پھونکی ۔۔۔
تم سب اپنا اور ایک دوسرے کا خیال رکھنا ۔۔
ملتے ہیں‌ پھر ۔۔ میں ماسک اتار کر مسکرا دی اور ہاتھ ہلاتی ہوئی اندر کمرے میں چلی گئی ۔۔
وہ نرس ، آفتاب سے کہہ رہی تھی کہ اسٹاف ان کو آپریشن کے شروع اور ختم ہونے کافون پر اپ ڈیٹ‌کرتے رہیں گے ۔۔ اور آپریشن ختم ہونے پر ہی روم نمبر کا پتہ چلے گا ۔۔ سب اپ ڈیٹ‌آپ کو فون پر ملتی رہے گی ۔۔۔ آمنہ نے اپنا نام بھی لکھوایا کہ اسے بھی اپ ڈیٹ‌چاہیئے تھی ۔۔ اور یہ بھی کہ وہ اور آفتاب یہیں ہوسپٹل میں ہی رکیں گے ۔۔۔۔

اف یہ لڑکی بھی میری نہیں‌سنتی ۔۔ کہا بھی تھا کہ سب گھر چلے جائیں‌جب روم میں‌آونگی تو آجائیں‌۔۔۔ میری بات پر نرس ہنس دی
ان کے لئے بھی بہت مشکل وقت ہے ڈاکٹر نسیم
جانتی ہوں‌ ۔۔ میری آنکھیں بھیگ گئیں ۔۔۔

یوں‌جیسے میں کوئی ترازو ہو رہی تھی اور اللہ پاک کے ہاتھ میں‌ میری رسی تھی ۔۔ ایک پلڑے میں حیات تھی اور ایک پلڑے میں موت رکھی تھی ۔۔ میں نہیں‌ جانتی تھی کہ آج کونسا پلڑا بھاری رہے گا ۔۔۔ جو بھی تھا واقعی جہاد جیسا تھا ۔۔۔ سفید گاؤن میں مجھے لگا جیسے میں‌ نے کفن پہن لیا ہو ۔۔ میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا ۔۔

آخری سفر ہوا تو ۔۔ سوچتے ہی ایک ایسا سچ سامنے آیا کہ میں ہل کررہ گئی ۔۔۔ انسان جتنامرضی بہادر ہو ۔۔مثبت ہو ۔۔ مرنا نہیں‌چاہتا ۔۔۔ ڈاکٹر نگہت نسیم بھی تو ایک انسان ہی تھی ۔۔ ۔۔ لوگوں‌کے لئے کچھ بھی ہو ۔۔لیکن بے حد معمولی سی عورت تھی ۔ اپنے رب کے سامنے گنہگار اور خالی ہاتھ بیٹھی تھی اور ابھی مرنا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔ دوپہر کا ایک بج رہا تھا ۔۔میرے پاس وقت کی نقدی بڑی کم رہ گئی تھی ۔۔ کسی وقت بھی مجھے آپریشن تھیٹر لے جانے کے دو لوگ آ سکتے تھے ۔۔ لیکن مجھے بہت ساری دعائیں کرنی تھی ۔۔
شاید آخری شکریہ
شاید آخری دعا

جاری ہے
ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

2 COMMENTS

  1. اللہ پاک سے بڑھ کر محبت رحم کرنے والا کوئ نہیں ۔ شب بخیر ہی خیر الحمداللہ

  2. ماشاءاللہ ۔۔۔ سلامت رہیں۔ اللہ پاک آپکی توفیقات میں اضافہ فرمائے آمین ثمہ آمین ۔ اللہ پاک آپکو آسانیاں عطا فرمائے آمین ثمہ آمین

LEAVE A REPLY