افغان سیکیورٹی فورسز کو طالبان کی پیش قدمی روکنا ہو گی: امریکی وزیرِ دفاع

0
1412

امریکہ کے وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا ہے کہ افغان قیادت طالبان کے قبضے سے علاقے واپس لینے کی کوشش کے سلسلے میں آبادی کے بڑے مراکز کے ارد گرد فورسز کو دوبارہ منظم کر رہی ہے جب کہ ملک سے امریکی فوج کا انخلا بدستور جاری ہے۔

وائس آف امریکہ کی نمائندہ کارلا باب کے مطابق ہفتے کو ریاست الاسکا کی ایک ایئربیس کی طرف جاتے ہوئے وزیرِ دفاع نے اپنے ہمراہ جانے والے رپورٹرز کو بتایا کہ افغان رہنما طالبان کی پیش قدمی کو روکنے کے ارادے پر قائم بھی ہیں اور وہ اس کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

آسٹن کا کہنا تھا کہ افغان قیادت کے لیے سب سے پہلے اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ وہ طالبان کا ‘مومینٹم’ کم کریں۔ اس کے بعد انہیں اپنے آپ کو ایسی پوزیشن میں لانا ہے جہاں وہ طالبان کے قبضے سے علاقوں کو واپس لے سکیں۔

افغان قیادت کے حوالے سے آسٹن نے کہا کہ وہ طالبان کی پیش قدمی روکنے کا عزم اور صلاحیت رکھتی ہے۔ لیکن ہمیں دیکھنا ہو گا کہ آگے کیا ہوتا ہے۔

خیال رہے کہ طالبان کا دعویٰ ہے کہ افغانستان کا 85 فی صد علاقہ ان کے کنٹرول میں ہے۔

واشنگٹن میں قائم ادارے ‘فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز’ کے جریدے ‘لانگ وار جرنل’ کے مطابق یکم مئی سے شروع ہونے والے امریکی فوج کے انخلا سے اب تک طالبان نے اپنے زیرِ کنٹرول اضلاع میں تین گنا اضافہ کیا ہے۔

جریدے کے مطابق طالبان کے قبصے میں اضلاع کی تعداد 75 سے بڑھ کر اب افغانستان کے کُل 407 میں سے 220 اضلاع تک جا پہنچی ہے۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی روکنے کے لیے ملک کے بیشتر علاقوں میں ہفتے کی شب سے رات کا کرفیو لگا دیا گیا ہے۔

طالبان جنگجوؤں نے حالیہ عرصے میں ملک کے کئی علاقوں کا کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا تھا جس کے بعد اطلاعات ہیں کہ طالبان جنگجو ملک کے 34 صوبوں کے دارالحکومتوں اور کابل کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

وائس آف امریکہ کے اسلام آباد میں نمائندہ ایاز گُل کی رپورٹ کے مطابق افغان وزارتِ داخلہ کے ترجمان احمد ضیا ضیا نے ہفتے کو وائس آف امریکہ کو بتایا کہ کابل، ننگرہار اور پنج شیر کے سوا افغانستان کے تمام صوبوں میں رات 10 بجے سے صبح چار بجے تک کرفیو رہے گا۔

احمد ضیا کا کہنا تھا کہ “دہشت گرد گروپس زیادہ تر کارروائیاں رات گئے کرتے ہیں، لہٰذا رات کے اوقات میں لوگوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے کرفیو لگایا گیا ہے۔”

طالبان نے مئی میں امریکی اور اتحادی فوج کے انخلا کے دوران اپنی کارروائیوں میں اضافہ کیا تھا۔ طالبان کا دعویٰ ہے کہ ملک کے 200 سے زائد اضلاع اب ان کے کنٹرول میں ہیں۔

البتہ افغان حکومت کا یہ دعویٰ ہے کہ جھڑپوں کے دوران سیکڑوں طالبان جنگجوؤں کو ہلاک کیا گیا ہے جب کہ کئی اضلاع سے اُن کا کنٹرول واپس لے لیا گیا ہے۔

گزشتہ ہفتے امریکی فوج نے ایک بیان میں کہا تھا کہ افغانستان سے اس کا فوجی انخلا 95 فی صد مکمل ہو چکا ہے جب کہ یہ عمل آئندہ ماہ کے اختتام تک پورا ہو جائے گا۔

طالبان کی پیش قدمی روکنے کے لیے گزشتہ دنوں امریکی فضائیہ نے افغان فورسز کی مدد کے لیے بمباری بھی کی تھی۔

SHARE

LEAVE A REPLY