انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے شام کی جیل میں 2011 سے لے کر اب تک 13 ہزار افراد کو دی گئیں خفیہ پھانسیوں کا انکشاف کیا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل کا بتانا ہے کہ شامی انتظامیہ نے دمشق کے شمال میں قائم ایک جیل میں گرفتار شدہ افراد کو پھانسیاں دینے کا سلسلہ شروع کیا۔
اس جیل کو ‘مذبح خانے’ کا نام دیا گیا تھا۔
2011 سے 2015 کے دوران ہونے والے واقعات کا احاطہ کرتی انسانی حقوق کے ادارے کی اس تازہ رپورٹ میں کہا گیا کہ شام کے پہاڑی علاقے میں موجود شہر صیدنایا کی جیل میں ہر ہفتے 20 سے 50 افراد کو اجتماعی پھانسی پر لٹکایا جاتا تھا۔
ان افراد کو دی جانے والی پھانسی کے احکامات سینئر شامی افسران کی جانب سے دیئے جاتے تھے جن میں شامی صدر بشار الاسد کے نائب بھی شامل ہیں جبکہ پھانسیوں پر عمل درآمد ملٹری پولیس سرانجام دیتی تھی۔
رپورٹ میں اس عمل کو ‘طے شدہ مہم کے تحت ماورائے عدالت پھانسیاں’ کا نام دیا گیا۔
بیروت میں ایمنسٹی کے علاقائی دفتر میں ڈپٹی ڈائریکٹر کی ذمہ داریاں سرانجام دینے والی لین میلوف کے مطابق انسانی حقوق کے ادارے نے 1980 کے اواخر سے شام میں تشدد کے لیے استعمال کیے جانے والے 35 مختلف طریقوں کی بھی نشاندہی کی، جن پر 2011 سے عمل درآمد معمول بنتا جارہا ہے۔
دیگر کئی انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی شام کی جیلوں میں خوفناک تشدد کے باعث زیر حراست افراد کی موت کے شواہد حاصل کرچکی ہیں۔
گذشتہ سال سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق ایمنسٹی نے 2011 سے دوران حراست تشدد اور بدسلوکی کے نتیجے میں 17 ہزار افراد کی موت کی نشاندہی کی تھی، جس کے مطابق ہر ماہ 300 افراد موت کی وادی میں دھکیلے جارہے تھے۔
دیکھا جائے تو یہ اعداد و شمار حلب میں جاری خانہ جنگی سے ہلاک ہونے والے افراد کے برابر ہی لگتے ہیں جہاں 2011 سے اب تک 21 ہزار افراد جنگی صورتحال کی وجہ سے ہلاک ہوچکے ہیں۔
ڈپٹی ڈائریکٹر لین میلوف کے مطابق رپورٹ میں شامل خوفناک انکشافات شامی حکومت کی جانب سے اختلاف رائے کو دبانے کے لیے شروع کی گئی مہم کو ظاہر کرتے ہیں۔
چونکہ ان اعداد و شمار میں معلومات 2015 کی ہے لہذا لین میلوف سمجھتی ہیں کہ ہزاروں افراد کے قتل کے بعد اب یہ سلسلہ تھم چکا ہے، تاہم ماضی میں دی گئی یہ تمام پھانسیاں ایک یا دو منٹ کے مختصر ٹرائل کے بعد سنائی جاتی رہی ہیں، تاہم اس کی اجازت شام کی سب سے اعلیٰ مذہبی شخصیت سمیت وزیر دفاع سے بھی لی جاتی تھی۔
واضح رہے کہ شامی حکام اجتماعی پھانسیوں اور تشدد کے الزامات پر تبصرے سے گریز کرتے رہے ہیں، ماضی میں بھی بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے قتل عام کی ڈاکیومینٹریز اور رپورٹس کو مسترد کرکے انہیں پروپیگنڈا قرار دیا جاتا رہا ہے۔
اس رپورٹ میں سامنے آنے والے انکشافات 31 سابقہ زیر حراست افراد کے ساتھ ساتھ 50 سے زائد حکام اور ماہرین کے انٹرویوز میں سامنے آئے، جن میں سابقہ گارڈز اور منصفین بھی شامل ہیں۔
حاصل شدہ معلومات کے مطابق زیر حراست افراد کو بتایا جاتا تھا کہ انہیں شہری جیلوں میں منتقل کیا جارہا ہے مگر انہیں دوسری عمارت میں لے جا کر پھانسی پر لٹکادیا جاتا تھا۔
اسی جیل میں قید ایک سابق گرفتار شخص عمر الشوگری کا انسانی حقوق کے ادارے کو بتانا تھا کہ گارڈز ان کے سیل تک آتے اور ان کے نام پکارتے، ایسا کبھی کبھار ہفتے میں تین بار ہوتا تھا۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں عمر کا مزید بتانا تھا کہ تشدد کا آٖغاز نصف شب سے کچھ پہلے کیا جاتا اور آس پاس کے چیمبرز میں موجود قیدیوں کو چیخ و پکار کی واضح آوازیں سنائی دیتیں، جس کے بعد ان افراد کو کسی بڑی گاڑی میں ڈال کر لے جایا جاتا۔
صیدنایا کی جیل میں 9 ماہ گزارنے والا 21 سالہ عمر الشوگری اب سوڈان میں رہتے ہیں۔
صیدانایا کی ہولناکی کو یاد کرتے ہوئے اس کا مزید بتانا تھا کہ جب سیل میں موجود دیگر افراد کو مارا پیٹا یا برا بھلا کہا جاتا تھا تو دیگر افراد کو آنکھیں بند کرنے کا حکم جاری کیا جاتا تھا، جس کے بعد اہلکار تشدد کے شکار قیدی کو کبھی ساتھ لے جاتے اور کبھی وہیں چھوڑ جاتے، جبکہ کبھی اس سب کے بعد کمرے میں موجود قیدیوں کے سامنے خون کا تالاب موجود ہوتا تھا۔
9 ماہ اس خوفناک جیل میں گزارنے والے عمر کو 2015 میں آزادی نصیب ہوئی مگر اس وقت تک اس کا وزن کم ہو کر 35 کلو رہ چکا تھا جبکہ ٹی بی کا مرض بھی لاحق ہوچکا تھا۔
تاہم اس کے دو کزن اس کی طرح خوش نصیب نہیں تھے، ایک نے تو اس کے ہاتھوں میں بھوک اور نقاہت کے باعث دم توڑا۔
ایک موقع پر عمر کو بھی پھانسی کے لیے پکارے گئے قیدیوں کا حصہ بننا پڑا، اسے ملٹری ٹرائل کے لیے لے جایا گیا اور حکم دیا گیا کہ وہ جج کے سامنے اپنی آنکھیں نہ اٹھائیں، جس کے بعد اس سے سوال کیا گیا کہ اس نے کتنے فوجیوں کو ہلاک کیا۔
عمر نے جب کوئی جواب نہ دیا تو جج نے اسے چھوڑ دیا، مگر اسے اب بھی یاد ہے کہ صیدنایا میں موت ہوا کی طرح ہر وقت آس پاس موجود ہوتی تھی۔












