جناب یہ بات تو اآپ کوبہت لوگ بتا رہے ہیں آج آپ نے اس کو اپنی تقریر میں استعمال کر لیا ہمیں اچھا لگا مگر محترم حمزہ شہباز صاحب بات صرف اتنی سی ہے کہ ہمیں دوسروں کے کفن نظر اآتے ہیں اپنا کفن اآج تک شاید ہی کسی نے دیکھا ہو ۔اس لئے یہ بہت عبرت ناک بات ہے کہ ہمیں ایک حقیقت کا علم ہے مگر ہم اُس پر توجہ نہیں دے رہے ۔کہتے ہیں کہ برائی کرنے والا اور برائی کو دیکھ کر چُپ رہنے والا یا برائی کے خلاف اآنکھیں بند کر لینے والا بھی برائی کا حصہ بن جاتا ہے ۔اس لئے جب اتنی بڑی حقیقت اآپ نے دُہرائی ہے لوگوں سے سُن کر تو اس پر سوچنے اور غور کرنے کی بھی کوشش کریں ۔ایک بات ہم اآپ کو اور بھی بتا دیں کہ قبر میں سیج بھی نہیں ہوتی نہ ہی روشنی جب تک کہ اعمال اچھے نہ ہوں اللہ ہم سب مسلمانوں کو ان مشکلوں سے بچائے اور ہم سب اپنے اعمال پر ایک نظر کر لیں ۔ اچھے عمل کریں اچھائی کا ساتھ دیں اور برائی کو ختم کرنے کی کوشش کریں چاہے سامنے ہمارے کتنے ہی قریبی کیوں نہ ہوں ۔کہ سب سے مشکل کام ہے اپنوں کی برائی کو سامنے لانا اُس پر اآواز اُٹھانا اور اُسے ختم کرنے کی کوشش کرنا ۔

ایک تقریر میں کہا گیا ترقی نظر اآتی ہے ہم ڈھونڈھ رہے ہیں کہاں ہے ترقی ،کیا صرف سڑکیں ترقی کا معیار ہیں ، یا پھر خاندانی اور کاروباری ترقی مُراد ہے پھر تو ہم کہینگے واقعئی ترقی ہوئی ہے اور بے شمار ترقی ہوئی ہے۔ صرف چند خاندانوں کے لئے ۔لیکن اگر ترقی اسکول ہیں اسپتال ہیں وسائل کا استعمال ہیں عوام کے لئے روزگار ہیں تو ہمیں یہ سب کہیں نظر نہیں آتا ۔ اگر وزیرَ اعظم ان اہم اداروں پر بھی نظر کر لیں تو شاید بجائے موٹر وے کے ہمارے بچوں کو اچھی درسگاہیں مل جائیں ۔بیماروں کو اچھا علاج مل جائے کاش دیکھیں کہ کس طرح کرپشن نے ہر ادارے کو لپیٹ میں لے لیا ہے ،کہ فنڈ کتنا ہی کیوں نہ وہ خرچ کہاں ہوتا ہے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ۔سڑکیں ضرور بنائیں بسیں ضرور چلائیں مگر ہر بات کی ایک اہمیت ہوتی ہے پہلے اُن مسائل کو دیکھیں جو اہم ہیں اور ہمیں مشکل میں ڈال رہے ہیں ۔
وزیرِ دفاع نے فر،مایا ہے کہ اسحاق ڈارصاحب نے بیان سخت دباؤ میں دیا ۔ہماری دعا ہے کہ یہ دباؤ ہر اُس شخص پر ڈالا جائے جسے کچھ بھی شُد بُد ہے کرپشن کی ، کہ وہ بھی بے شمار صفحوں پر لکھ ڈالے کچا چٹھا ہر کرپشن کا ۔ایسا دباؤ کہ اُس میں لکھی گئی ایک ایک بات قابلِ گرفت ہے چیک نمبر موجود ہیں ،بینک کے نام موجود ہیں ۔لوگوں کے نام شامل ہیں کیا اتنی زبردست دستاویز کوئی دباؤ میں یاد رکھ سکتا ہے کہ کہاں کہاں سے ہوتا ہوا سرمایہ کہاں پہنچا ،کن کن کے کندھوں پر چڑھ کر بدیس سدھارا ۔ہم حیران ہیں کہ دباؤ میں انسان کا دماغ اتنا زبردست چلے ۔اور کوئی بھی بات غلط نہ ہو ہم کہینگے واہ بھئی واہ ۔۔۔کاش سب کے ضمیر اس طرح جاگ جائیں کہ کہ میرے ملک کی قسمت بدل جائے ۔

ایسا لگتا ہے کہ وزراء زبردست دباؤ کا شکار ہیں کہ انہیں سمجھ ہی نہیں اآرہا کہ وہ کس موقعے پر کیا بات کر رہے ہیں ۔ایک صاحب نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ کاہلوں کی اولادیں کچھ نہیں کرتیں کیونکہ وہ سب خود کاہل ہیں ۔؟ یعنی انہوں نے تمام عوام اور غریبوں کو کاہل اور کاہلوں کی اولاد کہنے میں دیر نہیں لگائی کہتے ہیں کہ وزیرَ اعظم کے بچے اسمارٹ ہیں اور بزنس مین کے بیٹے ہیں اس لئے انہوں نے یہ سب کچھ بنا لیا ۔ہمیں بہت دُکھ ہے کہ اپنے لیڈر کو بچانے کے لئے اآپ تمام ایماندار لوگوں کی توہین کر رہے ہیں یہ کہہ کر کہ وہ کاہل ہیں اور کاہل کی اولادیں ہیں ۔۔لیکن ہماری عوام بھی بہت سخت چمڑی والی ہے اُس پر کسی بات کا نہ اثر ہوتا ہے نہ وہ ان کے خلاف ہوتی ہے ۔

ایک اور صاحب نے فرمایا کہ اگر منتخب وزیرِ اعظم کے خلاف فیصلہ اآیا تو کوئی بخشا نہیں جائیگا ۔واہ بھئی واہ کمال ہے بخشا تو کوئی ویسے بھی نہیں جا رہا آپ کے دور میں ؟ دُکھ اور افسوس صرف یہ ہے یہ وہ لوگ ہیں جو ووٹ لیتے وقت ہمارے واری صدقے جاتے ہیں ،کیا ہم ایسے لوگوں کے عہدوں کو صدقہ نہیں کر سکتے اپنے ملک پر جو ہماری جڑوں تک کو کھوکھلا کر رہے ہیں ۔جنہوں نے ہم سے ہماری حِس تک چھین لی کہ اب کوئی بھی کچھ کہتا رہے ہمیں اثر ہی نہیں ہوتا ۔کیا ایسے ہوتے ہیں غیور عوام ،شاید نہیں ،غیور عوام تو ہوتے ہیں رومانیہ جیسے لوگ جو ایک قانون کے خلاف سڑکوں پر نکل پڑے کہ نہیں کرنی ہمیں کرپشن چاہے تھوڑی ہو یا بہت ۔یہ ہوتے ہیں ذندہ لوگ جو برائی کے خلاف سڑکوں پر نکل اآتے ہیں ،اور مجبور کر دیتے ہیں اپنے حاکموں کو صحیح فیصلے کرنے پر ۔یہ کہتے ہیں منتخب شخص جو بھی کرے چاہے قتل کرے ،کرپشن کرے،لوٹ مار کرے ۔اُسے بارہ خون معاف ہیں یہ کیسا کردار ہے ۔ہم سوچ سوچ کر پریشان ہیں کہ ہم اپنی اآنے والی نسلوں کو کیا دے رہے ہیں ۔خدا را سوچیں کہ یہ وہ زہر ہیں جو بڑی خاموشی سے سرایت کر جاتا ہے اآنے والی نسلوں میں اور لے ڈوبتا ہے ہر اچھائی اور حق کو ۔اس لئے زرا سوچیں ؟؟؟

کہتے ہیں ہم لوہے کے چنے ہیں ،لیکن جناب اب تو ٹیکنالوجی ایسی اآگئی ہے کہ لوہے کے چنے ہوں یا اسٹیل کے ایک پیپر اآنے پر پِس جاتے ہیں ،برادہ ہو جاتے ہیں ،اصل میں لوہے کا چنا تو ہے پاناما جو آپ سے نہیں چب رہا عوام کو تو آپ نے خوب چبا لیا ؟؟؟؟

ہم بھی اسی دُنیا کا حصہ ہیں اور ایک مُقدمے پر تمام دُنیا کی نظریں ہماری طرف ہیں کاش ہم سُرخرو ہوں کہ نہیں قبول ہمیں کرپشن کسی حال بھی چاہے کوئی بھی کرے ؟؟؟؟؟
اللہ میرے ملک کی حفاظت فرمائے آمین

SHARE

LEAVE A REPLY