صوبہ سندھ خصوصاً کراچی کئی دہائیوں سے لاقانونیت، لوٹ مار، اسٹریٹ کرائم اور قتل و غارت گری کا شکار ہے۔نگران حکومت نے رینجرز سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اختیارات دیے تو شہریوں نے دیکھا کہ رینجرز صوبے کو جرائم سے نجات دلانے کے لیے کتنےپرعزم ہیں۔ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل اظہر وقاص کی سربراہی میں رینجرز کےجرائم پیشہ افراد کے خلاف کریک ڈاؤن سے شہریوں نے سکون کا سانس لیا ہے۔ زمینوں پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف رینجرز کی کارروائیوں کے نتیجے میں لوگوں کی زندگی بھر کی کمائی سے خریدی گئی زمینیں واپس لے لی گئی ہیں۔دوسری جانب کراچی کے کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں گزشتہ 15 سال سے پانی نہیں آرہا تھا کیونکہ بااثر افراد پانی کی مین لائن توڑ کر صنعتکاروں کو پانی فروخت کرکے ہر ماہ کروڑوں روپے کما رہے تھے۔رینجرز کے بڑے آپریشن کے نتیجے میں ان علاقوں کے نلکوں میں پانی آنے لگا اور لوگ جھولی پھیلا کر اللہ اور رینجرز کا شکر ادا کر رہے ہیں۔

ایران سے روزانہ سیکڑوں ٹن پیٹرول کراچی اسمگل کیا جاتا تھا جس کے نتیجے میں ملکی معیشت کو مستقل نقصان پہنچ رہا تھا۔رینجرز نے شہر کے داخلی راستوں پر بنائے گئے بڑے گوداموں پر مسلسل چھاپے مار کر چھالیہ سمیت پٹرول اور دیگر اشیا کی سمگلنگ کا تقریباً خاتمہ کر دیا ہے۔ پاکستان سے روزانہ لاکھوں ڈالر افغانستان اسمگل کئے جا رہے تھے جس کے نتیجے میں ملک کی اقتصادی جڑیں رفتہ رفتہ کھوکھلی ہو رہی تھیں بدقسمتی سے اس دھندے میں بہت سے اعلیٰ سیاسی رہنما اور سول و عسکری افسران بھی ملوث تھے تاہم آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی جانب سے ڈالروں کی افغانستان اسمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف یہ دوٹوک کارروائی کا حکم سامنے آیا کہ خواہ وہ کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے آرمی چیف کے واضح اعلان کے بعد ایک جانب تو رینجرز نے سرحدوں پر اپنی مانیٹرنگ سخت کر دی جبکہ دوسری جانب سندھ رینجرز نے اس کالے دھندے میںملوث بااثر افراد کے کراچی اور دوسرے شہروں میں موجود ایجنٹوں کے خلاف دائرہ تنگ کرنا شروع کر دیا بالاآخربڑے بڑے بااثر لوگوں کے بنگلوں اور دفاتر میں رکھے گئے لاکھوں ڈالر ضبط کر کے ڈوبتی ہوئی ملکی معیثت کو سنبھالا دیا۔
صوبہ سندھ میں ڈی جی رینجرز کی نمایاں کامیابیوں بہت متاثر کن ہیں۔منشیات سے متعلق سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے اور غیر قانونی رابطوں سے نمٹنے میں ان کی کوششیں، خاص طور پر ان لوگوں کے خلاف جن میں بااثر افراد شامل ہیں، قانون کی پاسداری اور کمیونٹی میں انصاف کو یقینی بنانے کے عزم کو ظاہر کرتی ہیں۔مزید برآں، کراچی میں اسٹریٹ کرائم کی روک تھام میں ان کا کردار عوامی تحفظ کو برقرار رکھنے اور صوبے میں سیکیورٹی کی مجموعی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ٹھوس کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔یہ واضح ہے کہ ان کے اقدامات نے جرائم کی شرح کو کم کرنے اور رہائشیوں کے لیے ایک محفوظ ماحول کو فروغ دینے کے لئے مثبت اثر ڈالا ہے۔یہ صورتحال غیر قانونی سرگرمیوں سے نمٹنے کی پیچیدگی اور پیدا ہونے والے غیر ارادی نتائج کو نمایاں کرتی ہے۔

ڈی جی رینجرز سندھ کی کارکردگی کو اکثر مختلف عوامل کی بنیاد پر جانچا جاتا ہے جن میں امن و امان برقرار رکھنا، دہشت گردی کا مقابلہ کرنا، غیر قانونی سرگرمیوں سے نمٹنا، اور صوبے کی مجموعی سیکیورٹی میں کردار ادا کرنا شامل ہیں۔میجر جنرل اظہر وقاص (HI) M کی سربراہی میں صوبہ سندھ میں رینجرز نے جرائم سے نمٹنے کے لیے اہم کارروائیاں کی ہیں، جن میں منشیات کے اڈوں کا قلع قمع کرنا، پانی کے غیر قانونی کنکشنز کا سدباب کرنا، حیدرآباد جیسے علاقوں میں لینڈ مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن اورکراچی میں اسٹریٹ کرائم کو کم کرنے کے لیے اقدامات شامل ہیں۔ڈی جی رینجرز اور ان کی زیر کمان فورس کی طرف سے کی جانے والی کوششوں کو اکثر صوبے میں سیکیورٹی کی صورتحال اور مجموعی استحکام کو بہتر بنانے میں اہم سمجھا جاتا ہے۔
میجر جنرل اظہر وقاص نے 21 ستمبر 2022 کو پیرا ملٹری فورس سندھ کے سربراہ کے طور پر اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالیں لیکن انہیں اختیارات 20 اگست 2023 کو سندھ کی نگراں کابینہ کی حلف برداری کے بعد ہی مل سکےجس نے رینجرز کو جرائم، غلط کاموں، کرپشن پریکٹس اور قومی خزانہ کی چوری کے خاتمے کا اختیاردیا۔ میجر جنرل وقاص اظہر ایک نڈر،
دلیر اور حوصلہ مند افسر ہیں، ان کی یہ خوبیوں کا عملی جائزہ لینے پر اعلیٰ عسکری قیادت کی جانب سے انہیں ہلال امتیاز ( ملٹری) کا ایوارڈ دیا گیا۔ اختیارات ملتے ہی سندھ رینجرز چیف نے اپنی فورس کو پورے صوبے میں ملوث فراد کی حیثیت کو دیکھے بغیر جرائم کے خاتمے کا حکم دیا۔شہریوں نے دیکھا اور اعتراف کیا کہ رینجرز پوری نیک نیتی سے جرائم کے خاتمے کے لئے اقدامات کر رہے ہیں۔ اکثر مواقعوں پر لوگوں کو یہ سوال بھی کرتے دیکھا گیا کہ رینجرز تو برسوں سے سندھ میں تعینات ہے توپھر پہلے ہی انہوں نے جرائم میںملوث بااثر افراد کے خلاف کارروئی کیوں نہیں کی؟ جب شہر یوں کو اس حقیقت کا علم ہوا کہ رینجرز نےجرائم کے خاتمے کے لئے قانونی طور پر اختیارات ملنے کے بعد ہی اپنی کارروائیاں شروع کی ہیں تو کئی مقامات بالخصوص کراچی میں انہیں رینجرز کے حق میں نعرے بازی کرتے اور ان کے لئے دعائیں کرتے دیکھا گیا ہے۔

اگر 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں بننے والی حکومت رینجرز کو دیئے گئے اختیارات برقرار رکھتی ہے تو امید کی جا سکتی ہے کہ ملکی معیشت کی جڑیں کاٹنے والے ان جرائم پیشہ عناصر کا جلد خاتمہ ہو جائے گا۔ڈی جی رینجرز، سندھ کا صوبے میں سیکیورٹی برقرار رکھنے، دہشت گردی سے نمٹنے اور امن و امان کو یقینی بنانے میں اہم کردار ہے۔ان کی کارکردگی اکثر صوبے کو درپیش مختلف سیکورٹی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی کوششوں کی شدت کو ظاہر کرتی ہے۔ڈی جی رینجرز سندھ سے منسوب مخصوص کامیابیوں یا چیلنجز میں انسداد دہشت گردی کی کامیاب کارروائیاں، قیام امن کی کوششیں اور صوبے میں سیکیورٹی کی مجموعی حکمت عملیوں میں تعاون شامل ہیں۔ڈی جی رینجرز سندھ کی نگرانی میں خطے کی سلامتی اور فلاح و بہبود کو متاثر کرنے والے مختلف مسائل سے نمٹنے کے لیے مختلف آپریشنز کیے گئے ہیں۔رینجرز اکثر مقامی حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں تاکہ روایتی سیکورٹی خدشات سے ہٹ کر مختلف مسائل کو حل کیا جا سکے۔اس طرح کے معاملات میں ان کی شمولیت کا مقصد عوامی تحفظ کو یقینی بنانا، غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنا، اور کمیونٹی ویلفیئر کی حمایت کرنا ہے۔

ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل اظہر وقاص نے کندھ کوٹ میں کچے کے علاقے اور کشمور کے قریبی علاقوں کے جنگلات کا دورہ بھی کیا جہاں ڈاکوؤں اور جرائم پیشہ گروہوں نے اپنی سلطنت بنا رکھی ہے۔ یہ مجرم شہریوں کو اغوا کر کے تاوان کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی فورس اور پولیس کو اس قسم کے جرائم جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے بڑے اور طویل آپریشن کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا۔بدقسمتی سے ان جرائم میں بھی بڑے وڈیرے ملوث ہیں مگر ڈی جی رینجرز اور نگراں وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) حارث نواز نے بھی واضح لفظوں میں بڑے وڈیروں کو متنبہ کر دیا ہے کہ وہ جرائم پیشہ لوگوں بالخصوص تاوان کے لئے شہریوں کو اغوا کرنے والے ڈاکوئوں کی سرپرستی سےباز آ جائیں ورنہ ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی

SHARE

LEAVE A REPLY