آج صبح ہاسپٹل جانےکےلیے حسب معمول تیارہونے کے بعد چائے پیتے ہوئے فیس بک پر ایک نظر ڈالی تو چونک گئی ۔۔ عزیر رشید کی ویڈیو تھی جس میں فیصل آباد کے لڑکوں نے کوئی نیا نوٹس نہیں لیا ہوا تھا بلکہ عزیر بہت سنجیدگی سے گفتگو کر رہا تھا ۔۔ دل دھک سے رہ گیا ، کئی بار بہت دھیان سے دیکھی اور سنی اور جتنی بار ایسا کیا اتنی بار پہلی بار سے بڑھ کر افسوس اور دکھ ہوا۔۔ وہ کہہ رہا تھا کہ “ اگر ہمیں قتل کردیا جائے تو یہ ویڈیو ضرور دیکھ لیجیے گا ، اس سے پہلے کہ فیصل آباد کے لڑکوں کو خاموش کردیا جائےاس ویڈیو کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں ۔ شکریہ “ ۔۔ کئی لوگوں نے شاید سمجھا ہو کہ یہ پبلسٹی سٹنٹ ہے لیکن نہیں یہ ایک انتہائی سنجیدہ دھمکی کی بات تھی جس میں کسی مبینہ “ میاں فیصل نبیل “ جو دبئی میں رہایئش پذیر ہے ۔ اس نے فیصل آباد لڑکوں کے گروپ کے سربراہ عزیر رشید کو دبئی میں شوز کرنے کے لئے رابطہ کیا اور معاملہ دس ہزار ڈالر میں طے ہو گیا۔ دوسرے مرحلے میں عزیر رشید سمیت زیشان حیدر ، نجو علی خان اور اعجاز کے تمام ضروری کاغذات جن میں پاسپورٹ کاپی ، بینک ڈیٹیلز اور شناختی کارڈ بھی شامل ہے منگوائے اور غائب ہو گیا اور جس تاریخ کو شوز ہونے تھے گزرنے کے بعد دھمکیاں دے رہا جس میں وہ لکھتا ہے “ تم نے مریم نواز اور میاں نواز شریف کے جذبات سے کھیل لیا ، اب تمہاری باری ہے ۔۔خبردار رہنا “ ۔۔

میرے عزیز دوستو ۔۔!
پاکستانی یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ پاکستان ہم سب کا ملک ہے اور اس کے اندر ہونے والا ہر واقعہ ہم سب کو کسی نا کسی حوالے سے متاثر کرتا ہے ، لیکن شاعروں ، ادیبوں ، طنز و مزاح نگاروں ، صدا کاروں اور صحافیوں یعنی اظہار کرنے والوں کو سب سے زیادہ متاثر کرتا ہے کیونکہ یہ طبقہ بہت ہی حساس دل کے ساتھ بہت قریب سے منظر کشید کر رہا ہوتا ہے ۔ اس لیے اس صنف سے وابستہ لوگوں کو حکومت کا ستون بھی کہا جاتا ہے اور رابطہ پل بھی تاکہ اچھے برے پیرائے میں عوام کے دل کی بات ایوانوں تک پہنچ جائے اور دونوں طرف سے خیالات کا تبادلہ ممکن ہو سکے ۔

فیصل آباد کے لڑکوں کو میں ذاتی طور پر جانتی ہوں ۔ یہ عمر میں بہت سے لوگوں سے چھوٹے ہیں لیکن ان کے کام بہت سارے بڑے لوگوں سے بڑے ہیں ۔ میرا یقین کیجئے عزیر رشید نے یہ مقام ایسے نہیں بنا لیا کہ اس کے کام سے ڈر کر دشمن اسے قتل کی دھمکیاں دینے لگے ہیں ۔ دو ہزار چھ سے لیکر آج تک اس نے صرف محنت کی ہے ، میں اس محنت کی گواہوں میں سے ایک ہوں ۔ اپنے اس سفر میں عزیر رشید نے کتنے دھوکے کھائے ہیں میں یہ بھی جانتی ہوں ، لیکن پاکستان سے محبت اور اس کی بھلائی کے جنون نے اسکو کبھی بھی ڈگمگانے نہیں دیا ۔

یوں تو جب سے عزیر رشید اور اس ٹیم نے مقامی ٹیلی وژن رائل نیوز پر پروگرام “ سیاسی اداکار “ شروع کیا تھا جب سے اسے کام کے معاوضے کی بجائے لگاتار دھمکیاں مل رہی تھیں ۔ کیونکہ عزیر رشید زیادہ تر سیاسی لوگوں پر سکٹ لکھتا ہے اور اس کے ساتھ اس کی سربراہی میں پیش کرتے ہیں اس لیئے دھمکیاں ملنا بہت ممکن ہیں۔ عزیر رشید نے اس بات کا اظہار جناب صفدر ہمدانی اور مجھ سے ہمارے حالیہ ادبی دورے کے دوران کیا بھی تھا ۔اس کی یہ فکر مندی اور پریشانی اس کو اپنے لیے ہر گز نہیں تھی بلکہ اپنی ٹیم سے جڑے ہوئے ہر فرد کے لیے تھی ۔ اس نے بڑی دردمندی سے مسکراتے ہوئے کہا تھا “ حساس دل شاعر ہو کہ ادیب ، ٹی وی فنکار ہو کہ ریڈیو اینکر ۔۔ الغرض جو جواپنی عوام کے لیے آواز اٹھاتے ہیں یا ان کی آواز بن جاتے ہیں، انہیں جسمانی ، معاشی اور جذباتی خسارا اٹھانا پڑتا ہے“ ۔۔

فیصل آباد کے لڑکوں میں سے کوئی جدی پشتی دولت مند نہیں ہے ، ان کے پاس کوئی جائیداد نہیں ہے اور نا ہی کوئی ان کے خاندان میں فنکار ہے اور نا ہی وہ کسی امریکن یا آسٹریلین اکیڈمی سے تعلیم یافتہ ہیں ۔ سب سیدھے سادے سفید پوش گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ان کا قصور صرف اتنا سا ہے کہ انہیں خود پر بہت بھروسہ ہے اور اپنی پہچان خود بنانے کا جنون ہے ۔ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے جیسے وہ کسی جنگل میں اس ہریالی کی طرح ہے جو خود رو ہوتی ہے ، جس کے خوشنما پھول جنگل کی خوبصورتی اور پہچان ہوجاتے ہیں ۔ اور کبھی ان کی محنت اور لگن پر فلم سیکرٹ سپر سٹار میں عامر خان کا ڈائیلاگ یاد آ جاتا ہے ، جس میں وہ کہتا ہے کہ کہ “ ٹیلنٹ سیون اپ کے بھرے گلاس میں اوپر اٹھنے والے بلبلوں کی طرح ہوتا ہے ، جس کو کسی سفارش کی ضرورت نہیں ہوتی اور وہ اپنی محنت اور لگن سے خود بخود نچلی سطح سے اوپر آجاتے ہیں ۔

عزیرشید نہ صرف بے باک صحافی ، دلیر ریڈیو اینکر اور بہت ہی حساس دل رکھنے والا شاعر اور نثر نگار بھی ہے ۔ اس لئے اس نے آج بھی یہی کہا وہ اپنے تمام تر پروگرام اور سوشل ویڈیوز کے کونٹینٹ خود لکھتا ہے۔ آپ اس کی بہادری کا اندازہ لگایئے کہ اس نے آج کی وڈیو میں یہ بھی کہا ہے کہ “ اگر کسی کو کونٹینٹ سے کوئی مسئلہ ہے تو مجھ سے بات کرے ، لیکن ان کے ساتھیوں کو نشانہ نہ بنایا جائے“ ۔

مجھے کہنے دیجیے کہ پاکستان میں جن کی سفارش ہوتی ہے یا جن کے پشت پناہی میں کسی بڑے یعنی سیاسی یا فوجی آدمی کا ہاتھ ہوتا ہے وہ تو ہر طور بچ جاتے ہیں۔ وہ افراد جو بڑی محنت سے اپنے گھر چلا رہے ہوتے ہیں ان کا پرسان حال نہیں ہوتا ، ان کا کوئی ہاتھ نہیں پکڑتا ، ان کو ان کے کام معاوضہ بھی نہیں ملتا ، ان کو کوئی تسلی بھی نہیں دیتا ۔۔۔ اور تحفظ کے لئے بھی ان کو اپنے ہی لوگوں کے پاس آنا پڑتا ہے
۔ اور ان حالات میں اب ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم فیصل آباد کے لڑکوں کی ٹیم کے سربراہ عزیز رشید کی وڈیو کو بار بار سنیں اور اسے آگے پہنچائیں شاید کے حکومت کے کسی ذمہ دار ادارے کے آفیسران تک اور تحفظ کے اداروں تک بات پہنچ جائے اور ہمارا یہ نشریاتی ، ادبی اثاثہ ہر برے وقت سے محفوظ رہے ۔

دوستو۔۔!
یہ بات سوچنے کے لائق ہے کہ جو بھی اپنے اور عوام کے حق اور سچ کے لئے آواز اٹھاتا ہے ۔۔جو اس کی بھلائی کیلئے انصاف مانگتا ہے ۔۔ جو لوگوں کو یاد دلاتا ہے کہ تم اپنا مقدر خود بدل سکتے ہو ، آخر وہی شخص کیوں قتل کر دیا جاتا ہے ۔۔ یا اس پر زندگی کو اس قدر تنگ کردیا جاتا ہے کہ وہ خودکشی کر لیتا ہے۔

ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

1 COMMENT

  1. پہلے اللہ جی سے دعا ہے ۔۔ ان لوکوں کو اپنی آمان میں رکھے۔۔ ایسے لوگ کئی صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں ۔یہ ہمارا سرمایہ ہیں ۔۔میں خود ان کی ویڈیو بہت پسند کرتی ہوں ۔۔ یہ بہادری کی زندہ مشال ہیں ۔۔ جو کبھی نہیں ڈرے ۔۔ دھمکی دینے والے بزدل اور بےغیرت ہیں ۔ ہر ایک کو اپنی رائے دینے کا حق ہے۔ مایوس نا ہوں۔۔ چیف جسٹس تک اپ کی اواز ضرور پہنچے گی ۔۔۔ اور اانصاف مے گا۔۔

LEAVE A REPLY