عارف علوی تک پاکستانی صدور کی فہرست

0
318

صدر پاکستان اسلامی جمہوریہ پاکستان کا سربراہ ہوتا ہے۔ پاکستانی آئین کے مطابق صدر کے پاس (عدالت عظمیٰ پاکستان کے منظور یا مسترد کرنے فیصلوں پر پابند، قومی اسمبلی کوتحلیل کرنے، نئے اتخابات کروانے اور وزیر اعظم کو معطل کرنے) جیسے اختیارات دئے گئے ہیں۔ ان اختیارات کو فوجی بغاوتوں اور حکومتوں کے بدلنے پر با رہا مواقع پر تبدیل اور بحال کیا گیا۔ لیکن 2010ء کے آئین میں اٹھارویں ترمیم کے ذریعہ پاکستان کو نیم صدراتی نظام سے دوبارہ پارلیمانی نظام، جمہوری ریاست کی جانب پلٹا گیا۔

اس ترمیم کے تحت صدر کے اختیارات میں واضح کمی کی گئی اور اسے صرف رسمی حکومتی محفلوں تک محدود کیا گیا جبکہ وزیر اعظم کے اختیارات میں اضافہ کیا گیا۔ صدر کو پاکستانی سینٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کی پاکستان کی جماعت انتخاب کنندگان منتخب کرتی ہے۔

ء1956 میں جب اس عہدے کو تخلیق کیا گیا تب سے اب تک اس عہدے پر 11 صدور فائز ہوچکے ہیں۔ 1956 کے قانون میں جب اس عہدے کو تخلیق کیا گیا تو اسکندر مرزا ملک کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔ ان گیارہ صدور کے علاوہ دو نگران صدر بھی مختصر عرصے کے لیے اس کرسی پر کام کرتے رہے ہیں۔ ان میں سے ایک وسیم سجاد تھے جو ایک دفعہ 1993ء میں اور 1997ء-1998ء میں صدر رہے۔ صدر کا عہدہ پانچ سال پر مبنی ہوتا ہے۔ صدر کے عہدے کی میعاد ختم ہونے پر یا ان کی غیر موجودگی میں چیئرمین سینٹ یہ عہدہ سنبھالتا ہے۔

چھ صدور کا تعلق کسی نا کسی سیاسی جماعت سے تھا جن میں سے چار کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا۔ پاکستانی صدور کی تاریخ میں ایک صدر ریٹائرڈ فوجی تھے جبکہ چار حاضر سروس صدر تھے ان میں سے تین حضرات کامیاب فوجی بغاوت سے حکومت میں داخل ہوئے جن کی ترتیب یوں ہے -ایوب خان 1958ء میں، محمد ضیاءالحق 1977ء میں اور پرویز مشرف 1999ء میں۔ صدر محمد ضیاء الحق دوران صدرات ہی 17 اگست، 1988ء کو بہاولپور سے اسلام آباد آتے ہوئے جہاز حادثے میں ہلاک ہوئے۔ ایوب خان کی مدت صدارت دس سال اور پانچ ماہ پر محیط ہے جو بطور صدر پاکستانی تاریخ میں سب سے بڑی مدت ملازمت ہے۔

پاکستان کے سابق صدر ممنون حسین ہیں جن کا تعلق پاکستان مسلم لیگ (ن) سے ہے۔ انھیں 30 جولائی 2013ء کو منتخب کیا گیا، انھوں نے 702 ووٹوں میں سے 432 ووٹ حاصل کر کے اکثریت حاصل کی اور انہوں نے عہدے کا حلف 9 ستمبر  دوہزار تیرہ کو اٹھایا

ملک کے موجودہ صدر عارف علوی چار ستمبر دوہزار اٹھارہ کو ملک کے تیرہویں صدر منتخب ہوئے

SHARE

LEAVE A REPLY