بندہء مرتضا علی ہستم
ثنائے آل رسول وہ کارِ علمیت ہے جو ہر فردِ و بشر کے اختیار میں نہیں ۔۔ آپ ان ہستیوں کے بلند و بالا فضائل سے آگاہ ہوں بھی تو انہیں بیان کرنے کے لئے الفاظ کا انتخاب مشکل ہوجاتا ہے ۔۔اور ہمیشہ اپنی کم مائیگی پر افسوس رہ جاتا ہے یا اپنے ناقص علم پر ان ہستیوں سے علم کی خیرات طلب کی جاتی ہے ۔۔
اور جو ذاکرین یا تخلیق کار ان عظیم الشان افراد کی مدحت کرتے ہیں ان کے درجات یقینا ً خدا اور اہلیبت علیہ السلام کے نزدیک بھی بلند ہوں گے ۔
کتاب “حیدریم قلندرم مستم” برادر خرم خلیق کی لکھی مناقب و مناجات کی نئی کتابی شکل ہے ۔۔ ان پر آئمہ طاہرین کا خاص کرم جو وہ کئی دہائیوں سے اسی خدمت پر دل و جان سے آمادہ ہیں ۔۔
مناقب کا یہ مجموعہ مجھے آج سے کچھ دن پیشتر موصول ہوا ۔۔ لیکن اس تذکرے کا آج کے دن سے بڑھ کر کوئی دن نہ ہوتا کیونکہ عیدِ غدیر کا دن ہے ۔۔۔اور ذکرِ مولائے کائنات ہر چاہنے والے کی زبان پر جاری ہے اور جب مولائے کائنات کی مدحت کی جائے تو ان سلام گزاروں کا ذکر ساتھ آنا لازمی ہے جن کی زندگی کی ہر سانس میں یہ تزکرے ورد زبان ہیں زیر لب ہیں دل کی ہر دھڑکن میں تسبیح کی طرح تواتر سے ادا ہوتے ہیں اور جسم میں خون کی طرح گردش کرتے نظر آتے ہیں
. جیسے خرم بھائی نے ہی ان اشعار کی صورت میں لکھا کہ
بحرِ ولاء میں ڈوب رہا ہوں میں جان کر ۔۔
آسان مجھ پہ میرے خدا امتحان کر۔۔
حرفوں کی تند و تیز ہوا مہربان کر ۔۔
عباس کے علم کو میرا بادبان کر ۔۔
یارب تیری رضا کا خزینہ مجھے ملے۔۔
جس میں ہوں پنجتن وہ سفینہ مجھے ملے۔۔
وہ در ہے ایسا در کہ جو در ہے کمال کا
لج پال ہیں رہے گا بھرم ہر سوال کا
موجوں پہ موجزن ہے سفینہ خیال کا
دیوانہ جا رہا ہے محمد کی آل کا
ان کی ثناء کے واسطے حسنِ کلام دے
شاعر غزل کا ہوں مجھے اذنِ سلام دے ۔۔
اس کتاب کے پیش لفظ میں ڈاکٹر شبیہ الحسن رضوی صاحب فرماتے ہیں.
کہ یوں تو فقیہہِ شہر علی علی کرنے والوں کو قلندر ملنگ کہہ کر طعنہ زن ہوتے ہیں.
مگر علی علی کرنے والے خود کو قلندر و ملنگ کہلانا اعزاز سمجھتے ہیں.
اس لیے مفتیان کرام ہو کے بھی نہیں رہتے اور موالیانِ ذی احتشام کچھ نہ ہو کر بھی ہوتے ہیں عظمت رکھتے ہیں یعنی علی والا ہونا ہی اصل میں ہونا ہے.
فرانسیسی فلسفی نے جس طرح کہا کہ
” میں سوچتا ہوں اس لیے میں ہوں.” تو یہی علی والوں کا کہنا ہے کہ میں حیدری ہوں اس لیے میں ہوں. حق تو یہ ہے کہ جو حیدری نہیں ہے وہ ہے بھی تو نہیں ہے. “
خدائے سخن میر تقی میر نے جیسے ایک غزل کے مقطع میں کہا
جو حیدری نہیں اسے ایمان ہی نہیں.
وہ ہو شریف مکہ مسلمان ہی نہیں.
آج کے روز کے حوالے سے حضرت علی علیہ السلام کے فضائل اور کمالات کے بارے میں کچھ لکھنا جتنا آسان ہے اتنا مشکل بھی ہے اس لیے کہ حضرت علی علیہ السلام فضائل و کمالات کا ایسا بیکراں سمندر ہیں جس میں انسان جتنا گہرائی تک جائے اس قدر ہی فضائل کے موتی حاصل کرتا جائے گا۔۔۔ گویا یہ ایسا سمندر ہے جس کی تہہ تک پہنچنا ناممکن ہے۔
” خلیل ابن احمد سے امیر المومنین علی علیہ السلام کے فضائل کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: کیف اصف رجلاً کتم اعادیه محاسنه و حسداً و احبّائه خوفاً و ما بین الکلمتین ملأالخائفین؛(۱)
میں کیسے اس شخص کی توصیف و تعریف کروں جس کے دشمنوں نے حسادت اور دوستوں نے دشمنوں کے خوف سے اس کے فضائل پر پردہ پوشی کی ہو ان دو کرداروں کے درمیان مشرق سے مغرب تک فضائل کی دنیا آباد ہے۔
اس مقالہ میں امیر المومنین علی علیہ السلام کے بعض ان کمالات و فضائل کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو پیغمبر گرامی اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ نے اپنی زبان مبارک سے بیان فرمائے اور اہلسنت کی معتبر کتابوں میں نقل ہوئے ہیں:
علی (ع) کو خدا اور نبی (ص) کے علاوہ کسی نے نہ پہچانا
سچ مچ یہ کون سی ذات ہے جسے کوئی نہ پہچان سکا کوئی اسے خدا مان بیٹھا اور کوئی اس کی بندگی میں شک کرنے لگا۔
در مسجد کوفه شهیدش کردند گفتند مگر اهل نماز است علی؟!
کہا کہ کیا علی نماز بھی پڑھتے تھے؟! کہ انہیں مسجد کوفہ میں شہید کر دیا۔
اور جس نے علی (ع) کو حقیقی معنی میں پہچانا وہ صرف خدا اور اس کا رسول (ص) ہیں۔
(وکی شیعہ سے اقتباس)
ایک موقع پر پیغمبر اکرم (ص) نے امیر المومنین (ع) سے خطاب میں کہا۔۔
” اے علی! خدا کو میرے اور آپ کے علاوہ کما حقہ کسی نے نہیں پہچانا، اور آپ کو میرے اور خدا کے علاوہ کما حقہ کسی نے نہیں پہچانا۔۔۔”
اور ایک جگہ ارشاد فرمایا:
اے علی ! خدا کو میرے اور آپ کے علاوہ کسی نے نہیں پہچانا اور مجھے خدا اور آپ کے علاوہ کسی نے نہیں پہچانا اور آپ کو میرے اور خدا کے علاوہ کسی نے نہیں پہچانا۔۔
(احادیث متفرقہ)
آج کا دن جو حج سے واپسی پر رسول کریم کا آخری خطبہ تھا مقام جحفہ جو خمِ غدیر کہلاتا ہے پر دیا گیا
حجۃ الوداع رسول خداؐ ہجرت کے دسویں سال، 24 یا 25 ذیقعدہ کو ایک لاکھ بیس ہزار افراد کے ساتھ فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے مدینہ سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔رسول اللہؐ کا یہ حج حجۃ الوداع، حجۃ الاسلام اور حجۃ البلاغ کہلاتا ہے۔
اس وقت امام علیؑ تبلیغ کے لئے یمن گئے ہوئے تھے، جب آپؑ کو رسول خداؐ کے حج پر جانے خبر ملی تو یمنی مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ مکہ کی طرف روانہ ہوئے اور اعمال حج کے آغاز سے قبل ہی رسول اللہؐ سے جا ملے۔
حج کے اختتام پر رسول خداؐ مسلمانوں کے ساتھ مکہ سے مدینہ کی جانب روانہ ہوئے۔
فریضہء حج کی ادائیگی کے بعد مسلمانوں کا یہ عظیم الشان اجتماع بروز “جمعرات 18 ذی الحجہ” کو پیغمبر اکرمؐ کی معیت میں غدیر خم کے مقام پر منعقد ہوا جہاں سے شام، مصر اور عراق وغیرہ سے آنے والے حجاج اس عظیم کاروان سے جدا ہو کر اپنے اپنے مقرره راستوں سے اپنے ملکوں کی طرف جانا تھا اتنے میں جبرائیل آیت تبلیغ لے کر نازل ہوئے اور رسول خداؐ کو اللہ کا یہ حکم پہنچا دیا کہ علیؑ کو اپنے بعد ولی اور وصی کے طور پر متعارف کرائیں۔
آیت نازل ہونے کے بعد رسول اللہؐ نے کاروان کو رکنے کا حکم دیا اور آگے نکل جانے والوں کو واپس پلٹنے اور پیچھے رہ جانے والوں کو جلدی جلدی غدیر خم کے مقام پر آپؐ تک پہنچنے کا حکم دیا ۔۔
اور اونٹوں کی پشت پر موجود پالان کو جمع کر کے بلند و بالا منبر ترتیب دیا گیا ۔۔پھر حمد و ثناء کے بعد آپ نے فرمایا
“اے لوگو! کیا میں تمہاری نسبت تم پر مقدم نہیں ہوں؟”، لوگوں نے جواب دیا: “کیوں نہیں اے رسول خداؐ”؛
تب رسول الله ؐ نے فرمایا: “خداوند متعال میرا ولی ہے اور میں مؤمنین کا ولی ہوں، پس جس جس کا میں مولا ہوں علیؑ بھی اس کے مولا ہیں”۔ رسول خداؐ نے یہ جملہ تین مرتبہ دہرایا اور فرمایا: “اے اللہ! تو اس شخص کو دوست رکھ اور اس کی سرپستی فرما جو علی کو دوست رکھتا ہے اور اسے اپنا مولا اور سرپرست مانتا ہے اور ہر اس شخص سے دشمنی کر جو علیؑ کا دشمن ہے۔ اس کی مدد اور نصرت فرما جو علیؑ کی مدد اور نصرت کرتا ہے اس شخص کو اپنی حالت پر چھوڑ دے حو علیؑ کو تنہا چھوڑتا ہے”۔ بعد از آں لوگوں سے مخاطب ہوکر فرمایا: ” حاضرین اس پیغام کو غائبین تک پہنچا دیں ۔۔”
یہ ایسا حکم تھا کہ جسکی پاسداری آج تک محبانِ محمد و آل محمد کرتے ہیں اسی کی ایک کڑی شاعری کی صورت پیغام کو لوگوں تک پہنچانا ہے ۔۔جس کا اعزاز کم ہی لوگوں کو حاصل ہے ۔۔برادر خرم خلیق بھی اسی خدمت کو انجام دینے میں کوشاں ہیں ۔۔
اور ان کی یہ خواہش انہی کی زبانی کچھ یوں ہے جو ہر لکھنے والے کے دل کی دعا ہے جو ہر دم لبوں پر آتی ہے.
“اے قلم یاد جہاں حیدر ثانی آجائے ۔۔
تیری تحریر میں کوثر کی روانی آجائے.
آرزو ہے در عباس پہ پہنچوں جس دم
لفظ مل جائیں مجھے. بات بنانی آجائے.”
اس کتاب کو پڑھتے ہوئے چند مضامین بھی زیر مطالعہ آئے جن میں
افتخار عارف صاحب کے مضمون سے اقتباس دیکھئے ۔۔
” ممتاز مداح اہل بیت شاعر خرم خلیق باب فضیلت دو ہزار پانچ کے بعد اپنا دوسرا شرعی مجموعہ حیدری ام قلندرم مستم لے کر جہانِ عقیدہ و عقیدت میں حاضر ہوئے ہیں. تو یہ ان کے لیے سعادت و شرف کی بات ہے اور ہم پر لازم آتا ہے کہ دلوں میں گھر کر جانے والی اس شاعری کی داد ضرور دیں. اور مبارک باد دیں کہ ان کا تخلیقی سفر سرشاری اور سرمستی کی نئی سے نئی منزلوں کی طرف گامزن ہے ۔
اس کتاب میں مولائے متقیان امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے حضور منقبتیں پیش کی گئی ہیں. مخدومہء کونین خاتون قیامت سیدۃ النساء العالمین جناب فاطمۃ الزھراء سلام اللہ کی بارگاہ میں بھی اشعار نذرانہ کیے گئے ہیں. اور سید الشہداء ابا عبداللہ الحسین اور شہدائے کربلا کو بھی خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے. مداحت کے بارے باب میں یہ سادہ رواں اور واضح بیان جہان ایک طرف اہلِ دل کو زنجیر کی رکھتا ہے وہیں یہ صاحبان مودت کی عقیدتوں کو بھی تروتازہ رکھتا ہے.
عربی, فارسی, اردو اور دیگر زبانوں میں بھی خدا کے منتخب بندوں پر لکھی ہوئی۔۔ بے مثال تحریریں موجود ہیں. اردو زبان کا یہ اختصاص و افتخار ہے کہ اس کے آغاز ہی سے حمد و نعت و مناقب و مراثی کا سلسلہ جاری رہا ہے اور گزشتہ چند دہائیوں میں تو جتنا دقیق مواد سامنے آیا ہے. دنیا کی کوئی زبان اس کی مثال پیش نہیں کر سکتی. اس قابل ذکر ذخیرے میں اردو کا پاکستانی دور سب سے زیادہ ثروت مند قرار دیا جا سکتا ہے. بابِ فضیلت اور حیدر یم قلندر مستم کی قابل ذکر تحریروں کے بعد خرم خلیق بھی اس شاعری کا ایک قابل ذکر حوالہ ہو گئے ہیں. جس کا تعلق ہماری روحانی زندگی کی واردات اور تجربے سے ہے.
(افتخار عارف)
اس منقبت کے اشعار اس مذکورہ مودت کو بخوبی ظاہر کرتے ہیں ۔۔
بتوں کو توڑ دیا پائی حاضروں سے نجات
نبی ملے تو ملی ہم کو پتھروں سے نجات.
اڑان جو نہ بھریں سوئے کربلا و نجف
پرندے مانگتے پھرتے ان پروں سے نجات.
قدم قدم علی والوں کی خیر ہو یا رب
قدم قدم ملے ان کو مقصروں سے نجات.
سلام و نعت و مناقب نہ جو کَہیں خرم
ادب کو چاہیے ایسے سخنوروں سے نجات ہو.۔۔
اس کتاب کے بارے میں خود صاحب کتاب فرماتے ہیں کہ اس “کتاب میں درِابو تراب کے ایک فقیر کی التجائیں ہیں. ایک ملنگ کے نعرے ہیں. ایک موالی کی صدائیں ہیں جنہیں مودت کے رنگوں میں سجا کر عشق کی خوشبو میں بسا کر مصروں میں ڈھال دیا ہے.
جن میں اکثر مجلس و محافل میں کبھی مجھ سے اور کبھی سلام گزاروں کے خوبصورت لحن میں آپ سب سن چکے ہیں. یہ وہ در ہے کہ جس در پہ فقیر بھی سر جھکائے بیٹھا ہے ۔۔اور یہ وہ عجیب در ہے. کہ یہاں کبھی جبرائیل کے پروں کی سرسراہٹ کبھی مقَداد, میثم, بوذر اور قنبر کی آہٹ سنائی دیتی ہے. سلیمان جاروب کشی کرتے ہیں تو دہلیز سے اٹھنے والے نوری ذرے فضا میں جگمگاتے ہیں. جس سے سورج چاند ستارے روشنی پاتے ہیں. لیکن یہ سب کچھ محسوس کرنے کے باوجود کبھی آنکھ اٹھانے کی جسارت نہیں کی جانتا ہی نہیں. بلکہ مانتا بھی ہوں کہ اس در پر حاضر ہونے والے ان انوار کو دیکھنے کی تاب کسی میں نہیں ہے ۔”
(خرم خلیق)
یہ در علی و سیدہ جس سے فرشتے بھی خیرات مانگنے والوں کی صف میں شامل ہوجاتے ہیں صرف خداوند عالم ہی اس کی فضیلتوں کا امین ہے ۔ آن کے در کے کنیز و غلام قرآن سے ہی گفتگو کرتے ہیں ۔۔فلسفہ و حکمت کی زبان سے واقف ہیں جو وحی الہی کو سن کر ان کے باطن کو منور کرتا ہے ۔۔
جیسا ان اشعار میں دیکھیے کہ موجود ہے
خدا کے پاس رشتوں میں فضیلت فاطمہ کی ہے۔
حصارِ پنجتن میں مرکزیت فاطمہ کی ہے.
میرے صادق پیغمبر کی ہے اکلوتی یہی بیٹی
تو اب جو کچھ نبی کا ہے وراثت فاطمہ کی ہے
نبی ہیں رحمت اللعالمین کے واسطے رحمت
تو گویا جلوہ فرما ساری رحمت. فاطمہ کی ہے
. نبی پہ وہ ہوئی نازل امامت اس کے گھر اتری
سعادت فاطمہ کی ہے سیادت فاطمہ کی ہے
بغیر اذن اس درد پہ فرشتے بھی نہیں آتے.
یہاں میں ہوں تو یہ سمجھو اجازت فاطمہ کی ہے
اور اس شعر کا تو کیا ہی کہنا کہ
کہا معراج میں رب نےمحمد کیا عطا کر دوں؟
تو آقا نے کہا!! مولا ضرورت فاطمہ کی ہے.
فرشتے آج بھی خرم وہی چکی چلاتے ہیں
ہمیں جو رزق ملتا ہے عنایت فاطمہ کی ہے.
جناب حسنین اکبر اس کتاب کے بارے میں کہتے ہیں کہ
” حیدریم قلندرم مستم لاریب ولائی شاعری میں مودت کے نئے زاویوں کا اظہاریہ قرار پانے والی کتاب ہے.
ہم اپنے نام کی تختی لگانا بھول سکتے ہیں۔
. علم عباس کا گھر پہ لگانا یاد رہتا ہے۔
. ایسا شعر جو اعلان بھی تعارف بھی ہے اور ایسے لاتعداد اشعار کے خالق خرم خلیق واقعی خلیق اور مثالی شخصیت ہیں دلی دعا ہے کہ مولا علی اس ادبی سفر کو مزید اور اوج بخشیں نیک تمناؤں اور دعاؤں کے ساتھ (حسنین اکبر.)
یہ بات مسلم ہے کہ ان کی اہلیبیت سے محبت کا عقیدت ان کے ہر شعر میں پنہاں ہے۔۔
اس منقبت کو ذرا ملاحظہ کیجیے.
بہت مشکل سفر تھا جب تلاش حق میں ہم نکلے.
کبھی سوئے نجف نکلے کبھی سوئے حرم نکلے.
جہاں بھی ماتمی عباس کا لے کر علم نکلے
فرشتوں نے کہا وہ صاحبان ذی حشم نکلے ۔۔
ملنگوں پر علی مولا کے طعنہ زن رہی دنیا
موالی ہی مگر محشر میں سب سے محترم نکلے
. ہر ایک سو ذکرِ اہل بیت میں مصروف تھے ذاکر
جدھر بھی سیر کرنے خلد کی راہوں میں ہم نکلے
یعنی درجہ آل محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے وابستگی خدا تک رسائی کی نوید ہے ۔۔
آخر میں ان کے اس قطع پر اختتام کروں گی ۔۔
ہاں!! یہی تو میری عبادت ہے ۔۔
یاعلی ، یاعلی کہوں ہر دم ۔۔
سب منافق یہ جل کے پوچھتے ہیں ۔۔
تم کہاں کے ہو؟ کون ہو خرم؟
فخر کے ساتھ میں بتاتا ہوں
“حیدریم ،قلندرم، مستم ۔۔
بندہء مرتضا علی ہستم۔۔
روما رضوی













