ریحان جعفری کے گھر پر مرثیہ نو تصنیف کی چودہویں سالانہ مجلس عزا

0
866

رپورٹ۔ محمد صفدر

لندن ،ریحان جعفری کے گھر پر مرثیہ نو تصنیف کی چودہویں سالانہ مجلس عزا

کفن میں میرے اک خاک شفا اک مرثیہ رکھنا
میں اسباد شفاعت لے کے خود محشر میں جاونگا
صفدر ھمدانی

لندن میں چودہ اگست دوہزار اکیس ہفتے کے روز بمطابق پانچ محم الحرام سید ریحان جعفری اور حنا جعفری کے گھر پر چودہویں سالانہ مجلس مرثیہ نو تصنیف کا اہتمام کیا گیا جسمیں زیادہ ترنوجوانوں ، بزرگوں،بچوں اور خواتین نے شرکت کی۔

مجلس مرثیہ نوتصنیف کی بنیاد اس گھر میں ریحان جعفری اور حنا جعفری نے چودہ برس پہلے رکھی تھی جو الحمد اللہ اآج تک جاری ہے اور چودہ برس سے شاعر آل عبا مرثیہ نگار صفدر ھمدانی ہی خطاب کر رہے ہیں۔ اس مرتبہ اس برس کے نئے مرثیے کا عنوان تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آزادی بشر کی علامت ہے کربلا

تلاوت اور حدیث کساء کے بعد منقبت، سلام اور مرثیہ خوانوں نے کربلا والوں کے حضور نزرانہ عقیدت پیش کیا جن میں سوز و سلام: فیروز چوھان، میثم چوھان، سہیل چوھان ماہ پارہ صفدر نے نوحہ قمر نقوی، ثمر نقوی نے پیش کیا جبکہ نظامت ذوالقرنین کاظمی نے کی۔

صفدر ھمدانی سے قبل معروف اور مقبول تحت اللفظ خوان حافظ انیس و دبیر سید نفیس حسین عابدی نے اپنے مخصوص انداز میں مرثیے کے منتخب بند پیش کیئے جنکو حاضرین پورے انہماک سے سُنا۔ عابدی صاحب کو یہ ملکہ حاصل ہے کہ وہ درجنوں بند اساتزہ مرثیہ نگاروں کے دیکھے بغیر اپنے حافظے سے پڑھتے ہیں جو عطیہ خداوندی ہے

نفیس حسین عابدی صاحب کے بعد شاعر آل عباء صفدر ھمدانی نےتازہ منقبت اور مرثیہ لگ بھگ پچاس منٹ تک پیش کیا جسے شرکائے مجلس نے پورے انہماک سے سُنا اور فضا نعرہ حیدری اور درود سے گونجتی رہی

اس مرثیے کے چند منتخب بند

آزادی بشر کی پناہ گاہ یہی ہے گھر
نور محمدی سے ہیں روشن یہ بام و در
تاریکیوں کو نور دے بس انکی اک نظر
بچوں نے انکے لکھا ہے تاریخ کا سفر

ہے اک سکون ان کی محبت کی چھاؤں میں
دنیا کے تاج وتخت دھرے انکے پاؤں میں
،،،،
کی ان سے ماہتاب نے سورج نے گفتگو
ہر اک نفس ہے ان میں ولایت کی آبرو
انکے وجود سے ہی امامت ہے سرخرو
شامل بنائے دین میں انکا ہوا لہو

انہوں نے ہر غلامی کی دیوار توڑ دی
ہر دشمن بشر کی کلائی مروڑ دی
،،،،
اس گھر سے ابتدا ہوئی آزادی بشر
آزاد لفظ لکھے گئے ان فضاؤں پر
لرزے انہیں کے خطبوں سے شاہوں کے بام و در
انکا ہی امتیاز ہے معراج کا سفر

بچوں نے انکے جنگ کے نقشے بدل دیئے
سب تاج و تخت قدموں کے نیچے کُچل دیئے
،،،،
اصغر کو رن میں لانے کا جب فیصلہ ہوا
کانپی زمین عرش معلیٰ بھی ہل گیا
بیعت کے لفظ کا تھا جنازہ جونہی اٹھا
اصغر نے کربلا کو تھا تسخیر کر لیا

اس کربلا میں آل پیمبر کا خون ہے
آزادی بشر میں بھی اصغر کا خون ہے
،،،،،
شبیر لے کے چلنے لگے جب وہ ماہتاب
اصغر کے رُخ کو چوم کے کہنے لگیں رباب
اک لمحے کو نہیں ترے چہرے پہ اضطراب
اب طے ہوا کہ بچہ کرے گا سوال آب

طاقت کا ان لعینوں کی اصغر جواب تھا
اصغر پہ جس طرح سے علی کا شباب تھا
،،،،،
اصغرنے سن کے مادر دلگیر کا یہ حال
رخصت کا خامشی سے کیا جس طرح سوال
منہہ چوم کر رباب یہ بولیں اے میرے لال
مت بھولنا حسین کی نصرت کا تم خیال

تنہا ہے باپ، بیٹا بچا اب کوئی نہیں
صدقے گئی یہ ماں میں تمہیں روکتی نہیں
۔۔۔۔۔۔۔
کہنے لگیں رباب کہ اے میرے نور عین
سوچو تمہارے بعد کہاں ماں کو ہو گا چین
کیسے سُنے گا باپ بتا تیری ماں کے بین
یہ نوحہ سُن کے لے چلے اصغر کو اب حسین

معصوم کے لیئے کیا پانی کا اب سوال
اُس وقت کیسے حال میں تھا فاطمہ کا لال

مجلس کے اختتام پر نوحہ و ماتم ہوا اور جس کے بعد نیاز امام حسین علیہ السلام تقسیم کی گئی

محمد صفدر

SHARE

LEAVE A REPLY