جہان گم گشتہ کا عقاب، باب دوئم: تیسری قسط

0
705

جہان گم گشتہ کا عقاب، باب دوئم: “ غیرت کا سوال “ ۔۔ تیسری قسط

تیسرے دن کی شام وہ بلوچ اپنے اونٹوں پر سوار ایک قصبے میں جا پہنچے۔ لڑکے کے پاس جوتے نہ تھے لہذا اسے اونٹ پر ہی سوار رکھا گیا۔ انھیں جونہی پہلی ہی ایک بڑی عمارت نظر آئی وہ اس کے آگے رک گئے جسے وہ کوئی سرکاری محل سمجھ بیٹھے۔ درحقیقت وہ ڈاکخانے کی عمارت تھی۔جنگو سیڑھیاں چڑھ کر ایک آدمی کے پاس گیا اور اسے گھسا پٹا کاغذ دیا کہ وہ پڑھ کر سنائے۔ اس نے کہا۔” ہم بات چیت کرنے آئے ہیں۔ اس کاغذ کو ذرا ہمیں پڑھ کر سناو۔” وہ شخص پوسٹ ماسٹر تھا۔ اس نے کاغذ بہت توجہ سے پڑھا۔ اس کے چہرے پر ایک ہیجان سا پیدا ہو گیا۔وہ جلدی سے ٹیلی فون تک گیا۔۔۔اور پیچھے مڑ کر چلایا۔” انتظار کرو!!! افسران جلدی ہی آ جائیں گے۔ ساتوں آدمیوں، ان کے اونٹوں اور لڑکے کو ایک بڑے گھر میں لے جایا گیا۔ اگلے دو دن انھیں وقت پر کھانا پینا ملتا رہا لیکن کوئی ان سے بات چیت کرنے نہ آیا۔ ان میں سے ہر کوئی دیری ہونے پر بے صبرہ لیکن ہر کوئی اپنی ایسی سوچ اور کیفیت دوسروں سے چھپا رہا تھا۔

ان کی سر زمین کی ازلی خاموشی نے انھیں سیکھا دیا تھا کہ اپنے افعال اور جذبات کے اظہار میں خوب صبر سے کام لو۔ تاہم انھوں نے دیکھا کہ ان کو دئیے گئے گھر کے گرد ایک فوجی ٹکڑی تعینات کر دی گئی تھی۔ حتاکہ اس امر واقعہ کو بھی انھوں نے آپس میں زیر بحث لانے سے احتراز کیا۔۔۔چہ جائیکہ وہ اس حقیقت کا روضہ خان کو بتاتے۔ آخر کار چوتھے روز کچھ لوگ ان سے ملنے ائے۔ ان کے لئے جیپوں کا انتظام کیا گیا۔ بلوچوں کو کہا گیا کہ وہ اپنا اسلحہ اور اونٹ ادھر ہی چھوڑ دیں۔ انھیں کچھ سفر کے بعد ایک بڑے عمارت میں لے جایا گیا۔۔۔جس کے گرد گارے کی موٹی اور اونچی دیواریں بنی ہوئی تھیں۔ جس کمرے میں وہ داخل ہوے وہ لوگوں سے بھرا پڑا تھا۔ کچھ کرسیوں پر بیٹھے تھے تو کچھ بینچوں پر۔ ان کے داخلہ پر کمرے میں کوئی خاموشی نہ ہوئی۔ وہ اس کمرے کے ایک خالی کونہ میں جوتے اتار کر آرام سے فرش پر بیٹھ گئے۔
انھیں ڈانٹ کر کہا گیا کہ وہ کھڑے ہو جائیں۔ وہ سخت حیران ہوے کہ بات چیت کرنے والا افسر تو بیٹھا رہے اور وہ کیوں کھڑے ہوں؟ انھیں کہا گیا کہ وہ قرآن پر ہاتھ رکھ کر حلف دیں کہ جو بھی بولیں گے سچ بولیں گے۔۔۔جھوٹ ہرگز نہ بولیں گے۔ وہ دوبارہ حیران ہو گیے۔ بھئی یہ احمق تو ایک کتاب پر حلف لے رہے ہیں جبکہ وہ تو اپنے سردار یا قبیلے کے نام پر حلف کو مقدس سمجھتے تھے۔

اس دوران کمرے میں موجود لوگوں کی باتوں کے شور کی وجہ سے فضا بوجھل تھی۔پھر ان کو فرد جرم پڑھ کر سنائی گئی۔ انھوں نے دو فوجی افسروں کا قتل کیا تھا۔ میز کے دوسری طرف شخص نے انھیں بتایا اگر جرم ثابت ہو گیا تو ان کو سزا موت دی جاے گی۔

“اوہ! ہرگز نہیں! ہم یہاں بات چیت کرنے آے ہیں۔” اس نے کاغذ افسر کی آواز کی سمت میں کاغذ لہراتے ہوے کہا۔ ” اسے غور سے پڑھو۔ ہم امن کی بات چیت کرنے آے ہیں۔” آدمی نے جواب دیا۔ ” میں اس کاغذ کو جانتا ہوں۔ اس کی کوئی وقعت نہیں کیونکہ اس پر کوئی دستخط نہیں ہیں۔” پیچھے سے جنگو نے سردار سے کہا آپ بات کریں۔ دوسروں نے بھی سرگوشی میں توثیق کی۔

” ٹھیک ہے! میں باقی چھ لوگوں کی طرف سے بات کروں گا۔ میں بطور ان کا سردار بات کرتا ہوں کہ الفاظ کو کسی دستخط کی ضرورت نہیں ہوتی، نہ کسی نشان کی نہ ہی کسی حلف کی۔ ہمیں وعدہ دیا گیا تھا اور ہم نے قبول کر لیا۔”

افسر کے ساتھ بیٹھے کلرک نے دبی آواز میں پوچھا۔” جو یہ بول رہا ھے، کیا میں ایسے ہی لکھتا جاوں؟” مجسٹریٹ نے جواب دیا۔ “نہیں! صرف خاص اور اہم باتیں لکھنا۔ اب تک تو کوئی اہم بات ہوئی بھی نہیں اس لئے لکھنے کی ضرورت نہیں۔ تم صرف اتنا لکھو۔ فرد جرم پڑھ کر سنائی گئی۔۔۔ملزمان مجرم ثابت ہوئے۔”

روضہ خان بولا۔ ” میں نے یہ نہیں کہا۔ صرف دو آدمی نہیں مرے تھے اور بہت سارے مرے تھے۔ ان کی بات کون کرے گا۔ ان کی موت کی بات کون سنے گا؟ جب ہمارے برادر قبیلہ کو کہا گیا کہ اب ان کا کوئی سردار نہیں ہو گا تو اس ذلت کا مول کون ڈالے گا؟ کیا کبھی بھی کوئی بلوچ ایک سردار کے بغیر رہا ھے؟ پھر روضہ خان خاموش ہو گیا۔

” کیا تمھیں کچھ اور کہنا ہے؟” جناب میں کیا ریکارڈ کروں؟” کلرک بولا۔ روضہ خان بولا۔ ” میں حیران ہوں! تمھیں کیسے سمجھاؤں کہ ایک سردار کیا ہوتا ھے؟ اس کمرے میں موجود لوگ اگر خاموش ہو جائیں تو میں بہتر انداز میں سوچ سکوں گا۔ ہم بلوچ صحرا کی خاموشی کے عادی ہیں۔ اور مجھے معاف کیجئیے گا ہم آپ کی طرح چالاک و ہوشیار نہیں ہیں۔”

کمرے میں سکوت چھا گیا۔ روضہ خان دوبارہ بولنے لگا۔ “مجھے علم نہیں تم اس قصہ کو کیسے سمجھو گے کہ ہر انسان کو ایک سردار کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔اور وہ اپنے لئے ایک سردار تلاش کر ہی لیتا ہے۔۔۔اور ایک بلوچ فورا اپنے سردار کا تابع ہو جاتا ہے۔ کہانی کچھ یوں بیان کی جاتی ہے کہ حضرت آدم پہلا بلوچ تھا اس روے زمیں پر۔ جب اس نے دیکھا کہ وہ اس روے زمیں پر تن تنہا تھا۔۔۔اور وہ اتنا اداس اور تنہا تھا کہ اس نے اپنے دماغ میں ایک سردار تراش لیا اور اس نے اس کا نام اللہ رکھ لیا۔” جب روضہ خان نے کہانی ختم کر لی تو اس کی آنکھوں کے کنارے بھی فخر و انبساط سے پھول کر سرخ ہو چکے تھے۔
لڑکا بولا۔ ” بابا! یہ کہانی تو بہت دلچسپ ہے لیکن اسے کوئی لکھ نہیں رہا۔”

مجسٹریٹ نے تصدیق کی کہ واقعی ابھی تک کچھ بھی نہیں لکھا گیا تھا۔ ” یہاں قصے کہانیوں کی کوئی اہمیت نہیں روضہ خان۔ یہ کوئی ثبوت نہیں ہوتا۔ کیا کسی داستان سے موت کی وضاحت ملتی ہے؟ جو آدمی مرے ان کی وضاحت کرو۔۔۔وہ کیسے مرے؟”

روضہ خان نے کہا۔ ” تو پھر ٹھیک ہے!” اس کی آواز پہلے کی نسبت مضبوط اور بلند تھی۔ ” میں تمہیں کچھ ایسا بتاتا ہوں جو تم لکھنا پسند کرو گے۔ میں نے خود تمھارے آدمیوں کو مارا۔ اس گفتگو میں شامل کرنے میں انھیں ساتھ لے آیا۔ وہ بڑا جرم تھا۔۔۔اس کے متعلق اور تمھارے متعلق میرا اندازہ میرا اپنا تھا۔ یہ صرف میرے ساتھ آے ہیں۔”

مجسٹریٹ نے اسے ٹوکا۔ ” نہیں! کوئی تمھاری بات نہیں مانے گا۔” مجسٹریٹ نے اس کی ذلت کی حد کرتے ہوے کہا۔” ایک اندھا آدمی دعوی کرے کہ اس نے قتل کئے، کیوں کہ وہ سردار ہے۔ یہ سب باتیں تو تمھارے احساس تفاخر کے سوا کچھ بھی نہیں۔ تمھارے اس دعوی میں کوئی جان نہیں ہے” وہ کلرک کی طرف مڑا۔ “لکھو! ریکارڈ میں لکھو کہ ملزمان نے اپنا جرم قبول کر لیا۔” شام کے چراغ جلنے سے پہلے پہلے مقدمہ اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔ نہ کوئی وکیل، نہ کوئی گواہ اور نہ کوئی باقاعدہ جراح و صفائی۔ اندھیر تھا۔۔۔غبار تھا۔۔۔جس کے پردے میں سچائی اور انسانیت کا قتل کر دیا گیا۔ کلرکوں نے فائلیں باندھنی شروع کر دیں اور الماریوں میں رکھ کر قفل بندی شروع کر دی۔ وہ جلد از جلد اپنے گھروں کو جانا چاھتے تھے۔۔۔اپنے بیوی بچوں میں جانا چاھتے تھے ان سات انسانوں کو بے یار و مددگار چھوڑ کر جنہوں نے بیوی بچوں کے بغیر رہنا سیکھ لیا تھا۔ مقدمہ کا فیصلہ ہو چکا تھا اور سزا بھی سنا دی گئی تھی۔

مجسٹریٹ کلرک کی طرف مڑا “ریکارڈ میں لکھ دو سات بندوں پر مقدمہ چلا اور مجرم ثابت ہوے۔ جبکہ بچے کو آزاد کر دو۔” اس نے سزاے موت کے پروانے پر دستخط کئے اور کہا کوئی بھی گھر جاتے ہوے بچے کو رستے میں کہیں بھی چھوڑ دے۔

بلوچوں کے حقوق کے متعلق مکمل خاموشی تھی اور بلوچستان پر سکوت کی چادر تنی ہوئی تھی۔۔۔ان کی کمزور سے جدوجہد پر خاموشی تھی۔۔۔ان کی زندگیوں اور قتل عام پر خاموشی تھی۔ کسی بھی اخبار کا ایڈیٹر ان کی طرفداری کر کے سزا نہیں بھگتنا چاھتا تھا۔ روایتی پاکستانی باضمیر صحافی ساوتھ افریقہ میں کالے مردوں عورتوں پر لکھ کر، انڈونیشیا میں بائیں بازو کے حمایتوں پر مظالم اور فلسطین میں جاری ننگ انسانیت مظالم پر لکھ کر اپنے اپنے ضمیروں کو مطمئن کر لیتے تھے لیکن اپنے ارض وطن میں جاری ظلم و تعدی کا ذکر کرنا بھی گناہ کبیرہ سمجھتے۔ کوئی بھی سیاستدان قید میں نہیں پڑنا چاھتا تھا۔ وہ عوامی حقوق، عظمت انساں، غریبوں کے استحصال پر زور و شور سے تقریریں کرتے لیکن اپنے دروازے کے سامنے جاری مظالم پر خاموشی اختیار کر لیتے۔ وہ اپنے ضمیروں کو غیر متعلقہ اور غیر اہم امور پر بیانات دے کر مطمئین رکھتے یا ذاتی سہولیات کے لئے قانون سازی پر غور کرتے رہتے۔

آخر کار ان ساتوں کو مار دیا گیا۔ وہ تاریخ کے کسی صفحے میں آئیں گے نہ ان کے کوئی یادگار تعمیر ہو گی۔ یہ بھی ممکن ہے ان کے اپنے پیارے کسی روز تنگ آ کر انھیں اپنی یاداشتوں کے کہیں دور نہاں خانوں میں پھینک کر بھول جائیں۔ ان پر کوئی گیت بنیں نہ گائے جائیں۔ زندگی ان کے لوگوں کے لیے بہیمانہ روپ دھار چکی تھی۔ اس زندگی کی جنگ میں مارے جانے والے ان نامعلوم معصوموں پر کون اپنا وقت برباد کرے گا۔ ان کی موت کے ساتھ ہی بلوچوں کی ثقافت کا بہت سارا حصہ بھی معدوم ہو گیا۔ ان کو تھوڑی سی محبت سے بہل جانے والی بات، ان کا امن کی بات چیت میں اعتبار اور اپنی ذات پر اعتماد کی روح بھی ان سات مقدمہ واروں کے ساتھ ہی مر گیا۔

صبح سویرے جب بڑی مونچھوں والا صوبیدار قصبے میں گشت پر نکلا تو اس نے بچے کو جیل کی دیوار کے ساتھ چپکے ہوے دیکھ لیا۔ وہ لڑکا ان سات اشتہاری پر تفاخر بلوچوں کے ساتھ تھا جب وہ امن کی بات چیت کے وعدے پر اپنے حریفوں سے ملنے کے لئے قصبے میں داخل ہوے تھے۔ صوبیدار نے اپنی گشت کو روکا اور لڑکے تک گیا۔ “تم اب کیا کرو گے؟ تمھارے سارے ساتھی تو مر چکے۔” لڑکا بولا۔ ” مجھے نہیں پتہ۔” اس نے اچانک اپنا سر اٹھایا اور قید خانے کے گیٹ کی طرف اشارہ کر کے بولا۔” کیا میں وہاں ان کے پاس جا سکتا ہوں؟” صوبیدار نے بہت جھک کر اس کی آنکھوں میں دیکھا کہ کہیں وہ مذاق تو نہیں کر رہا۔ صوبیدار غنچہ گل مذاق بلکل پسند نہیں کرتا تھا لیکن اس نے دیکھا لڑکا بلکل سنجیدہ تھا۔

” نہیں! کم از کم اس عمر میں نہیں۔ میں اس قصبے سے جا رہا ھوں اور تم میرے ساتھ چلو گے۔ جہاں میں جا رہا ہوں وہ جہان بہت دور ہے لیکن مجھے اور تمھیں پسند آئے گا۔” غنچہ گل نے گشت پارٹی کو آگے بڑھنے کا حکم دیا اور مڑ کر دیکھا وہ لڑکا اس کے پیچھے چلتا آ رہا تھا۔ اپنے جہان سے نکل کر کسی جہان گم گشتہ کی سیر کے لئے۔

جاری ہے

غلام حسین غازی

SHARE

LEAVE A REPLY