تم نے زریاب کو شاید ابھی سمجھا ہی نہیں

0
934

ہم پہ الزام لگاتے ہو غلط کرتے ہو
بے خطا کو جو رلانے ہو غلط کرتے ہو

خود کو مشکل میں پھنساتے ہو غلط کرتے ہو
شان تم جھوٹی دکھاتے ہو غلط کرتے ہو

تنکے چن چن کے بنایا ہے نشیمن اپنا
اور تم آگ لگاتے ہو غلط کرتے ہو

کتنے ایثار کے ہیں روپ ذرا دیکھو تو
بنت حوا کو ستاتے ہو غلط کرتے ہو

جسکی محفل میں سدا جھوٹ سراہا جاے
تم صحیح بات اٹھاتے ہو غلط کرتے ہو

بستیاں خاک ہوئی جاتی ہے جن کی لو سے
تم چراغ ایسے جلاتے ہو غلط کرتے ہو

کام خود کے ہیں غلط اور زمانے بھر کو
آئنہ روز دکھاتے ہو غلط کرتے ہو

کر کے سورج کی کرن قید حویلی میں، تم
صبح کو رات بتا تے ہو غلط کرتے ہو
ایسا بھی کر سکتی ہیں

تم نے زریاب کو شاید ابھی سمجھا ہی نہیں
اس کو مغرور بتاتے ہو غلط کرتے ہو

ہاجرہ نور زریاب آکولہ مہاراشٹر انڈیا

SHARE

LEAVE A REPLY