ہم پہ الزام لگاتے ہو غلط کرتے ہو
بے خطا کو جو رلانے ہو غلط کرتے ہو
خود کو مشکل میں پھنساتے ہو غلط کرتے ہو
شان تم جھوٹی دکھاتے ہو غلط کرتے ہو
تنکے چن چن کے بنایا ہے نشیمن اپنا
اور تم آگ لگاتے ہو غلط کرتے ہو
کتنے ایثار کے ہیں روپ ذرا دیکھو تو
بنت حوا کو ستاتے ہو غلط کرتے ہو
جسکی محفل میں سدا جھوٹ سراہا جاے
تم صحیح بات اٹھاتے ہو غلط کرتے ہو
بستیاں خاک ہوئی جاتی ہے جن کی لو سے
تم چراغ ایسے جلاتے ہو غلط کرتے ہو
کام خود کے ہیں غلط اور زمانے بھر کو
آئنہ روز دکھاتے ہو غلط کرتے ہو
کر کے سورج کی کرن قید حویلی میں، تم
صبح کو رات بتا تے ہو غلط کرتے ہو
ایسا بھی کر سکتی ہیں
تم نے زریاب کو شاید ابھی سمجھا ہی نہیں
اس کو مغرور بتاتے ہو غلط کرتے ہو
ہاجرہ نور زریاب آکولہ مہاراشٹر انڈیا













