کیا کڑے امتحان سے گزرے
اس گلی سے کہ جان سےگزرے

طے کیا اس بدن کو یوں جیسے
شیشہ گر کی دکان سے گزرے

اک طرف آگ’ اک طرف خوں تھا
قافلے درمیان سے گزرے

راستے ناگ بن کے ڈستے ھیں
جو بھی گزرے دھیان سے گزرے

زندگی کا سفر تھا یوں فارغ
جیسے جلتے مکان سے گزرے

( سید فارغ بخاری )

SHARE

LEAVE A REPLY