بانی پی ٹی آئی کے خلاف لانگ مارچ توڑپھوڑ کے دو مقدمات میں بریت کی درخواست منظور کر لی گئی یہ فیصلہ دن میں محفوظ ہوا تھا
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں جوڈیشل مجسٹریٹ صہیب بلال رانجھا نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف تھانہ بارہ کہو میں لانگ مارچ توڑپھوڑ کے دو مقدمات میں درخواست بریت پر سماعت کی۔
بانی پی ٹی آئی کے وکلاء سردار مصروف، آمنہ علی عدالت پیش ہوئے ، وکلا نے اپنے دلائل میں کہا کہ بانی پی ٹی آئی پر تمام الزامات جھوٹے بے بنیاد ہیں، شریک ملزمان بری ہو چکے ہیں۔
سردار مصروف کا کہنا تھا کہ درج مقدمہ 144 پبلیکیشن ریکارڈ پر موجود ہی نہیں اور بانی پی ٹی کے خلاف ثبوت بھی موجود نہیں، 6 گواہان تو ہیں لیکن بیانات ہی نہیں ہیں، دو سال گزرنے کے باوجود ایک گواہ بھی بانی پی ٹی آئی کے خلاف عدالت پیش نہ ہوا۔
وکلا کا اپنے دلائل مزید کہنا تھا کہ لانگ مارچ توڑپھوڑ کیس میں کسی شریک ملزم پر فردجرم عائد نہیں ہوئی،عدالت بانی پی ٹی آئی کے بریت کے احکامات جاری کرے۔
بعدازں عدالت نے وکلا کے دلائل سننے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی درخواست بریت پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
واضح رہے بانی پی ٹی آئی کے خلاف لانگ مارچ توڑپھوڑ کے الزام میں دو سال قبل تھانہ بارہ کہو میں دو مقدمات درج کیے گئے تھے۔













