نیٹو اتحاد کے سیکریٹری جنرل جینس اسٹالٹنبرگ نے افغان قیادت اور ملک کی مسلح افواج کو افغانستان کے سقوط کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
ساتھ ہی انہوں نے نیٹو اتحاد پر زور دیا ہے کہ افغان فوج کی تربیت کے لیے کی گئی کوششوں میں پائی جانے والی خامیوں کو بھی سامنے لایا جائے۔
خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق منگل کو افغانستان میں طالبان کے اقتدار پر قابض ہونے کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لیے نیٹو کا اجلاس ہوا۔
اجلاس کے بعد سیکریٹری جنرل نیٹو جینس اسٹالٹنبرگ نے کہا کہ افغان سیاسی قیادت ڈٹ کر کھڑی نہیں ہو سکی۔ افغان قیادت کی ناکامی نے اس المیے سے دوچار کیا جس کا سب کو سامنا ہے۔
افغان فورسز کی پسپائی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی شکست کی رفتار حیرت انگیز تھی۔ اس میں سیکھنے کے لیے بہت سے سبق ہیں۔
نیٹو 2003 سے افغانستان میں بین الاقوامی سیکیورٹی کاوشوں کی سربراہی کر رہا تھا۔ البتہ 2014 کے بعد سے اتحاد نے خود کو افغانستان کی قومی فورسز کی تربیت تک محدود کر لیا تھا۔













