فنِ تحت اللفظ خوانی پر تحت اللفظ خواں و ذاکر اہلیبیت و محقق جناب فرحان رضا صاحب سے گفتگو۔۔
اردو ادب میں مرثیہ ایک اہم صنف ہے بظاہر جس کے معنی منظوم تعزیت سے لئے جاسکتے ہیں ۔۔
آغاز میں اسے چند اشعار کی صورت میں تحریر کیا جاتا تھا ۔ بعد میں اسے مسدس کی شکل میں لکھا جانے لگا اردو ادب کے طلبہ جانتے ہیں کہ مرثیے کے آٹھ اجزائے ترکیبی ہیں جو بتدریج سامنے آتے ہیں یعنی انہیں مخصوص ترتیب سے لکھا جاتا ہے جیسے کہ کسی داستان کا بیان ہو۔۔
سب سے پہلے تمہید جسے چہرہ کہا جاتا ہے دراصل آغاز ہے ۔جس میں عالم فانی کا تذکرہ یا انسان کی بے ثباتی کا بیان ہوتا ہے اکثر ان مناظر سے بھی ابتداء کی جاتی ہے کہ جن میں موجود شہید کا احوال پیش کیا جانا ہو ۔
پھر اس شخصیت کا سراپا بیان کیا جاتا ہے کہ جس کی شہادت کا تذکرہ ہوگا اس شخصیت کے خدوخال اور ظاہری حلیئے شکل و صورت یا ہنر اور اہمیت و نسبت
کا بیان ہوتا ہے.
پھر رخصت کا بیان۔۔یعنی کسی بھی شہید یا امام حسین علیہ السلام یا ان کے اپنے عزیزوں کے ساتھ الوداع کے مناظر مکالمے وصیتی گفتگو۔
یا امام کا رخصت کے وقت عزیزوں سے خطاب کرنا ہے.
اگلے مرحلے میں اس شخصیت کی جنگ کے میدان میں آمد کا سماں تحریر کیا جاتا ہے کہ کس شان سے وہ شخصیت میدان میں وارد ہوتی ہے۔۔میدان میں آمد کے بعد رجز سنایا جاتا ہے جو اس شہید شخصیت کا مقابل افراد سے اپنے تعارف کے بارے میں گفتگو ہوتی ہے۔ یعنی خاندان نبوت یا شہداء کے اجداد کا تعارف ان کے کارنامے فتوحات اس میں بیان کی جاتی ہیں
اکثر جگہ برائے اہلیبیت خدا کی رحمتوں و برکتوں اور اعزازات کا تذکرہ لکھا جاتا ہے ۔۔ رجز پڑھنا دیگر جنگوں میں بھی اہل عرب کا دستور تھا.
ساتواں حصہ شہادت کا بیان یعنی یہ وہ وقت ہوتا ہے کہ جب شہادت کا وقت آن پہنچا ہو تو کس طرح کے حالات و واقعات رونما ہوتے ہیں۔۔ کس طرح سے وہ شخصیت حق کا دفاع کرتے اپنی جان کو حق تعالٰی کے سپرد کرتے ہیں
آٹھواں اور آخر بین یا گریہ کا حصہ ہے جو لکھنے والا غمزدہ صورتحال کو بیان کرتا ہے یا لواحقین کا آہ و بکا کرنا اور زمین و آسمان کا گریہ بیان کرتا ہے۔۔
یہی حصہ دراصل مرثیہ ہے ۔۔
ان تمام حالات کا اظہار کرتے ہوئے مرثیہ پڑھنے والے خود بھی انہی مراحل سے گزرتے ہیں شجاعت کے تذکرے پر آواز کی گھن گرج اور اہلیبیت کے تذکرے پر احترام اور شہادت پر بین کا سا انداز اختیار کرتے ہیں ۔۔
مرثیہ پڑھنے کے دو معروف طریقے ہیں ایک الحان سے تو دوسرا طریقہ قدیم انداز ہے جو شعراء اپنایا کرتے تھے ۔ اور اکثر محافل میں تحت اللفظ مرثیہ خوان مجلس میں بحثیت ذاکر منبر پر رونق افروز ہوکر اس خدمت کو انجام دیتے ہیں ۔۔ تحت اللفظ مرثیہ پڑھنا ایک خاص لہجے اور ادائیگی کا متقاضی ہوتا ہے جسے کافی مشق کے بعد سیکھا جاسکتا ہے۔ اور اکثر خاندانوں میں اس کی تربیت بزرگوں کے موہون ِ منت آج تک جاری ہے ۔
ہمارے آج کے مہمان تحت اللفظ مرثیہ خوانی میں خاصی شہرت رکھتے ہیں ۔۔ ساتھ ہی وہ تحقیق کے میدان میں بھی طبع آزمائی کر رہے ہیں اب تک کئی کتابوں کی تصنیف و ترتیب میں کامیابی حاصل کرچکے ہیں ۔۔ مرزا دبیر پر حال ہی میں ان کی کتاب کی اشاعت منظر عام پر آئی ہے۔
ہم خوش آمدید کہتے ہیں جناب فرحان رضا کو جو کراچی سے تعلق رکھتے ہیں مگر مرثیہ خوانی کے حوالے سے اب ملکی سطح پر تو یقینی جانے جاتے ہیں ۔
پیشہ ورانہ حثیت سے وہ فارماسیوٹیکل کمپنی میں مار کٹنگ کے شعبے سے وابستہ ہیں
ان کے اجداد ہندوستان کے شہر کھجوہ بہار و گنج بہار سے ہے ۔۔
معروف ذاکرین علامہ طالب جوہری و علامہ رضی جعفر نقوی سے قریبی عزیز داری رکھتے ہے.
اس نسبت سے ننھیال و ددھیال دونوں میں علماء، خطیب، شعراء، ذاکرین موجود ہیں. شاید یہی وجہ ہے کہ گھر کے اس خاص ماحول میں اردو ادب اور عشق محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم دل میں پرورش پاتا رہا ہے اور موصوف خود بھی منبر آل محمد کی خدمت پر آمادہ ہوئے ۔
بحثیت ذاکر مرثیہ تحت اللفظ خواں ، مرثیہ پڑھتے ہوئے تقریبا 20 برس بیت چکے ہیں متعدد مضامین تحت اللفظ خوانی و اردو مرثیہ کے حوالے سے لکھتے رہے ہیں اور تا حال انہیں موضوعات پر تحقیق میں مصروف ہیں ۔۔
تو آج کی نشست میں فرحان رضا صاحب سے سوالات کا آغاز کرتے ہیں۔
سوال_
فرحان آپ بہت عمدگی سے مرثیہ پیش کرتے ہیں جیسے کوئی خطیب مخاطب ہو ۔۔ مرثیہ پڑھنے کے اس مخصوص انداز سے مجھے ذوالفقار علی بخاری صاحب مرحوم اور بیشمار اسی قبیل کے تحت اللفظ پڑھنے والے حضرات یاد آگئے ۔۔ ماشا اللہ آپ کی یہ صلاحیت خداداد ہے یا گھر کے بزرگوں اور والدین کی مخصوص تربیت اس کا باعث بنی؟
جواب: شکریہ روما صاحبہ کہ آپ نے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے رثائی ادب اور تحت اللفظ خوانی سے شوق رکھنے والے دوستوں سے اس انٹرویو کے ذریعے مخاطب ہونے کا موقع فراہم کیا.
آپ کے سوال کے جواب میں یہ کہنا چاہوں گا کہ ہر انسان میں کچھ صلاحیتیں خداداد ہوتی ہیں اور کچھ بزرگوں کی توجہ اور اساتذہ کی نظرِ کرم کا نتیجہ قرار پاتی ہیں.
میرا آغاز بچپن میں مجالس پڑھنے سے ہوا لیکن مستقل مجالس نہیں پڑھیں، اس کے بعد سلام خوانی کرتا رہا اور اسکے بعد سید جاوید حسن صاحب کی حوصلہ افزائی و رہنمائی سے تحت اللفظ خوانی کا آغاز ہوا.
سوال _
آپ نے ذکرِ محمد و آل محمد کے لئے تحت اللفظ ہی کو کیوں منتخب کیا؟
جواب: میری رائے یہ ہے کہ شاید اس کام کے لئے مجھے ان پاک ہستیوں نے منتخب کیا ہے.
ایک زاویہ یہ ہے کہ تحت اللفظ خوانی بہت کم ہوتی تھی اور پڑھنے والے بہت کم تھے جب کہ یہ آلِ محمد کی پسندیدہ ترین ذاکری ہے اس کے باوجود صرف مرثیہ گو شعرا مرثیہ پڑھتے تھے اور باقائدہ تحت اللفظ خوانی کم ہو تی جا رہی تھی اس لئے اس فن پر بھرپور توجہ دی اور آج ماشاءالله ہر طرف مرثیہ تحت اللفظ مجالس کا ذکر ہو رہا ہے.
الحمد اللہ
سوال _ پہلی دفعہ کب اندازہ ہوا کہ بالخصوص آپکے اس انداز کو حاضرین میں مقبولیت حاصل ہورہی ہے ؟
جواب: جب دھیرے دھیرے مجالس کی تعداد بڑھنا شروع ہوئیں.
کچھ برس قبل تک محرم و صفر کی کچھ مخصوص مجالس پڑھتا تھا اور اس کے بعد نہ صرف ایامِ عزا بلکہ ہر مخصوصی اور ایصالِ ثواب کی مجالس بھی بڑھ گئیں.
سوال_ اس فن میں آپ کے رہنمائی کس نے کی یا کس کو اپنا استاد مانتے ہیں ؟
جواب: میں خوش قسمت ہوں کہ مجھے سید جاوید حسن صاحب جیسی ہستی کی شاگردی کا شرف حاصل ہے. میرے استاد معروف تحت اللفظ خواں سید جاوید حسن صاحب جو کہ خود بہت عمدہ شاعر بھی ہیں اور دو مرثیے تصنیف فرما چکے ہیں. بہترین نثر نگار ہیں جس کے نمونے ڈاکٹر ہلال نقوی کے مرتب کئے ہوئے رثائی ادب کے انیس و دبیر نمبر میں شایع ہوئے انکے مضامین ہیں.
سوال_ اپنے ہی استاد سے کن کن موقعوں پر بہت داد ملی ؟
جواب: بہت سے ایسے مواقع آئے جب بابا نے بہت شاباش سے نوازا خاص طور پر جب میں نے مرزا دبیر کے مرثیے پڑھنا شروع کئے اور اس کے بعد جب میں نے تحت اللفظ خوانی کے فن پر “تحت اللفظ خوانی، ایک فنی مطالعہ” کتاب لکھی تو بہت خوش ہوئے.
سوال- مرثیہ تحت اللفظ پڑھنے کے لئے محض شاعری سے لگاؤ ہونا کافی ہے یا اس فن کو سیکھنے کے لئے معلومات عامہ اور تاریخ کا مطالعہ بھی اہم ہے ؟
جواب: میری رائے میں صرف شاعری سے لگاؤ ناکافی ہوگا کیوں کہ آپ ایک تاریخی واقعے کو پیش کر رہے ہوتے ہیں اس لئے اس واقعے سے پوری طرح آگاہی ہونا چاہئے.
سوال_ اس فن میں بھی ریاض کی یعنی مشق کی باقاعدگی ہونا کس قدر ضروری ہے؟
جواب: مشق بہت زیادہ ضروری ہے کیوں کہ پڑھنے والے کو مجمع کے سامنے پڑھنا ہوتا ہے اس لئے سانس کی مشق، آواز کی مشق، مصروں کو ادا کرنے کی مشق اور ہر فن طرح یہ فن بھی “کار بہ کثرت” سے اور بہتر ہوتا ہے.
سوال_ اب تک کتنی مجالس مرثیہ اس طریق سے پڑھ چکے ہیں ۔۔؟
جواب: اس کا جواب کچھ مشکل ہے لیکن پچھلے کچھ برسوں سے پورے سال تقریباً 40 سے 50 مجالس پڑھ رہا ہوں اور پچھلے 20 برسوں سے مرثیہ تحت اللفظ کی مجالس پڑھ رہا ہوں.
سوال _ آپ نے اس فن پر خصوصی توجہ رکھی ہے۔۔ اور اس پر کتاب بھی تصنیف کی کیا اس سلسلے میں ابھی مزید کام کرتے رہیں گے۔ اور مزید کتب کی مستقبل میں امید رکھی جاسکتی ہے ؟
جواب: جی ہاں، خدا کا شکر ہے کہ اب تک میں اس فن پر دو کتابیں تصنیف کر چکا ہوں. پہلی کتاب”تحت اللفظ خوانی، ایک فنی مطالعہ”، دوسری کتاب “اردو مرثیہ اور تحت اللفظ خوانی کا فن”.
بہت جلد انشاء اللہ پوری دنیا میں پھیلے ہوئے دوستوں کو “بستہِ تحت اللفظ خوانی” کا تحفہ پیش کروں گا جو کہ مرثیہ تحت اللفظ خوانی کی مجالس پڑھنے کے لئے ایامِ عزا اور چہاردہ معصومین کے حال کے مرثیے شامل ہیں.
سوال_ آپ نے اور آپکے ہی کچھ احباب نے ای مرثیہ ویب سائٹ کے نام سے ایک تاریخی کام کیا ہے ۔ یہ کس کی تجویز یا خیال تھا اور اس کو تیار ہونے میں کتنا عرصہ لگا ؟
جواب: کینیڈا میں مقیم میرے دوست اصغر مہدی اشعر صاحب کی محنت ہے جو کہ خود بھی بہت عمدہ تحت اللفظ خواں ہیں.
یہ ویب سائٹ ایک عظیم خدمت ہے جس پر 3000 سے زیادہ مرثیے پی ڈی ایف فارمیٹ پر موجود ہیں اور اس کے علاوہ فروغِ مرثیہ کے نام سے فیس بک پیج بھی خدمات انجام دے رہا ہے جس پر 5000 سے زیادہ ممبرز موجود ہیں.
سوال _ کیا اس سلسلے میں قارئین کی طرف سے آپکو خاطر خواہ حوصلہ افزائی ملی؟
جواب _جی ہاں بالکل، آج کل سب موثر میڈیم سوشل میڈیا ہے اور مرثیہ کی مجالس کی تحریک بھی اس میڈیا پر زور و شور سے جاری ہے.
سب سے اہم بات یہ ہے کہ پوری دنیا میں پھیلے ہوئے رثائی ادب کے رسیا ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوگئے ہیں اور اپنے اپنے طریقے سے اضافے کر رہے ہیں.
فیس بک کا فروغِ مرثیہ پیج جو کہ کینیڈا سے اصغر مہدی اشعر اور احباب چلا رہے ہیں.
فیس بک کا سوز، سلام و مرثیہ پیج جو کہ لندن سے سید ذیشان زیدی چلا رہے ہیں.
سوزخوانی ان جرمنی پیج جو کہ جرمنی سے علی زیدی چلا رہے ہیں.
عبّاس نقوی صاحب نے رثائی ادب سے متعلق انٹرویوز کا سلسلہ تحریر کی صورت میں جاری رکھا ہوا ہے نیز کتابوں پر تجزیہ لکھ رہے ہیں.
آپ نے بھی خود ماشا اللہ
کافی انٹرویوز و کتابوں پر تبصرے لکھے ہیں.
سید سلمان رضوی بھی اپنے پیج پر غضب کے مضامین لکھ رہے ہیں.
نوید حیدر صاحب و پروفیسر نجمی بھی تحاریر لکھ رہے ہیں.
پاکستان و ہندستان سے کتابوں اور مرثیہ کی مجالس و مضامین کا سلسلہ جاری ہے.
یعنی ایک پوری بزم آباد ہے جس پر اکیاون ہزار سے زیادہ پڑھنے والے موجود ہیں.
سوال _ جس طرح آپ نے اساتذہ کا کلام پڑھا اور بزرگوں سے رہنمائی لی ۔۔کیا آپ نے خود بھی کچھ شاگرد تیار کئے ہیں جو اس فن کو جاری رکھیں اور کیا نئی نسل میں اس کی دلچسپی نظر آتی ہے ؟
جواب: باقاعدہ شاگرد تو نہیں ہیں ہاں بہت سے مرثیہ کے انتخاب و پڑھت کے حوالے سے مشاورت کر لیتے ہیں خاص طور پر تلفظ کے مباحث ہوتے رہتے ہیں.
میرے فرزندان مصطفیٰ اور عبّاس مجھے دیکھ دیکھ کر اور سن سن کر مرثیے پڑھنے لگے ہیں اور مجھے مجلس سے پہلے سنا بھی دیتے ہیں.
سوال_ کیا اب بھی تحت اللفظ مرثیے کی محافل میں لوگ سننے کے لئے اسی طرح تعداد میں نظر آتے ہیں جیسے ذاکرین کو سننے جاتے ہیں؟
جواب: جی حیرت انگیز بات ہے کہ دن بدن سننے والوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کا ثبوت مرثیہ کے مجالس میں اضافہ ہے.
شاید اجکل جتنی مجالس محرم کے علاوہ مرثیہ کی ہورہی ہیں اتنی کبھی بھی نہیں ہوتی تھیں.
سوال- مرثیئے کا اصل جوہر کسے کہیں گے ۔۔ ندرتِ کلام انداز بیان یا شوکت الفاظ ؟
جواب: مرثیہ کا اصل جوھَر مرثیہ کی زبان و بیان اور گوشہِ مصائب ہیں. میری رائے میں مصائب نہیں تو مرثیہ نہیں، چاہے مرثیہ میں شاعر نے کتنی بھی فنکاری دکھائی ہو..
سوال_ انشا اللہ مستقبل قریب میں آپ کے تحقیقی کام یا زیر تصنیف کتابوں میں سے کچھ ہوں تو ہماری معلومات میں اضافہ کیجئے۔۔
مزید یہ کہ اسی سلسلے کو جاری رکھنے کے لئے کیا کرنے کے خواہشمند ہیں؟
جواب: جیسا کہ میں نے ذکر کیا کہ میرا ڈریم پروجیکٹ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے یعنی بستہ تحت اللفظ مرثیہ خوانی پھر مرزا دبیر پر کتاب دبیریات بھی پریس میں ہے اور اس کے علاوہ میرے استاد کا رثائی سرمایہ پھر میرے مضامین کا دوسرا مجموعہ غرض کافی کچھ ہے جو زیرِ تکمیل ہے.۔۔
سوال _ آپ کی تحقیقی تصانیف و مقالے اب تک کہاں کہاں شائع ہوئے ہیں اور کتنے مضامین کتابی شکل میں موجود ہیں؟
ج_
تصنیفات و تالیفات:
پہلی تصنیف – تحت اللفظ خوانی، ایک فنی مطالعہ – 2013
دوسری کتاب: ترتیب کاروں میں شامل – شعریات علامہ طالب جوہری (علامہ طالب جوہری پر لکھے گئے مضامین کا مجموعہ)
تیسری کتاب : جوھَر شناسی (مولانا محمد مصطفیٰ جوھَر پر لکھے گئے شخصی مراثی و مضامین کا مجموعہ)
چوتھی کتاب : رثائیاتِ علامہ طالب جوہری
پانچویں کتاب: اردو مرثیہ اور تحت خوانی کا فن (رثائی ادب پر لکھے گئے مضامین کا مجموعہ)
چھٹی کتاب: دبیریات (مرزا دبیر کا منتخب کلام و ان پر لکھے گئے مضامین کا مجموعہ)
ساتویں کتاب: بستہِ تحت اللفظ خوانی (مجالسِ مرثیہ تحت اللفظ خوانی کی ذاکری کے لئے منتخب مرثیوں کا مجموعہ)
زیرِ ترتیب کتابیں:
آٹھویں کتاب: رثاء جاوداں (سید جاوید حسن کا رثائی سرمایہ)
نویں کتاب: دو تاریخی نظمیں (ذاکر سے خطاب و گنبد کی صدا)
دسویں کتاب: اردو مرثیہ و تحت اللفظ خوانی کا فن (مضامین کا مجموعہ)
سوال _ ماشا اللہ یہ تو خاصہ توجہ طلب کام ہے جو آپ کر رہے ہیں ۔۔
آخر میں سننے والوں اور نئے سیکھنے والوں کو کیا پیغام دینا چاہیں گے ؟
جواب: تمام پڑھنے والوں سے دست بستہ درخواست ہے بغیر تیاری کے مرثیہ نہیں پڑھیں. مرثیہ خونِ جگر مانگتا ہے اور مرثیہ سے پہلے تیاری و مشق بہت ضروری ہے.
سننے والوں کے لئے بہت داد و تحسین ہے کہ وہ دلچسپی لے رہے ہیں اور دعا ہے کہ اسی طرح فروغِ عزاداری و مرثیہ میں حصہ لیتے رہیں.۔۔
قارئین کرام روایات میں ہے کہ بعد از واقعہ کربلا امام زین العابدین فرزند امام حسین علیہ السلام بصد فرمائش شعراء سے اس واقعہ کو منظوم صورت میں سنتے تو گریہ کرتے اور انہیں بہت دعائیں دیا کرتے تھے ۔۔ کچھ عجب نہیں کہ آج بھی مرثیے سے دلی عقیدت رکھنے والے محبان آل محمد ذاکرین و خطیب خواتین و حضرات ان عزت مآب ہستیوں کی نظر میں بھی محترم و قابل ذکر ہوں ۔۔ہم دعا گو ہیں کہ یہ سلسلہ جاری رہے اور اس میں سرگرم افراد اپنے نیک ارادوں کو مکمل کرسکیں ۔عالمی اخبار آپکی شرکت کے لیئے سپاس گزار ہے۔
روما_رضوی
عالمی_اخبار













