حُسین شناسی کا سفر۔17۔ طویل عزائی نظم ، ڈاکٹر نگہت نسیم

0
876

سترہویں قسط

ابن زیاد نے
ابن سعد کو
رے کی حکومت کا لالچ دے کر بلا بھیجا
تیسری محرم اکسٹھ ہجری کو
ابن سعد
چار ہزار فوج کے ساتھ نینوا پہنچا
اور ۔۔ عزرہ بن قیس احمسی کو
حضرت حسین علیہ السلام کے پاس جانے کو کہا
اور یہ جاننے کو کہا
کہ
“ وہ یہاں کیوں آئے ہیں ؟
اور۔۔ کیا چاہتے ہیں “
لیکن ۔۔ عزرہ ان لوگوں میں سے تھا
جنہوں نے امام عالی مقام کو بلانے کے خطوط لکھے تھے
اس کے انکار پر
دوسرے لوگوں کے سامنے یہ خدمت پیش کی گئی
لیکن مشکل یہ ہوئی
کہ
جس کا نام لیا جاتا
وہ امام عالی مقام کے بلانے والوں میں نکلتا
اس لئے ان سے پوچھنے کو کوئی آمادہ نہ تھا
آخر میں
کثیر بن عبداللہ شعبی نے کھڑے ہوکر کہا
کہ
“ میں جاؤں گا۔۔
اورجو بھی کچھ پوچھنا ہو تو وہ بھی پوچھ لونگا “
ابن سعد نے کہا
“ نہیں میں اورکچھ نہیں چاہتا ۔۔
ان سے جاکر صرف اتنا پوچھو
کہ
وہ کس لئے آئے ہیں؟ “
چنانچہ کثیر یہ پیام لیکر گیا
ابو ثمامہ صائدی نے
حضرت حسین علیہ السلام کو اطلاع دی
کہ
“ ابو عبداللہ!
آپ کے پاس روئے زمین کا
شریر ترین اورخونریز ترین شخص آرہا ہے“
پھر کثیر بن عبداللہ سے کہا
کہ
“اپنی تلوار علیحدہ رکھ کر امام وقت سےملاقات کرو“
کثیر نے جواب دیا
“خدا کی قسم
یہ کسی طرح نہیں ہوسکتا کہ میں انہیں تکلیف پہنچاؤں
میں قاصد ہوں ۔۔ پیام لایا ہوں
اگر تم سننا چاہو تو پیام پہنچادوں گا
ورنہ واپس چلاجاؤں گا“
ابوثمامہ نے کہا
اچھا اگر تلوار نہیں رکھتے
تو
میں تمہاری تلوار کے قبضہ پر ہاتھ رکھے رہوں گا
تم جتنی دیر چاہے امام عالی مقام کے ساتھ گفتگو کرلینا“
کثیر نے کہا
یہ بھی نہیں ہوسکتا ۔۔
تم تلوار کا قبضہ بھی نہیں چھوسکتے“
ابو ثمامہ نے کہا
“اچھا تم مجھے پیام بتادو
میں جاکر امام حسین علیہ السلام کو پہنچادوں گا“
کثیر اس پر بھی آمادہ نہ ہوا
اور ۔۔۔ بلا پیام پہنچائے ہوئےواپس لوٹ گیا
اس کی واپسی کے بعد
ابن سعد نے قرہ بن سعد حنظلی کو بھیجا
یہ سنجیدہ اورسلجھے ہوئے آدمی تھے
انہوں نے سلام کے بعد ابن سعد کا پیام پہنچایا
امام عالی مقام نے جواب دیا
کہ
“تمہارے شہر والوں نےمجھے خطوط لکھ کر بلایا ہے
اب اگر تم لوگ میرا آنا ناپسند کرتے ہو تو میں لوٹ جاؤں “
قرہ نے جاکر ابن سعد کو یہ جواب سنادیا
جواب سن کر
اس نے اطمینان کی سانس لی اورکہا
امید ہے
کہ
اب خدا مجھ کو
امام حسین ع کے ساتھ جنگ کرنے سے بچالے گا
اس نے اپنا سوال اور امام وقت کا جواب
ابن زیاد کو لکھ کر بھیج دیا
لیکن
کاتب ازل
ابن زیاد کا نامہ اعمال سیاہ کرچکا تھا
اس نے صلح و مصالحت کی روش اختیار نہ کی
اور۔۔ ابن سعد کو جواب لکھا

جاری ہے

SHARE

LEAVE A REPLY