کبھی کبھی لوگ آپس میں ایسے برتاؤ کرتے ہیں جو ہمارے عقائد کے خلاف ہوتے ہیں۔ اور ہم ان کے ایک یا دو طرز عمل کی بنیاد پر ان کے غلط اور درست ہونے کا فیصلہ بھی دے دیتے ہیں جس سے ان کے جذبات ، غصے ، تنقید اور الجھن سے بھر جاتے ہیں ۔ غلطی تو کسی سے بھی ہو سکتی ہے ۔۔ لیکن لوگ غلطی کرنے والوں پر فورا ذہنی یا زبانی حملہ کردیتے ہیں اور اپنے منفی رویوں سے انہیں مزید منفیت کی طرف دھکیل دیتے ہیں ۔
مثال کے طور پر جب کوئی ناکام ہوجاتا ہے ، غلطی کرتا ہے یا کم کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے تو وہ پہلے ہی سے منفی انرجی کے زیر اثر ہوتا ہے ۔۔اس وقت آپ کی تنقید انہیں خود پر توجہ نہیں کرنے دیتی بلکہ منفیت کی انرجی ان کے گرد اپنا گھیرا مزید تنگ کرتی جاتی ہے ۔ ۔ ہم ان کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جیسے وہ برے اور غلط انسان ہوں ۔ سچ یہ ہے کہ ان کا عمل غلط تھا لیکن وہ خود شاندار لوگ ہیں ۔ کیونکہ غلطی کسی سے بھی کہیں پر بھی ہو سکتی ہے۔
اکثر غلط کرنے والا جانتا ہوتا ہے کہ کیا صحیح اور کیا برا ہے ، لیکن بعض اوقات اس میں طاقت نہیں ہوتی کہ وہ کیا کریں جو صحیح ہو۔ایسے میں ہمارا کردار یہ ہنا چاہیئے کہ ان کو مزید تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے انہیں بااختیار بنا یئں ۔ کیونکہ احترام ، صحیح خیالات اور مثبت انرجی (جذبات اور توجہ ) کی توانائی ان میں نظم و ضبط پیدا کرے گی اور انہیں تبدیل کرنے کی طاقت دے گی ۔ وہ ہمارے مثبت ، طاقتور خیال و جذبات کی وجہ سے مکمل طور پر بدل جائیں گے۔
دوستو !
لوگوں کو قبول کریں ، ان کی خوبیوں کی تعریف کریں اور احترام کے ساتھ ان کی کمی کوتاہی کے بارے میں بتایئے اور کہیئے کہ انہیں صرف ایک تبدیلی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
اعتماد اور احترام کے خوبصورت رشتوں کے لیے ، ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر فرد اپنی پوری کوشش کر رہا ہے ، سخت محنت کر رہا ہے اور اپنا 100٪ دے رہا ہے۔ بعض اوقات وہ اپنے رویے یا اپنے کام میں درست نہیں ہوتے اور وہ غلطیاں کرتے ہیں۔ انہیں احترام اور تبدیلی کی توانائی کے ساتھ نظم و ضبط دیں اور ان کے رویے یا عمل کو صرف ایک واقعہ ، ایک بدقسمت واقعہ کے طور پر دیکھیں۔ یہ اس کی عکاسی نہیں ہے کہ وہ کون ہیں۔ یہ ان کی صلاحیت یا شخصیت کا پیمانہ نہیں ہے۔ اس ایک مثال ، عمل یا واقعہ کو بھلا کر سوچیئے ۔
کسی فرد کے صرف ایک تکلیف دہ عمل کو اس فرد سے الگ کر نا ہماری زمیداری ہے ۔ تکلیف یا غصہ پیدا نہ کریں۔۔۔ بلکہ اس فرد سے اس کی غلطی کے بارے میں بات کریں ، اس شخص پر تنقید نہ کریں ، اس کے عمل یا رویے کے بارے میں اسے رائے دیں اور غلطی پر اسے معاف کردیں۔ آپ کے مثبت تاثرات اور رویئے ان کو سنورنے کا موقع دیں گے اور انہیں درست ہونے ، بڑھنے اور تبدیل ہونے میں رہنمائی کریں۔
جب آپ ایک دوسرے کو غلط سمجھنا ، تنقید کرنا اور لیبل لگانا چھوڑ دیتے ہیں تو آپ کی ہمدردی کی توانائی آپس میں مضبوط تعلقات استوار کرتی ہے۔
ڈاکٹر نگہت نسیم














بہت بہت اعلی مضمون۔ آج کے وقت کی اہم ضرورت ہے ایسی موٹیویشن۔